سابق وزیراعلیٰ و صدر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سینیٹر اور ممتاز دانشور مرحوم عرفان صدیقی کے گھر آمد۔

سابق وزیراعلیٰ و صدر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سینیٹر اور ممتاز دانشور مرحوم عرفان صدیقی کے گھر آمد۔
‏انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور ان کے صاحبزادے سے ملاقات میں عرفان صدیقی مرحوم کی قومی خدمات، علمی وراثت اور مسلم لیگ (ن) کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
‏اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین

=========================

سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، 27ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے، انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا، ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور، کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا، جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیا گیا اس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔

جسٹس منصور نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم نے قوم کی اعلیٰ عدالت کی یکجہتی کو توڑ کر، اس نے عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا ہے، ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے، آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے جج کے طور پر میرے سامنے صرف دو راستے کھلے ہیں، ایک راستہ ایسے نظام کے اندر رہنا ہے جو اس ادارے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے، دوسرا راستہ اس کی غلامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو جانا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید لکھا کہ 26ویں ترمیم میں بھی سپریم کورٹ آئینی سوالات کا جائزہ لینے اور ان کا جواب دینے کے اختیار کی حامل تھی، موجودہ ترمیم نے اس عدالت سے وہ بنیادی اور اہم اختیار چھین لیا ہے، کمزور عدالت میں خدمات انجام دیتے ہوئے میں آئین کا تحفظ نہیں کر سکتا، جج رہتے ہوئے اس ترمیم کا عدالتی جائزہ بھی نہیں لے سکتا جس نے آئین کو بگاڑا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی مستعفی ہوگئے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ صدرِ پاکستان کو بھجوادیا۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا ہے کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔

انہوں نے مزید تحریر کیا کہ تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔

میٹنگ منٹس پبلک کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے نیا خط لکھ دیا

اس سے قبل 10 نومبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں مجوزہ آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ اگر متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے دونوں متاثر ہوں گے، تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سر بلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔

چیف جسٹس بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، جسٹس منصور علی شاہ کا خط

خط میں چیف جسٹس پاکستان سے تمام آئینی عدالتوں کےجج صاحبان کا اجلاس بلانے کی سفارش کرتے ہوئے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت سے باضابطہ مشاورت کی تجویز دی گئی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب منظرِ عام پر آ گیا

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا تھا کہ آپ اس ادارے کے ایڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈر شپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے۔

خط کے متن میں کہا گیا تھا کہ عدلیہ کا ادارہ جاتی مؤقف تحریری طور پر حکومت اور پارلیمان کو بھجوایا جائے، جب تک مشاورت مکمل نہ ہو، حکومت کو ترمیم پیش نہ کرنے سے آگاہ کیا جائے، میری گزارش اختلاف نہیں، ادارہ جاتی یکجہتی کی اپیل ہے۔
=============================

نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی، مجوزہ آرمی ایکٹ
انصار عباسی
نوشین یوسف

قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔

مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت اگلے پانچ سال کے لیے دوبارہ سے شروع ہوگی، آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے۔

وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت تین سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی

مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم منظور کرلیں، تینوں بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیے۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے، آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرٹیکل دو سو تینتالیس میں ترمیم کے تناظر میں تینوں سروسز کے ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔