یونیورسٹیوں کے خلاف کریک ڈاؤن طلبہ پریشان

امریکی یونیورسٹیوں میں غیرملکی طلبہ کے مسائل: حکومتی پالیسیوں پر تشویش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کی معروف یونیورسٹیوں کے خلاف سخت اقدامات نے غیرملکی طلبہ، بشمول پاکستانیوں، کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف نئے طلبہ کے لیے داخلے کے عمل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، بلکہ پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ بھی اپنے مستقبل کو لے کر غیر یقینی کا شکار ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، صدر ٹرمپ کی یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائیوں سے تقریباً دس لاکھ غیرملکی طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان اقدامات کو صدر کے ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘ کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ان یونیورسٹیوں کو اپنی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

حال ہی میں، صدر ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی اسکالرز کے پروگراموں کو قانونی چیلنج کیا، جبکہ غیرملکی طلبہ کے ویزا معطل کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے اقدامات بھی سامنے آئے۔ ان پابندیوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ہوئی، جس کے بعد ایک جج نے حکومت کو ان فیصلوں پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا۔ تاہم، اس تمام تر صورتحال نے طلبہ کی تعلیمی زندگی کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔

پاکستانی طالب علم عبداللہ شاہد سیال، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں ریاضی اور اقتصادیات کے طالب علم ہیں، کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی یونیورسٹیوں کے خلاف مہم غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ افسوسناک ہے کہ 18 سے 20 سال کے نوجوان، جو خاندان سے دور تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، اب اپنے مستقبل کو لے کر غیر یقینی کا شکار ہیں۔”

عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے جاننے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی تعلیمی مواقع تلاش کریں۔ ان کے ایک دوست نے ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے دو اداروں میں داخلے کی درخواست دی تھی، اور آخرکار انہوں نے برطانیہ کا انتخاب کیا۔ “وہ ہارورڈ کو ترجیح دیتا تھا، لیکن غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس نے محفوظ راستہ اپنایا،” عبداللہ نے کہا۔

اسی طرح، آسٹریا کے طالب علم کارل مولڈن، جو ہارورڈ میں سیاسیات اور کلاسکس پڑھ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات کی وجہ سے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وہ دوبارہ امریکہ واپس آ سکیں گے یا نہیں۔

اگرچہ عدالت کی طرف سے حکومت کے اقدامات کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، لیکن اس پالیسی نے طلبہ کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اعلیٰ تعلیمی ساکھ کو اس طرح کے اقدامات سے نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکہ ایک کم پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے۔