آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے

آزاد جموں و کشمیر کے سینئر پارلیمنٹیرین اور وزیرِ تعلیم دیوان علی چغتائی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے یہ اعلان اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں انچارج سیاسی امور آزاد کشمیر فریال تالپور سے ملاقات کے دوران کیا۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری محمد ریاض، سرکاری وزیر ضیاءالقمَر اور سرکاری مشیر سردار احمد صغیر بھی موجود تھے۔

فریال تالپور نے دیوان علی چغتائی کا پارٹی میں خیرمقدم کیا۔

دیوان علی چغتائی نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر بھر میں ترقی، مساوات اور عوامی بااختیاریت کے مشن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ ان دنوں آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت گرم ہے، وزیر اعظم انوار الحق چوہدری کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ نے مشترکہ طور پر فیصل ممتاز راٹھور کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کر رکھا ہے۔

=====================

پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف آرٹیکل کو کردارکشی قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی سے متعلق برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے آرٹیکل کو بے بنیاد، جھوٹ پر مبنی اور کردار کشی کی ایک سوچی سمجھی مہم قرار دے دیا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، ایسے گھناؤنے الزامات پر مبنی آرٹیکل شائع کرنا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے جس کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے، ہم اس آرٹیکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے اور وقت ثابت کرے گا کہ یہ تمام دعوے جھوٹ، بدگمانی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ دی اکانومسٹ کا آرٹیکل واضح طور پراسپانسرڈ ہے اور اس میں پیش کی گئی کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس سے قبل بھی عدت سے متعلق بے بنیاد الزامات گھڑے گئے جن سے بشریٰ بی بی باعزت بری ہوئیں اوراب نئے الزامات گھڑ کراسی کردار کشی کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے بشریٰ بی بی کوانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ بہادری اور ہمت کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے سرکاری فیصلوں پر ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کا دعویٰ کیا ہے، اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری فیصلوں میں مداخلت ہوتی تھی، اس ضمن میں جریدے کے صحافی اوون بینیٹ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں میں اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں اور عمران خان کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا رنگ نظر آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان اور فوج کے تعلقات 2021ء میں خراب ہونا شروع ہوئے، جب انہوں نے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی پر حمایت سے انکار کیا، اس دوران عمران خان فرح گوگی پر اعتماد کرنے لگے جو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر اثرانداز تھیں، فرح گوگی نے وزیر اعظم تک رسائی حاصل کی اور بعض الزامات کے مطابق حکومتی عہدوں پر تقرریوں اور کنٹریکٹس پر بھی اثرانداز ہوئیں۔