
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست پر کے الیکترک سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سعود آباد اور ورکس سوسائٹی میں 15 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ بل وقت پر ادا کرتے ہیں، علاقے میں کوئی لائن لاسز بھی نہیں ہیں پھر بھی بجلی بند کردی جاتی ہے۔ علاقے میں کوئی ڈیفالٹر نہیں ہے بروقت بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود طویل لوڈشیڈنگ نے جینا محال کردیا ہے۔ کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف دیا کہ چند دن میں درخواستگزار کا مسلہ حل ہوجائے گا۔ کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر سندھ ہائیکورٹ برہم ہوگئی۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارلس دیئے کہ جو بھی کرنا ہے کریں مگر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے شہری کی کی درخواست پر کے الیکترک سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سٹی کورٹس میں سیکورٹی مسائل اور سہولیات کے فقدان کیخلاف درخواست پر رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرلیں۔ ہائیکورٹ میں سٹی کورٹس میں سیکورٹی مسائل اور سہولیات کے فقدان کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سیکورٹی مسائل، تجاوزات کی بھرمار اور ٹریفک مسائل سے متعلق رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سٹی کورٹ اور اطراف میں 4 سو سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے کام ہی نہیں کررہے۔ سٹی کورٹ کے واک تھرو گیٹ خراب ہیں، ناقابل انتظامات کے باعث کبھی بھی دہشتگردی کا بڑا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ سٹی کورٹ میں بھکاری لاتعداد تعداد ہیں جبکہ کورٹس کے اندر اور اطراف میں تجاوزات کی بھرمار ہے۔ سندھ حکومت کے وکیل نے موقف دیا کہ کے ایم سی رینجرز اور پولیس کی معاونت سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے اختر حسین ایڈووکیٹ سے مکالمہ میں کہا کہ رپورٹس کا جائزہ پہلے لے لیں بعد میں عدالت حکم نامہ جاری کرے گی۔ درخواستگزار ضیاء اعوان ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ سیکیورٹی مسائل سے متعلق پولیس کی رپورٹ الارمنگ ہے۔ سیشن ججز کی رپورٹ کے مطابق ججز کے بیٹھنے کے لیے فرنیچر تک دستیاب نہیں ہے۔ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کے فوکل پرسن کی جانب سے نامکمل رپورٹ پیش کرنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارلس میں کہا کہ ہمارا اپنا ادارہ ہی ایکٹو نہیں ہے یہ ہمارے لیے مایوس کن اور شرمندگی کا باعث ہے۔ عدالت نے وکیل درخواست گزار کو تمام رپورٹس کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ اور دیگر سے 13 جون کو رپورٹ طلب کرلیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کے پاورز کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو دینے کیخلاف درخواست پر آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ میں مجسٹریٹ کے پاورز کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کردی۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔ درخواستگزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا تھا کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو 3 سال تک کی سزا کے اختیارات دیئے گئے۔ فنانس ایکٹ کے ذریعے یہ اختیارات دیئے گئے, جو کہ غیر قانونی ہے۔ وفاق نے بل میں ترمیم کی تھی جبکہ سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ پرائز کنٹرولنگ کے پاورز کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو دیئے گئے۔ یہ کام بیورو آف سپلائی کا ہے۔ میجسٹریٹ کے پاورز کمشنر و ڈپٹی کمشنر کو دینا عدلیہ کی ازادی کے خلاف ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔ ہائیکورٹ میں کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او سمیت اعلیٰ عہدوں پر تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ میں اس رویئے پر معذرت خواہ ہوں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن میں تقرریاں صوبائی حکومت کرتی ہے۔ صلاح الدین کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ عدالت کے حکم امتناع کے بعد اسد اللہ کو ہٹا کر ڈپٹی کمشنر احمد علی صدیقی کو ایڈیشنل چارج دیا گیا۔ درخواستگزار نے اسد اللہ کی سی ای او کی حیثیت سے تقرری کو نہیں بلکہ عہدے کے اختیارات کو چیلنج کیا۔ سی ای او کے اختیارات ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو سونپنے کے بعد یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ درخواست غیر مؤثر ہوچکی، نمٹادی جائے۔ عدالت کے حکم امتناع کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کو پانی فراہم کرنے والا ادارہ مفلوج ہے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں واٹر کارپوریشن کے پبلک یوٹیلیٹی ہونے سے متعلق تقریر مت سنائیں۔ یہ پبلک یوٹیلیٹی ہے لیکن پبلک مفاد کیلیے استعمال نہیں ہورہی، نجانے کس کے لیئے استعمال ہورہی ہے۔ خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا صوبہ سندھ میں سقراط، بقراط، افلاطون صرف اسداللہ ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسد اللہ خان مئی 2022 میں اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے اور ستمبر میں دوبارہ تقرری کردی گئی۔ تمام عہدوں کے اختیارات اسد اللہ خان کو دیئے گئے ہیں، چار چار ٹوپیاں پہنا دی گئیں۔ اب گریڈ 19 کے من پسند ڈپٹی کمشنر کو سی ای او لگا دیا گیا، کراچی کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ جنگ میں ہی نہیں، عدالتوں میں بھی سچائی کا قتل ہوتا ہے جب کوئی سرکاری افسر عدالت آجائے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اسد اللہ طویل عرصے واٹر کارپوریشن میں رہے، کے فور کی لاگت میں اضافہ ہوتا رہا۔ خواجہ شمس اسلام نے موقف دیا کہ شہر میں صرف پائپ بچھائے گئے ہیں پانی نہیں ہے۔ جس پائپ میں پانی ہوتا ہے وہ توڑ دیا جاتا ہے، عدالت میں موجود سابق جسٹس محمود عالم کے جملے نے کمرہ عدالت زعفران زار بنادیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ افسران کی نااہلی کے سبب کراچی میں بار بار پانی کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں۔عدالت نے کنٹریکٹ پر سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے۔ عدالت نے ریٹائرڈ افسران کی کنٹریکٹ پر دوبارہ تقرریوں اور حکومت سندھ کے رویئے پر اظہارِ افسوس کیا۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومت سندھ عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ 4 ماہ پہلے ایک نے کہا کہ واٹر کارپوریشن خود مختار ادارہ ہے، حکومت سندھ کا کوئی لینا دینا نہیں، جب عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تو افسران کو بچانے کیلیے حکومت سندھ کے وکلاء پہنچ گئے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے متعلق سندھ حکومت کے رویئے میں فرق محسوس ہوتا ہے۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ چند دنوں میں سنایا جائے گا۔ عدالت نے دونوں افسران کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔























