ہٹلر کے ڈی این اے نے ان کی شخصیت کا اہم راز بے نقاب کر دیا

برطانیہ میں محققوں نے ہٹلر کے ڈی این اے کا تجزیہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں جرمنی کے نازی ڈکٹیٹر کی شخصیت کے بارے میں حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

یونیورسٹی آف باتھ کی ماہر جینیات، ٹوری کنگ، کے مطابق انہوں نے ہٹلر کے ڈی این اے کا تصدیق شدہ اور ترتیب وار تجزیہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نازی لیڈر کو ایک نایاب جینیاتی بیماری ‘کالمین سنڈروم’ کا خطرہ تھا جو بلوغت کو تاخیر میں ڈال سکتی ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہٹلر کے خون کا ایک چھوٹا سا نشان، جو اس کے بنکر میں موجود صوفے سے لیا گیا تھا، اس کے ددھیالی رشتہ دار کے ڈی این اے سے ملا کر تصدیق کی گئی۔

دستاویزی فلم “Hitler’s DNA: Blueprint of a Dictator” میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہٹلر کے جینیاتی تجزیے نے اس کی یہودی نسل سے مبینہ تعلق کی افواہیں ختم کر دی ہیں اور کچھ ذہنی صحت کے مسائل کے لیے جینیاتی رجحان کی موجودگی کو بھی اجاگر کیا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ ہٹلر میں PROK2 جین میں تبدیلی پائی گئی، جو کالمین سنڈروم اور کنجنٹل ہائپوگونڈیٹروپک ہائپوگونڈزم کی وجہ بن سکتی ہے، اور لڑکوں میں یہ بلوغت میں تاخیر اور بعض اوقات غیر معمولی حد تک چھوٹے عضو تناسل کا سبب بن سکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ہٹلر کے ممکنہ نفسیاتی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس میں شیزوفرینیا، اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کے لیے جینیاتی رجحان کی نشاندہی شامل ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج ابھی سائنسی جرائد میں شائع نہیں ہوئے اور یہ تشخیص مکمل طور پر قطعی نہیں کہی جا سکتی۔

فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہٹلر کے بنکر سے حاصل کردہ صوفے کا چھوٹا ٹکڑا امریکہ کے کولونل روزویل پی روزن گرین سے ہوتا ہوا 2014 میں نیو جرسی کے گیٹس برگ میوزیم نے خریدا۔

تحقیق کے مطابق، ہٹلر کا جینیاتی ڈیٹا اس کے مردانہ نسبتی رشتہ دار کے ڈی این اے سے مکمل میل کھاتا ہے، جس سے اس کے یہودی نسل کے دعوے کی نفی ہوتی ہے۔

ٹوری کنگ نے کہا کہ ہٹلر کے جینیاتی تجزیے سے محض اس کے رویوں یا جرائم کی وضاحت ممکن نہیں، بلکہ یہ صرف ایک پہیلی کا چھوٹا سا حصہ ہے، کیونکہ ہٹلر کے اقدامات میں سینکڑوں دیگر افراد کا کردار بھی شامل تھا۔