
مولوی طارق جمیل کا “بفا” کیا ہوا؟ | ابھی سے مکافات کی شورا ہے، بوہت کچھ ہونا باقی ہے۔
مولوی طارق جمیل کا “بفا” کیا ہوا؟ | ابھی سے مکافات کی شورا ہے، بوہت کچھ ہونا باقی ہے۔
Molvi Tariq Jamil ka “Bafa” kede hua? | abhi to makafaat ki shuruaat hai, bohot kuch hona baki hai
=======================
الخدمت فاؤنڈیشن کا لاکھوں مستحقین تک گوشت پہنچانے کا اعلان
راولپنڈی: صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ الخدمت لاکھوں مستحقین تک گوشت پہنچائے گی۔ غزہ کے لیے مصر میں ایک ہزار گائے قربان کی جائیں گی۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے ’’سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیوں اور کیسے؟‘‘ کے موضوع پر آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عید الاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ جو امت مسلمہ کو اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ کے احکامات کے سامنے سرنڈر کرنا سکھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن ہر سال لاکھوں مستحق خاندانوں تک قربانی کا گوشت پہنچاتی ہے۔ اس کے لیے مختلف شہروں میں قربانی مراکز قائم کیے جاتے ہیں جہاں مرکزی، ریجنل، اضلاع اور علاقائی ٹیمیں،الخدمت اسٹاف اور رضاکار خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے گزشتہ سال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس الخدمت نے 5 ہزار 808 بڑے جانور اور 2 ہزار 835 چھوٹے جانور قربان کیے۔ جن کا گوشت لاکھوں افراد تک پہنچایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اور ان میں سے لاکھوں لوگوں کو صرف عید قربان پر گوشت میسر آتا ہے۔ الخدمت کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحقین تک قربانی کا گوشت پہنچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن بحال کر دی
صدر الخدمت فاؤنڈیشن نے کہا کہ الخدمت کے قربانی پراجیکٹ سے وابستہ ہرفرد پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ کیونکہ عوام الناس اور اہل خیر تو اپنی قربانی کے فریضہ کے لیے الخدمت کو اپنا وکیل بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ قربانی کے تمام مراحل کو بہترین بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن صرف پاکستان میں نہیں بلکہ غزہ کے لیے بھی قربانی کر رہی ہے۔ مصر میں بھی ایک ہزار گائیں اہل غزہ کے لیے قربان کر رہے ہیں۔ اور مصر میں موجود مہاجرین کو فوری تازہ گوشت فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پروفیشنلز کے ذریعے ٹن پیک تیار کئے جائیں گے۔ جن کی لائف 2 سال ہو گی اور جونہی بارڈر کھلے گا۔ تو یہ قربانی کا گوشت غزہ کے اندر موجود بچوں، خواتین اور متاثرین تک پہنچائیں گے۔























