کراچی پریس کلب کی عظیم روایت پروگرام میٹ دی پریس میں مہمان “امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن ” کو میٹ دی پریس کے آغاز سے قبل پھولوں اور سندھ کی عظیم ثقافت لنگی کا تحفہ پیش کیا گیا۔


کراچی پریس کلب کی عظیم روایت پروگرام میٹ دی پریس میں مہمان “امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن ” کو میٹ دی پریس کے آغاز سے قبل پھولوں اور سندھ کی عظیم ثقافت لنگی کا تحفہ پیش کیا گیا۔

=======================

27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے
27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کے استعفے کا متن

27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے
اسلام آباد ۔ 13 نومبر2025ء) سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کے استعفے کا متن۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
===========================

آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں، اعظم نذیرتارڑ

آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں ..

اسلام آباد ۔ 13 نومبر2025ء) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں۔

جمعرات کوقومی اسمبلی میں وضاحتی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم کا مقصدانہیں 27ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ہم آہنگ کرناہے، آرمی ایکٹ میں جوترمیم کی گئی ہے اس کے تحت آرمی چیف کا عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل ہواہے،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کاعہدہ موجودہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوگا،چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی مدت 5سال ہوگی اورتعیناتی کی تاریخ سے مدت شمارہوگی۔

اسی طرح ائیرفورس اورنیوی کے بلوں میں بھی ضروری تبدیلیاں کی گئی ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہے، آئینی بینچز نہیں رہے ہیں اور آئین کے تحت کورٹ قائم کر دی گئی ہے، اس میں پہلی تعیناتی چیف جسٹس صاحب کی ہونی ہے، اس حوالہ سے وزیراعظم سمری جاری کریں گے، جہاں جہاں آئینی بینچز کا ذکرتھا وہ حذف کرلی گئی ہے، میں اس حوالہ سے پورے ایوان کاشکریہ اداکرنا چاہتاہوں۔