
کراچی19 نومبر۔وزیر جامعات و تعلیمی بورڈ سندھ، محمد اسماعیل راہو نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کو رکاوٹ قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے. انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کا مطالبہ سندھ کی وحدت پر حملہ ہے، جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ راہو نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے بیانات غیر سنجیدہ، اشتعال انگیز اور صوبے کے عوام کی خواہشات کے خلاف ہیں.محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم وفاق کو مضبوط اور صوبوں کو بااختیار بنانے کا تاریخی فیصلہ ہے، جبکہ 18ویں ترمیم عوام کے بنیادی حقوق کا آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے اور اسے رول بیک کرنے کی باتیں عوام دشمنی کے سوا کچھ نہیں ہیں. محمد اسماعیل راہو نے مصطفیٰ کمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیےکہ ذمہ دارانہ گفتگو کریں، کیونکہ اٹھارویں ترمیم نے نہ صرف صوبوں کو مضبوط کیا بلکہ وفاقی ڈھانچے کو بھی مستحکم کیا ہے. وزیر جامعات نے کہا کہ ایم کیو ایم کی نفرت، تقسیم اور تصادم پر مبنی سیاست اسے مزید محدود کر دے گی، اور عوام اب ایسی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔ شہری اب کارکردگی اور خدمت کو ترجیح دیتے ہیں، نہ کہ لسانی اور تقسیم کی سیاست کو. محمد اسماعیل راہو نے سوال اٹھایا کہ مصطفیٰ کمال، جو اس وقت وفاقی وزیر ہیں اور ان کی جماعت مرکزی حکومت میں شریک ہے، پہلے بتائیں کہ سندھ کی عوام کے لیے کون سے نئے منصوبے لائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کراچی کے مسائل پر دہائیوں سے بات کرنے والے وفاقی حکومت کے کئی دہائیوں سے التوا کا شکار منصوبے کیوں مکمل نہیں کرا سکے























