اسمبلی توڑنے والے ہمیں آئینی ترمیم اور قانون سازی پر طعنہ دے رہے ہیں، اخلاق باختہ لوگ پاک دامنی پر لیکچر دے رہے ہیں۔

ن لیگ کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسمبلی توڑنے والے ہمیں آئینی ترمیم اور قانون سازی پر طعنہ دے رہے ہیں، اخلاق باختہ لوگ پاک دامنی پر لیکچر دے رہے ہیں۔

ایکس پر جاری ایک اور بیان میں خواجہ آصف نے سابق جج سپریم کورٹ منصور علی شاہ کی جانب سے استعفے پر لکھے شعر کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ شعر اس وقت یاد نہ آیا جب انصاف کا قتل عام ہو رہا تھا، ججوں کا ایک ٹولہ مل کر سیاسی مفادات کا محافظ بنا ہوا تھا۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ یہ ججز آئین اور قانون کے بجائے کسی کے سیاسی مفادات کے محافظ تھے، سیاسی پارٹی کے ورکر بنے ہوئے تھے، شعر لکھنے سے پہلے اپنا ماضی یاد کر لیتے تو شاید کوئی شرم کوئی حیا آ جاتی

=======================

“ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے”
“آئینی ترمیم ایسی حکومت نے کی جس کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ ہے” جسٹس منصور علی شاہ کے استعفے کا متن

“ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت ..
اسلام آباد ۔ 13 نومبر2025ء) سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ “ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے، آئینی ترمیم ایسی حکومت نے کی جس کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے”۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
==========================

جسٹس امین الدین خان پہلی آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: جسٹس امین الدین خان پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف میں مشاورت مکمل ہو گئی، جسٹس امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارتِ قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر کل حلف اٹھائیں گے، حلف برداری کی تقریب صبح 10 بجے ایوان صدر میں ہوگی، حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور دیگر مہمانوں کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے، وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے، جسٹس امین الدین خان نے 30 نومبر کو عہدہ سےریٹائر ہونا تھا۔