
“وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک اور وعدہ ہوا پورا”

پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح اب راولپنڈی میں بھی الیکٹرک بس سروس کا آغاز , راولپنڈی کے عوام اب
صرف 20 روپے میں معیاری سفری سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے۔
#راولپنڈی_میں_الیکٹرک_ب
==============================
ایل جی بی ٹی کیو پر آواز اٹھانے والے بچہ بازی پر خاموش ہیں، نادیہ جمیل
سینئر اداکارہ نادیہ جمیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں بہت سارے افراد ’لیزبین، گے، بائی سیکسوئل، ٹرانس جینڈرز‘ (ایل جی بی ٹی کیو) کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن کوئی بھی ملک میں جاری ’بچہ بازی‘ پر بات نہیں کرتا۔
نادیہ جمیل کی جانب سے نوجوان لڑکیوں کے گروپ سے خطاب کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہوں نے معاشرے کے تلخ حقائق پر گفتگو کی۔
اداکارہ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک صحافی نے خفیہ کیمرے کے ساتھ لاہور سمیت دیگر شہروں میں بچوں کے 9 جسم فروشی کے اڈے ڈھونڈ نکالے، جہاں 7 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی جسم فروشی جاری تھی۔
انہوں نے بتایا کہ صحافی نے خفیہ کیمرے کے ذریعے بچوں کے جسم فروشی کے اڈوں کی ویڈیو بھی بنائی، جس میں کم عمر بچوں کو دیکھ کر ان کا دل دہل گیا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اسکولوں، گھروں، تعلیمی اداروں سمیت دیگر مقامات پر کم عمر لڑکوں کا استحصال جاری ہے اور اس پر کوئی بولنے کو تیار نہیں۔
نادیہ جمیل نے کہا کہ خصوصی طور پر ٹرک اڈوں پر بچہ بازی کا رجحان زیادہ ہے، ایسے مقامات پر کم عمر بچوں کو جنسی استحصال جاری ہے اور کوئی بھی اس پر بولنے کو تیار نہیں۔
اداکارہ کے مطابق کوئلے کی کانوں سے لے کر کام کی دیگر جگہوں پر کم عمر بچوں کا جنسی استحصال جاری ہے لیکن کوئی بھی ایسے عمل کے خلاف نہیں بولتا۔
انہوں نے کہا کہ جنسی استحصال کا شکار بننے والے بچے سے پوچھیں تو وہ یہی کہتا ہے کہ وہ بڑا ہوکر ٹرک ڈرائیور بنے گا، کیوں کہ ڈرائیور ایک ہی ہوتا ہے اور اسے ایک ہی لڑکا درکار ہوتا ہے لیکن کوئلے کی کانوں اور فیکٹریوں میں بہت سارے مرد ہوتے ہیں اور لڑکوں کو مختلف مردوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔
نادیہ جمیل بچہ بازی پر بات کرتے ہوئے جذباتی بھی ہوگئیں اور کہا کہ ہم سب نے مذکورہ عمل کو عام فہم قرار دے رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اس پر ہم کیا کر سکتے ہیں؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم بچہ بازی کے عمل کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تو باقی اعمال کے خلاف کیوں آواز اٹھاتے ہیں؟
انہوں نے دلیل دی کہ ہم باقی مسائل پر بھی آواز اٹھاتے ہیں جب کہ بہت سارے لوگ ایل جی بی ٹی کیو سمیت اسی طرح کے دیگر مسائل پر بھی بات کرتے ہیں لیکن بچہ بازی پر کچھ نہیں بولتے۔























