خواجہ آصف کو صرف مساجد اور مدارس غیر قانونی نظر ا ٓرہے ہیں ،کیا ان کو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور مارکیٹیں نظر نہیں آرہیں

۔مولانا عطاالرحمن نے گزشتہ روز سینٹ میں خواجہ آصف کے مساجد اور مدارس سے متعلق ا بیان پر شدید تنقید کی، انہوں نے کہا کیا خواجہ آصف کو صرف مساجد اور مدارس غیر قانونی نظر ا ٓرہے ہیں ،کیا ان کو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور مارکیٹیں نظر نہیں آرہیں، انہوں نے کہاستائیسویں آئینی ترمیم کی اتنی جلدی کیا تھی لوگوں کو ان کا مطالعہ تو کرنے دیتے، انہوں نے کہا کہایک جنڈر بل آ رہا ہے، اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لی جائے،
سنیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم عجلت میں لائی گئی، جنرلوں کی بھیجی ترمیم من وعن منظور کرنا مناسب نہیں۔ سینیٹ اجلاس میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے مساجد و مدارس سے متعلق بیانات قابلِ افسوس ہیں۔
مسجد ایک بار قائم ہو جائے تو شریعت میں اسے گرایا نہیں جاتا۔ خواجہ آصف کو صرف مساجد غیر قانونی نظر آتی ہیں، سوسائٹیاں اور مارکیٹیں نہیں؟ غیر قانونی سوسائٹیز اور مارکیٹوں پر خاموشی، مساجد پر اعتراض کیوں؟ ستائیسویں آئینی ترمیم عجلت میں لائی گئی، کسی کو متن تک معلوم نہیں۔ مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ارکانِ ایوان بغیر مطالعہ ترمیمات کی منظوری دے رہے ہیں، جنرلوں کی بھیجی ہوئی ہر ترمیم من و عن منظور کرنا مناسب نہیں۔
قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہ کرنے کا وعدہ کہاں گیا؟ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی نامناسب ہے، جینڈر بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے۔ قانون سازی میں جلد بازی سے ایوان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ مولانا عطا الرحمان نے خواجہ آصف کو طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ زبان کھولنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔
مزید برآں رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ اختر علی نے وزیردفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بے شمار لوگ آئے اور گئے، لیکن مدارس اور مساجد کل بھی قائم تھیں، آج بھی قائم ہیں، اور قیامت تک قائم و دائم رہیں گی۔ اور اگر کسی کو محراب و منبر کی اہمیت سمجھنی ہے تو علمائے کرام سے سمجھ لے۔ اس طرح کے متنازع بیانات کس کے اشارے پر دیے جا رہے ہیں؟
مزید برآں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ شعر اس وقت یاد نہ آئے جب انصاف کا قتل عام ہو رہا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ججوں کا ایک ٹولہ مل کر آئین اور قانون کے محافظ کے بجائے کسی کے سیاسی مفادات کے محافظ بنے ہوئے تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ججز سیاسی پارٹی کے ورکر بنے تھے، یہ شعر لکھنے سے پہلے اپنا ماضی یاد کر لیتے تو شاید کوئی شرم کوئی حیا آجاتی۔اپنے ایک دوسرے ٹوئٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے اور اسمبلی توڑنے والے ہمیں آئینی ترمیم اور قانون سازی پہ طعنہ دے رہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کے دوام کے لیے ولدیت کے خانے میں جنرل باجوہ کا نام لکھنے والے اخلاق باختہ لوگ پاک دامنی پہ لیکچر دے رہے ہیں۔
==================
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور وانا حملے کرنے والے افغانستان سے آئے، ہمارے مقامی لوگ دھماکوں میں ملوث نہیں۔
وانا میں قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کہہ چکے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اس کیڈٹ کالج وانا کو پہلے سے بہتر بنوائیں گے۔
کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے درندے ہیں، ان کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، محسن نقوی
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرحد پار سے دہشتگردی ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں دھماکا ہوا افغانستان سے لوگ آئے۔ وانا میں حملہ ہوا تو افغانستان سے لوگ آئے۔ ہمارے مقامی لوگ دھماکوں میں ملوث نہیں۔
اس دوران قبائلی عمائدین نے کہا کہ دہشت گرد اسلام کے مخالف کام کر رہے ہیں، ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے۔
قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ ہم ٹی ٹی پی کو نہیں مانتے۔ پاک فوج دن رات ہماری حفاظت کے لیے قربانیاں دے رہی ہے، وانا کے غیرت مند لوگ کسی بھی دہشت گرد کا ساتھ نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کر رہی ہے۔























