
27ویں ترمیم سے عدلیہ کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط ہوئی،احسن اقبال
نیوز ڈیسک
November 14, 2025
اسلام آباد:وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت میں ہم نےاپنا وعدہ پوراکر دیا ،27ویں ترمیم سے عدلیہ کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں وزارت منصوبہ بندی کی جانب سےترقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آبادی میں منصوبہ بندی کے لیے سٹیک ہولڈرز کا اجلاس کیا ہے،ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ سے ان میں شفافیت لانے میں مدد ملی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے اور عوام نےمعرکہ حق کو انٹیگریشن کے ساتھ لڑا اور کامیابی حاصل کی،آج کے دور میں کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ معاشی اور سیاسی استحکام سے ملک کی تمام اکائیوں کو محفوظ کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ افغان مہاجرین کو ہم نے 40 سال تک پناہ دی، اپنی روٹی میں شریک کیا لیکن آج افغان حکومت بھارت کے ہاتھوں میں ایک مہرہ بن چکی ہے،افغان حکومت دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دے،افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم پاکستان کی طرح افغانستان میں بھی امن کے خواہاں ہیں
==========================
وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقرری، 3 نے حلف اٹھا لیا
وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
پہلے مرحلے میں وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے حلف اٹھایا، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس باقی نجفی اور جسٹس عامرفاروق نے عہدوں کا حلف لیا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے تینوں ججز سے حلف لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر بھی حلف برداری کی تقریب میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں
جسٹس منصور اور جسٹس اطہر کے مستعفی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین نے عہدے کا حلف اٹھالیا
اس سے قبل وزارت قانون نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز ہوں گے، جس میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقرنجفی، جسٹس کےکے آغا اور بلوچستان سے جسٹس روزی خان آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور ہائیکورٹ سے جسٹس ارشد حسین شاہ آئینی عدالت کےجج ہوں گے۔
یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کے باعث سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔























