اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن کے خدشے کو رد نہیں کرسکتے۔

بی جے پی کے رہنما کا پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف
بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیئن سوامی نے جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف کرلیا۔

بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیئن سوامی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے۔

سبرامنیئن سوامی نے کہا کہ چین کے طیارے بہترین جبکہ فرانس کے طیارے اچھے نہیں تھے، مودی کے ہوتے ہوئے طیارے گرنے کے معاملے پر تحقیقات اور بات چیت ممکن نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی طیارے گرنے کے معاملے پر قوم کو سچائی سے آگاہ کریں گے۔

5 بھارتی جنگی طیارے مار گرانے پر برطانوی اخبار نے پاک فضائیہ کو فضاؤں کی حکمراں تسلیم کر لیا

اس سے قبل رواں ماہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاکستان کی عالمی سطح پر بھی پذیرائی ہوئی تھی، غیر ملکی اخبار نے پاک فضائیہ کو فضاؤں کا حکمراں قرار دیا تھا۔

برطانوی اخبار نے لکھا تھا کہ پاک فضائیہ فضاؤں کی حکمراں ہے، پاکستانی طیاروں نے جدید میزائل استعمال کر کے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، پاکستان نے رافیل جیسے مہنگے بھارتی طیارے گرا کر اپنی فضائی برتری ثابت کر دی

===============================

اس وقت کچھ نہیں ہو رہا، لیکن اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن کے خدشے کو رد نہیں کرسکتے، جنرل ساحرشمشاد مرزا
چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ اس وقت کچھ نہیں ہو رہا، لیکن اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن کے خدشے کو رد نہیں کرسکتے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے غیرملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل میں بھی کشیدگی ہوسکتی ہے، پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی اس کے باوجود بھارت نے اقدام اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان حدود کو کم کر دیا ہے، اس سے پہلے ہم صرف متنازع علاقوں تک محدود تھے، اس بار ہم بین الاقوامی سرحد پر آمنے سامنے آئے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ مستقبل میں یہ معاملہ متنازع علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، جنگ ہوئی تو پورے پاکستان اور پورے بھارت میں پھیل سکتی ہے، ہوسکتا ہے کہ پہلے شہروں اور بعد میں سرحدوں کو نشانہ بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہوگا، اس سے سرمایہ کاری، تجارت اور بھارت کے ڈیڑھ ارب کی آبادی متاثر ہوگی۔

جنرل ساحر شمشاد نے یہ بھی کہا کہ ڈی جی ایم او ہاٹ لائن کے سوا کرائسس مینجمنٹ میکنزم کا بھی کوئی وجود نہیں تھا، ایک طرف کرائسز مینجمنٹ میکنزم نہ ہو اور دوسری طرف تصادم ہو تو عالمی برادری کے لیے مداخلت کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کہوں گا اس سےقبل کہ بین الاقوامی برادری اس ٹائم ونڈو کا فائدہ اٹھائے نقصان اور تباہی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی اس کے باوجود بھارت نے اقدام اٹھایا۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے مزید کہا کہ لیکن کسی بھی وقت اسٹریٹیجک مِس کیلکولیشن کے خدشےکو رَد نہیں کر سکتے، کرائسس ابھی موجود ہے، ردِعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔

جنرل ساحر شمشاد کا کہنا تھا کہ یہ مسائل صرف بات چیت اور مشاورت سے ہی حل ہو سکتے ہیں، ان مسائل کو میدان جنگ میں حل نہیں کیا جا سکتا۔