’’نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشت ِویراں سے، اُمید، محنت اور قوم کی صلاحیت پر یقین‘‘

شاعر مشرق اور مصور پاکستان علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اُن کے پیغام کا اعادہ کرنے کے لیے یوم اقبال ۹۔نومبر کی مناسبت سے ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کی تقریب ’’نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشت ِویراں سے، اُمید، محنت اور قوم کی صلاحیت پر یقین‘‘ کے موضوع پر گزشتہ روز بیت الحکمہ آڈیٹوریم مدینۃ الحکمہ میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد(ہلال امتیاز) کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ اجلاس کی مہمان خصوصی معروف شاعرہ اور مصنفہ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبرصاحبہ تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی فکر و فلسفہ اور لازوال کلام کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے روشن راستہ متعین کیا۔ اُن کے خواب، اُن کی سوچ اور اُن کا پیغام آج بھی ہماری رہنمائی کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کےنزدیک تعلیم اقوام کی کام یابی کی بنیاد ہے۔ وہ بارہا کہتے تھے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔یہ امر آج کی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی کام یابی کا راز تعلیم، نظم و ضبط، اخلاق اور اعلیٰ شعورمیں پوشیدہ ہے۔ہمیں علامہ اقبال کے بتائے ہوئے انہی اصولوں پر کاربند ہوگا۔ نونہالان وطن کو علامہ اقبال کے فلسفے’خودی‘ کو اپنانا ہوگا ، یعنی اپنی صلاحیتوں پر یقین، اپنے مقصد سے وفاداری اور دنیا کے سامنے سر اُٹھا کر جینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔آج کے نوجوان کے لیے یہ پیغام پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبرنے کہاکہ پر اعتماد اور باشعور نونہال ہی پاکستان کے روشن و درخشاں مستقبل کی نوید ہیں۔ شاعر مشرق حکیم الامت نے اپنے کلام کے ذریعے نونہالوں اورنوجوانوں کو منتخب کیا۔ عظیم لوگ صاحب بصیرت اور اہل فکر و نظر ہوتے ہیں اسی لیے وہ مستقبل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہی کام شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو کسی چمن کی طرح سینچنا پڑتا ہے، ذہنی آبیاری کرنی پڑتی ہے تب جاکر ریاستیں عظیم مملکت میں ڈھلتی ہیں۔ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانان برصغیر میں مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ اُن کے ہم عصر شعراء کے کلام اور ادباء کی تحاریر میں مایوسی کا پہلو واضح تھا۔ تاہم اپنی قوم کے لیےفکر مند مدبرِ ملّت علامہ اقبال نےمشکل وقت میں مسلمانوں میں اُمید پیدا کی۔ ہم پر واضح کیا کہ ہماری طاقت روحانیت ہے۔ہم پر علم کی حقیقت اور خودی کی اہمیت آشکار کی۔ہمیں سمجھایاکہ ہر مقصد کا حصول کٹھن ہوتا ہے جس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ، علم حاصل کرنا ہوتا ہے پھر جا کے اُس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں سے خود کو منواسکیں۔
نونہال مقررین قائد ایوان عائشہ فواد (ہمدرد پبلک اسکول)، قایم مقام قائد حزب اختلاف جائشہ احمر(ہمدرد پبلک اسکول)، علیزہ ندیم(اوسس گرامر اسکول)، اقصیٰ بلوچ(مسلم پبلک ہائی اسکول)، تسبیحہ ناصر (جی سی ٹی ہلال اسکول) اور لائبہ رضا (ہمدرد ولیج اسکول) نے بھی خطاب کیا۔
اُنہوں نے علامہ اقبال کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُنہیں اُمید کا شاعر قرار دیا اور کہاکہ ہم اقبال کے نوجوان اور شہید حکیم محمد سعید کے نونہال معمارِ پاکستان بن کر ملک کو بلندیوں پر لے جائیں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔علامہ اقبال کے تصور، مرد آہن کی عملی تصویر شہید حکیم محمد سعید ہیں ، جنہوںنے اپنی قوت ارادی اور حوصلے سے مدینۃ الحکمہ جیسا شہر علم و حکمت بنایا۔ تقریب میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان ، اساتذ ہ کرام اور مختلف اسکولوں کے بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ۔