
کراچی میں ہیلتھ بیٹ صحافیوں کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات سے متعلق آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
کراچی کے صحافیوں کے لیے ایک روزہ آگاہی ورکشاپ آج شاہراہِ فیصل پر واقع ایک مقامی گیسٹ ہاوس میں اس کااہتمام کیاگیا۔ اس ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسین سے بچاؤ کی بیماریوں کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ وہ عوام تک درست اور مؤثر پیغام رسانی کر سکیں۔
یہ ورکشاپ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے وژن کے تحت منعقد کی گئی، جنہوں نے صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کی آگاہی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ اس اقدام کو سیکریٹری صحت سندھ، محترم ریحان اقبال بلوچ کی انتظامی معاونت اور پروگرام ڈائریکٹر ای پی آئی سندھ، ڈاکٹر راج کمار کی تکنیکی قیادت حاصل تھی۔
یہ پروگرام یونیسیف سندھ آفس کی معاونت سے منعقد ہوا، جس میں ماہرین نے خصوصی شرکت کی جن میں ڈاکٹر زین العابدین (اسٹاٹیسٹیکل آفیسر ای پی آئی)، مسٹر سنیل راجہ (یونیسیف سندھ، اربن امیونائزیشن آفیسر)، اور ڈاکٹر غلام حسین بُلدی (سرویلنس آفیسر، ڈبلیو ایچ او سندھ) شامل تھے۔

ورکشاپ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے تحت شامل 12 بیماریوں پر روشنی ڈالی گئی، جن میں تپ دق (ٹی بی)، پولیو، خناق (ڈفتھیریا)، تشنج (ٹینٹس)، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس بی، ہیمو فیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (Hib)، نمونیا، خسرہ، روبیلا، ٹائیفائیڈ، اور روٹا وائرس شامل ہیں۔ ماہرین نے ان بیماریوں کی علامات، پھیلاؤ کے طریقے، ویکسین کے کام کرنے کا طریقہ، اور پاکستان میں رائج حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول پر تفصیلی گفتگو کی۔

سندھ حکومت کی جانب سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو ان 12 خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفت حفاظتی ٹیکہ جات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، صوبے میں جلد ہی ایچ پی وی (HPV) ویکسین متعارف کرائی جا رہی ہے، جو لڑکیوں کو سرویکل کینسر سے بچاؤ فراہم کرے گی۔ یہ اقدام نوجوانوں کو بیماریوں سے بچانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
حامد الرحمٰن، سینئر صحافی (سماء ٹی وی) نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صحت سے متعلق صحافتی اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مؤثر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ، طبی اصطلاحات کے درست استعمال، اور ویکسین سے متعلق غلط معلومات کا حقائق کی بنیاد پر مقابلہ کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ صحافی کس طرح متوازن اور مؤثر کہانیوں کے ذریعے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرامز کو عوامی سطح پر فروغ دے سکتے ہیں۔
ورکشاپ میں معروف صحافیوں نے شرکت کی جن میں حامد الرحمٰن (سماء ٹی وی)، شفقت (نیو ٹی وی)، عبداللہ سروہی (بیورو چیف، اے پی پی)، صلاح الدین (سینئر رپورٹر، اے اے پی)، لیاقت عباسی (کوشش)، پون کمار (کے ٹی این نیوز)، اور شازیہ ارشد (آج ٹی وی) ماريا اسماعيل( عوامي آواز) امدادسومرو(دھرتی ٹی وی)رضوان جلالی (پروان) شامل تھے۔ ان کی فعال شرکت میڈیا کے اس اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے جو وہ حفاظتی ٹیکہ جات کی آگاہی اور والدین کو بچوں کی بروقت ویکسینیشن کے لیے قائل کرنے میں ادا کر رہے ہیں۔
ورکشاپ کا اختتام ایک جامع مکالمے پر ہوا جس میں ذمہ دارانہ صحافت، ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کا تدارک، اور عوام کا حفاظتی ٹیکہ جات پر اعتماد بڑھانے میں میڈیا کے کردار پر بات چیت کی گئی۔ شرکاء کو اس شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں سرٹیفیکیٹس بھی دیے گئے۔























