
انوار الحق کو وزارت عظمی سے ہٹا کر گھر بھیجنے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے نئی حکومت سازی کے حوالے سے جو حکمت عملی وضع کی ہے اسے ایک منفرد اور حیران کن سیاسی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے نون لیگ نے ایک وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں تو ساتھ دیا لیکن دوسرے وزیراعظم کی حکومت سازی کے وقت وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اسے ایک منفرد حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت اگلا الیکشن زیادہ دلچسپ ہو جائے گا اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگلے الیکشن میں دو پارٹیاں میدان میں رہ جائیں گی یہی اس سیاسی حکمت عملی کا بنیادی مقصد اور ہدف ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی جس کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا فی الحال اس کی حمایت نئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے ساتھ ہے جن کا تعلق ایک تجربہ کار اور مشہور سیاسی خانوادے سے ہے ان کے والد کو بھی کافی مقبولیت حاصل رہی ہے لیکن اس مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سینیئر پارٹی قیادت کو نظر انداز کر کے جوان خون کو اگے بڑھایا ہے اور ازاد کشمیر کی سیاست میں جو ایک جمود طاری ہو گیا تھا وہ ٹوٹ گیا ہے اور ہزاروں افراد نئے نئے وزیراعظم کی امد کے موقع پر عوان وزیراعظم اور اسمبلی کی طرف رخ کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی سرگرمی میں تیزی ائے گی اور پیپلز پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوگا عوامی ایکشن کمیٹی
کے ساتھ بہتر تعلقات صرف فیصل ممتاز راٹھور کے تھے جس کا ان کو فائدہ ہوا اور انہوں نے فیصلہ کون اور نتیجہ خیز مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں ان کو وزارت عظمی کا امیدوار بنا کر سامنے لایا گیا حالانکہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے رہے کہ چوہدری یاسین کو وزیراعظم بنایا جائے گا اور پیپلز پارٹی کی قیادت ان پر اعتماد بھی کرتی رہی لیکن اخری وقت میں یہ فیصلہ ہوا کہ فیصل انداز راٹھور وزیراعظم ہوں گے اور اج ان کی حلبرداری مظفراباد میں ہوگی ہیلو برداری میں شرکت کے لیے پیپلز پارٹی کی رہنما اور صدر اصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور خصوصی طور پر مظفراباد پہنچ چکی ہیں اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی شرکت بھی متوقع ہے نئے وزیراعظم فیصل راٹھور نے ایوان سے خطاب میں ایکشن کمیٹی کو حقیقت قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے کچھ معاملات جائز اور کچھ خواہشات پر مبنی ہیں یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم ازاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تھی انہوں نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران حقائق ریکارڈ پر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ سب کچھ کا ذمہ دار میں اکیلا نہیں ہوں
جبکہ جواب میں یہ کہا گیا کہ اپ اکیلے ذمہ دار نہیں تھے لیکن اپ کا قلم بہت دیر سے فیصلے کرتا تھا انوار الحق کی کابینہ کا وزیر رہنے والے فیصل ممتاز راٹھور کو وزارت عظمی کے لیے 36 ووٹ ملے ہیں مخالفت میں صرف دو ووٹ ائے ہیں پیپلز پارٹی نے عدم اعتماد کے لیے 38 ارکان کی حمایت کا دعوی کیا تھا نون لیگ کی جانب سے رانا ثنا اللہ خان نے پہلے ہی قمرزمہ کارہ کے ساتھ کھڑے ہو کر بتا دیا تھا کہ نون لیگ حکومت کی تبدیلی میں ساتھ دے گی لیکن نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کرے گی مسلم لیگ نون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی نظریں نئے الیکشن پر ہیں اور وہ الیکشن کا انتظار کرے گی اور الیکشن میں اپنی حکومت سازی کے لیے پورا زور لگائے گی جب کہ پیپلز پارٹی کے ذریعے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہے اور وہ
عوامی ایکشن کمیٹی کا اعتماد بھی رکھتے ہیں اس لیے اگلے الیکشن میں وہ خود فیورٹ ہوں گے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے نہیں ہے لیکن اس کی حمایت اہم کردار ادا کرے گی دیکھنا ہوگا کہ نئے وزیراعظم فیصل راٹھور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر کتنا عمل درامد کرا پاتے ہیں اور مطالبات پر عمل نہیں کرتے اور پھر نئے الیکشن کے وقت عوامی ایکشن کمیٹی کا موڈ کیا ہوگا وہ فیصل راٹھور کے ساتھ رہے گی یا وہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گی یہ تو طے تھا کہ حکومت نے جانا ہے اور سب کو معلوم تھا کہ انوار الحق کا وقت پورا ہو گیا ہے اور خود انوار الحق کو بھی پتہ تھا کہ اب ان کے گھر جانے کا وقت اگیا ہے لہذا وہ جانے کے لیے تیار تھے اسلام اباد میں ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ تاخیر 27 ترمیم کی منظوری کے مرحلے کی وجہ سے ہوئی اگر 27 ویں ترمیم پہلے ہو چکی ہوتی تو
انوار الحق پہلے گھر چلے جاتے لیکن ان کو 27ویں ترمیم کی وجہ سے مزید وقت مل گیا تھا لیکن نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا اور انوار الحق کو گھر جانا تھا اور وہ گھر جا چکے اور ان کی جگہ فیصل راٹھور نئے وزیراعظم بن چکے
By Salik Majeed editor jeeveypakistan.com Karachi.

Load/Hide Comments























