
جسٹس امین الدین نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری شریک ہوئے۔
جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت مقرر
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاک بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ سمیت اٹارنی جنرل بھی شریک ہوئے۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا کورٹ روم کہاں ہوگا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے روم نمبر 1 میں بیٹھیں گے، جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کورٹ روم نمبر 2 میں منتقل ہو جائیں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کے دیگر ججز کی تقریب حلف برداری
واضح رہے کہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین عدالت کے 6 نئی ججز سے حلف لیں گے، جس کی تیاریاں جاری ہیں
========================
سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025ء منظور
27ویں آئینی ترمیم کے بعد قوانین میں ترمیم کی ضرورت تھی، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025ء منظور
اسلام آباد(۔ 14 نومبر2025ء) سینیٹ میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کے بل منظور، سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی اور اہم قانون سازی کا عمل مکمل کیا۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد قوانین میں ترمیم کی ضرورت تھی۔ جے یو آئی (ف) کے رکن کامران مرتضیٰ نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو کمیٹی میں بھجوایا جائے، پی ٹی آئی کے رکن ہمایوں مہمند نے بھی بل کمیٹی کے بھجوانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 میں سے سیکشن 10 ڈی، 10 ای اور 10 ایف حذف کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی، سیکشن 202 میں ترمیم چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ حذف کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔
پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا۔
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہم یہاں جو سوالات کرتے ہیں ان کا جواب نہیں دیا جاتا، ہم سے تفصیلات چھپائی جاتی ہیں۔ دنیش کمار نے کہا کہ وزارت خزانہ کی ایس او ایز کے افسران کی مراعات کے حوالے سے میرا سوال تھا، جس کا صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ گریڈ 21 کے افسر کے برابر مراعات دی جا رہی ہیں۔ وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ ممبران کی سوالات کا مکمل جواب دیا جاتا ہے، اگر کہیں کوئی تشنگی رہ گئی ہے تو ہم وہ بھی دینے کو تیار ہیں، یہ معاملہ کمیٹی میں جائے گا تو ہم وہاں بھی تفصیلات دینے کو تیار ہیں۔
بلال کیانی نے بتایا کہ وزارت خزانہ سے منسلک ایس او ایز کے افسران کی تعداد 21 ہے، حکومت اہل اور قابل افسران کا ان پوسٹوں پر تقرر کرتی ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی اہل افسر نہیں ہے جو وہاں سے کسی افسر کو تعینات نہیں کیا گیا۔























