ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ شاہد احمد چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات

ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ شاہد احمد چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات

====================

ججز کیخلاف بیانات پر ایمان مزاری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ ججز کے خلاف بیانات پر ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے حافظ احتشام کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی۔ عدالتِ عالیہ نے درخواست خارج کرنے کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا۔

نیشنل پریس کلب کے باہر 27 ستمبر کو ایمان مزاری سے منسوب تقریر کے متن کو بھی عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتار
عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق ایمان مزاری کی ججز سے متعلق تقریر حقائق کے بر خلاف اور توہینِ عدالت ہے۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق توہینِ عدالت 3 قسم کی ہوتی ہیں، سول، کریمنل اور جوڈیشل توہینِ عدالت، موجودہ درخواست عدالتی حکم عدولی نہیں بلکہ عدالت کو اسکینڈلائز کرنے سے متعلق جوڈیشل توہینِ عدالت کی ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ ایمان مزاری سے منسوب الفاظ سنی سنائی بات یا رائے سے متعلق ہیں جو آزادیٔ اظہارِ رائے کےآئینی حق میں آتے ہیں، ایمان مزاری نے اس عدالت کے کسی جج کا نام نہیں لیا، نہ ہی ٹرائل کورٹ کے کسی جج کو نام لے کر ٹارگٹ کیا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے صرف عمومی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، ایسا کوئی مواد نہیں جس سے ثابت ہو کہ ایمان مزاری نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کہا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ توہینِ عدالت کا مقدمہ صرف اسی صورت بنتا ہے جب عدلیہ کو بد نام کرنے کا واضح ارادہ ہو۔
==============================


سینئر قانون دان مخدوم علی خان لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی رکنیت سے مستعفی
سینئر قانون دان مخدوم علی خان لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔

مخدوم علی خان نے بطور رکن لاء اینڈ جسٹس کمیشن استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے اپنا استعفیٰ سربراہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن چیف جسٹس پاکستان کو بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیے
مستعفی ججز سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے کوششیں کرتے رہے ہیں، رانا ثناء اللّٰہ
سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ مستعفی
اپنے استعفے کے حوالے سے مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ جب یہ ذمے داری قبول کی تو 26 ویں ترمیم ہو چکی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کام کرنا خود کو دھوکا اور فریب دینے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے