واٹر کارپوریشن ، چیئرمین کی حیثیت سے میئر کراچی مرتضی وہاب کو چند کام تو کر ہی لینے چاہییں۔ قدرت بار بار موقع نہیں دیتی


واٹر کارپوریشن ، چیئرمین کی حیثیت سے میئر کراچی مرتضی وہاب کو چند کام تو کر ہی لینے چاہییں۔ قدرت بار بار موقع نہیں دیتی

کراچی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں کے حوالے سے واٹر کارپوریشن کے چیئرمین کی حیثیت سے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ایسے کون سے کام کرنے چاہیے جن سے ان کی واہ واہ ہو یا کم از کم شہریوں کے مسائل میں کچھ کمی آ سکے قدرت بار بار موقع نہیں دیتی جو موقع ملا ہوا ہے اس سے مرتضی وہاب کو فائدہ اٹھا کر عوام کی خدمت کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کرنا چاہیے اگر وہ نیک نیت ہیں اور بھلا چاہتے ہیں تو پھر انہیں واٹر کارپوریشن کے حوالے سے کون سے کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے چاہییں ۔یہ سوال ہم نے واٹر کارپوریشن کے پرانے افسران اور واٹر ایکسپرٹ سے پوچھا تو انہوں نے کچھ بنیادی باتیں بتائیں اور یہ بھی کہا کہ یقینی طور پر میئر کراچی کو واٹر کارپوریشن کے افسران نے جو بریفنگ دی ہوگی اس میں ان باتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہوگا یعنی میر کراچی ان باتوں سے ناواقف نہیں ہو سکتے البتہ ان کی ترجیحات میں یہ باتیں شامل ہیں یا نہیں یہ وہ ہی بہتر جانتے ہیں ۔
تو ائیے دیکھتے ہیں کہ واٹر ایکسپرٹس اور واٹر کارپوریشن کے سابقہ افسران کیا مشورہ دیتے ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں کہ واٹر کارپوریشن کے چیئرمین کی حیثیت سے موجودہ میئر کراچی مرتضی وہاب کو فوری طور پر کیا کیا کام کرنے چاہیے جس سے شہر میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں میں بہتری ا سکتی ہے اور شہریوں کو ریلیف مل سکتا ہے ۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے واٹر ایکسپرٹس اور واٹر کارپوریشن کے سابقہ ملازمین نے جن اقدامات کی جانب توجہ دلائی ہے ان میں سب سے پہلے تو یہ کہا گیا ہے کہ میئر کراچی کو چاہیے کہ فوری طور پر افسران کا اجلاس طلب کریں اور یہ معلوم کریں کہ شہر کے لیے کتنا پانی دستیاب ہے جتنا بھی پانی سسٹم میں دستیاب ہے اس کا حساب لیں اور جو پانی دستیاب ہے اس میں سے نان ریونیو واٹر کے بارے میں معلومات لیں نان ریونیو واٹر وہ ہوتا ہے جہاں پانی ضائع ہو رہا ہو اور اس سے نہ تو واٹر کارپوریشن کو کوئی امدن ہو رہی ہو اور نہ ہی شہریوں تک پانی صحیح طریقے سے پہنچ رہا ہو نان ریونیو واٹر کو ہر قیمت پر زیرو پر لایا جائے اس حوالے سے جارحانہ اقدامات کرنے پڑیں گے اور تیزی سے کام کر کے ان کالی بھیڑوں کا صفایا کرنا پڑے گا جو نان ریونیو واٹر کے ذمہ دار ہیں 84 انچ 66 انچ 54 انچ جتنی بھی لائنیں ہیں جیسے صبا سینما سے پہلے لائن لیک کر رہی ہے اولڈ پیپری لائن لیک کر رہی ہے ان سب کی لیکج کو روکنا ہوگا اور جو پانی ضائع ہو رہا ہے اس کو بچانا ہوگا ۔یہ کام مرحلہ وار بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر کوئی کرنے والا ہو تو ایک ساتھ بھی بیڑا اٹھایا جا سکتا ہے اور میئر کراچی اگر شہر کے ساتھ سنجیدہ ہیں اور بھلا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی ایسا کام کرنا پڑے گا جس سے لوگ ان کی تعریف بھی کریں اور مسئلہ حل بھی ہو ۔
واٹر ایکسپرٹس اور واٹر کارپوریشن کے سابق افسران کا مشورہ ہے کہ چیئرمین کی حیثیت سے میئر کراچی مرتب اپ کو دوسرا بڑا کام یہ کرنا چاہیے کہ شہر میں تقریبا ساڑھے تین ہزار وال لگے ہوئے ہیں وہاں پر جو والو مین ہیں ان کو تبدیل کریں یا ان کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لے کر ائے ہیں وال تبدیل کرنے پر اٹھ سے 10 ارب روپے یا کم و بیش 10 ارب روپے کا خرچہ ہو سکتا ہے یا تو ان تمام وال کو تبدیل کر کے سسٹم کو اٹو سسٹم میں تبدیل کر دیں اس میں وقت لگے گا لیکن یہ مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل ہوگا اس وقت سچی بات یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن ان والو مینوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے یہ وال مین مافیا بن چکے ہیں جو پیسے دیتا ہے اس کو پانی دے دیتے ہیں جو پیسے نہیں دیتا اس کو رلاتے ہیں تین ہزار والو ہیں تو پھر تی ہزار بندے بھی چاہیے اپریٹ کرنے کے لیے کیا واٹر کا اپریشن کے پاس اس وقت تین ہزار بندے ہیں جو ان والو کو اپریٹ کر سکیں ؟ اس سوال کا جواب ہے نہیں، لہذا یہ صورتحال تشویش ناک ہے ابنارمل صورتحال ہے اس کو نارمل ارینجمنٹ میں لانا ہوگا اور سب وال مینو کو جواب دے بنانا ہوگا اس کے حوالے سے میر کراچی کو جرت مندانہ اقدامات اور فیصلے کا نہیں ہوں گے شہریوں کو بھی بتانا ہوگا کہ کون سے افسران اور ملازمین پرابلم ہیں کون بلیک میلنگ کرتا ہے کون کام نہیں کرتا کون سب سے بڑا ر*** ہے اور کس نے سسٹم کو یرغمال بنا رکھا ہے اگر ان کی پشت پناہی کرنے والے کوئی طاقتور سیاسی یا غیر سیاسی اور کسی بھی قسم کے لوگ ہیں تو ان کو بے نقاب ہونا چاہیے اور ان کا پردہ چاک ہونا چاہیے ایکسین بتاتا ہے کہ وال مین پرابلم ہے یا نہیں اور عملے کے لوگ کیا کر رہے ہیں اس حوالے سے مرتضی وہاب چاہیں تو کافی کچھ کر سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو خاموشی کے ساتھ سر جھکا کر دفتر میں بیٹھے رہیں اور لوگوں سے باتیں سنتے رہیں ۔مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مسائل بڑھتے رہیں گے اور ان کو زیادہ باتیں سننی پڑیں گی ۔
واٹر ایکسپرٹس اور واٹر کارپوریشن کے سابقہ افسران کا کہنا ہے کہ چیئرمین واٹر کارپوریشن کی حیثیت سے میئر کراچی متضبح کو تیسرا بڑا کام یہ کرنا چاہیے کہ سروس ڈلیوری پر توجہ دینی چاہیے سروس ڈلیوری میں پانی کی ریسائیکلنگ پر جانا پڑے گا ماہرین کی زبان میں بات کی جائے تو ٹی پی تھری پر پروڈکٹ پہنچ چکا ہے اسی طرح ٹی پی ون تیار ہے 30 سے 60 ایم جی ڈی پانی وہاں پہنچ سکتا ہے ان سب مقامات پر واٹر ری سائیکلنگ کا کام شروع کرنا چاہیے تیز کرنا چاہیے اور اس پانی کو واپس سسٹم میں لانا چاہیے ۔واٹر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ حب ڈیم سے جو پانی انے والا ہے اس کے ابھی کافی مسائل ہیں ان مسائل کو فوری طور پر توجہ دے کر حل نہ کیا گیا تو وہ پانی بھی نہیں سسٹم میں شامل ہو سکے گا اور صرف دعوے ہی ہوں گے اسی طرح فلٹریشن پلانٹس کو چلانا چاہیے اور ان پر توجہ ہی نہیں ہے حالانکہ ان پر سب سے زیادہ توجہ اور فوکس ہونا چاہیے یورپین انویسٹمنٹ بینک 100 ملین ڈالر کا فلٹریشن پلانٹ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے لیکن اس کو میچور نہیں کیا گیا اس پر کام کرنا چاہیے اسی طرح ٹی پی ون ہب والے پہ اور ٹی پی تھری میں بھی جو صورتحال ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات فورریز اور پر ضروری ہیں ٹی پی فور پر 10 سال لگ گئے اور 35 ایم جی ڈی پانی اٹھا کر ڈی پی فور میں ڈالنے کا پروگرام ہے یہ کب پورا ہوگا جب پلانٹ لگے گا واٹر کارپوریشن کے چیئرمین کو چاہیے کہ تب تک یونٹ بنانا شروع کر دیں 50 ، 50 ایم جی ڈی کے یونٹ بنا دیں اور انٹرسپٹرز کو پورا بنائیں ۔
واٹر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ میر کراچی اگر شہر میں واٹر کارپوریشن کا سسٹم بہتر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں دو تین ملکوں کے واٹر کارپوریشن کو سٹڈی کر کے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جس میں ملائشیا کا سسٹم کافی اہمیت کا حامل ہے ملائشیا کا ایمادہ واٹر سسٹم کافی اہم ہے جو 7250 ٹریٹمنٹ پلانٹس پر مشتمل ہے اور 15 20 بڑے پلانٹس بھی شامل ہیں ۔
واٹر ایکسپرٹس اور واٹر بورڈ کے سابق افسران نے کہا کہ اب تک چیئرمین کی حیثیت سے میئر کراچی مرتب اپ کو یہ بات تو سمجھ ا جانی چاہیے کہ ان کو موجودہ افسران کتنا صحیح مشورہ دیتے ہیں اور کن باتوں میں الجھاؤ پیدا کرتے ہیں یا ان کے لیے کنفیوژن ہے ۔اگر انہیں کسی بات میں ابہام ہے کنفیوژن ہے تو اسے دور کرنے کے لیے وہ واٹر کارپوریشن کے اہم افسران کا اجلاس بلائیں ایک میراتھن سیشن کریں اس میں سارے پوائنٹس کو ڈسکس کریں اپنے پاس ڈائری رکھیں اور پوائنٹ ٹو پوائنٹ ساری باتوں پر سب سے مشورے لیں سوال پوچھیں جواب مانگیں اور اس کے بعد ظاہر عمل تیار کریں اور اس میٹنگ کے بعد ایک قابل عمل ایجنڈا تشکیل دے کر اٹھیں افسران سے ٹائم پیریڈ مانگیں اور ان سے یہ پوچھیں کہ ان کو کیا وسائل درکار ہوں گے ان کا بندوبست کرنے کی کوشش کریں اس میں گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو یا پبلک پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر بھی اگر کام کرنا پڑے تو ممکن ہوا ہے ۶ ۔۔ اور سندھ گورنمنٹ تو ویسے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فارمولے پر عمل پیرا ہے اور وزیراعلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈرشپ بھی اس فارمولے کی حامی ہے لہذا میئر کراچی کو پبلک پرائیویٹ ڈیپارٹمنٹ شپ کے حوالے سے کام کرنے میں بھی کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوگی اور اگر انہیں پھر بھی مشکل ہو تو وہ واٹر ایکسپرٹس یا واٹر بورڈ کے سابق افسران کو بھی بلا کر ان کے ساتھ بھی برین اسٹارمنگ کر سکتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وقت ضائع کیے بغیر بڑے مسائل پر توجہ دیں اور اللہ کا نام لے کر میدان میں کود پڑیں۔