اسپیکر سردار ایاز صادق سے اسپیکر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبرکی ملاقات،پارلیمانی تعاون، قانون ساز اداروں کے درمیان روابط کے فروغ پرگفتگو

اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اسپیکر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمانی تعاون، قانون ساز اداروں کے درمیان روابط کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور پارلیمانی تعاون جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ ہمیشہ کشمیری عوام کی آواز رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔
====================

پی ٹی آئی کے کسی رکن نے آئینی ترمیم کیخلاف ووٹ نہیں کیا: سینیٹر پرویز رشید
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوئی ہے، خود پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں کیا۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درجن کے قریب جج حضرات ہیں، ہائی کورٹس کے ججز حضرات کو شامل کیا جائے تو تعداد سیکڑوں کی بن جاتی ہے، ان میں سے صرف دو جج حضرات نے اعتراض کیا ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایک اعتراض یہ ہے کہ آئین کو ختم کر دیا گیا، دوسرا اعتراض ہے سپریم کورٹ کے ٹکڑے کر دیے گئے، ان دونوں اعتراضات سے دیگر ججز اختلاف کرتے ہیں، کسی دوسرے جج نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔

جسٹس امین آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر، 27 ویں ترمیم پر تحفظات، جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللّٰہ مستعفی

ن لیگ کے سینیٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنے کام کو جاری رکھنا مناسب سمجھا ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ آئین کو نقصان پہنچا نہ ہی سپریم کورٹ کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔ صرف دو لوگوں کی کہی بات پر نہیں کہہ سکتے کہ کوئی تحریک چل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں 64 اراکین نے کھڑے ہو کر ووٹ دیا، اختلاف میں کوئی کھڑا نہیں ہوا، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو یہی کہیں گے کہ ترمیم اتفاق رائے سے کردی گئی ہے، کل جو ترمیم ہوئی اس سے صرف 3 لوگوں نے اختلاف کیا جو جے یو آئی (ف) کے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا حق پارلیمنٹ کو ہے، یہ ہمارا آئینی حق ہے، خود سپریم کورٹ کے ججز بھی آئین کی پیداوار ہیں، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا وعدہ تمام جماعتوں نے کیا تھا، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے۔

پرویز رشید نے مزید کہا کہ کیا یہ دو جج حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف وہ مقدمے سنیں گے جس میں ہمارے سامنے سرکاری اہلکار، منتخب نمائندے ہوں اور ہم ان کی تذلیل کریں، تضحیک کریں، رسوا کریں، جیلوں میں بھیجیں، نااہل قرار دے دیں۔

ن لیگی سینیٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں قتل، زمین پر قبضے، شہری سے ناانصافی کا مقدمہ نہیں سنوں گا، آپ کے یہ ذمے کام ہے کہ اعلیٰ عدالت میں بیٹھ کر ہر شہری کو انصاف دینا ہے، آپ کے ذمے یہ کام نہیں ہے کہ ٹی وی کے ٹکر بنوانے ہیں، آج فلاں کو ڈانٹ دیا، فلاں کو رسوا کیا، آپ صرف یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔