دنیا سائنس کے ذریعے وقت میں سفر کر رہی ہے! اور یہاں وقت کی چکی میں پسنے والی پاکستانی قوم…


دنیا سائنس کے ذریعے وقت میں سفر کر رہی ہے!
اور یہاں وقت کی چکی میں پسنے والی پاکستانی قوم…
یاسمین چانڈیو….
آج کل جہاں بھی نظر دوڑائیں ،چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو، اخبار کے صفحات یا سوشل میڈیا کی پوسٹ ،ہر طرف مایوسی، درد اور بےچینی کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا سماج روتے لہو میں ڈوبا ہو۔
ایسے ماحول میں، آج کے اخبارات میں ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے، جو نہ صرف حیران کن ہے، بلکہ برسوں سے ہمارے اندر اٹھتے سوالوں کا ممکنہ جواب اور دنیا کے لیے ایک سائنسی امید کی کرن بھی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق، ٹائم ٹریول اب کوئی خواب یا فلمی فسانہ نہیں رہا، بلکہ حقیقت کے قریب تر ہے۔
ہم برسوں سے سائنس فکشن فلموں میں یہ مناظر دیکھتے آئے ہیں، جنہیں دیکھ کر اکثر کہتے تھے کہ یہ سب جھوٹ ہے، مگر دل کہیں نہ کہیں یہ بھی کہتا تھا: “شاید یہ سچ ہو، کسی دن ایسا ہو جائے۔”
ہم خود بھی اکثر شام کی چائے پر، ان فلموں کے مناظر پر گفتگو کرتے، جن میں انسان بیک وقت تین زمانوں میں سفر کرتا ہے۔ کہتے کہ اگر ماضی میں لوٹ سکتے تو یہ سب نہ ہوتا، یا اگر ہم مستقبل میں جھانک سکتے تو کچھ بہتر اندازہ ہو جاتا۔
اکثر یہ بھی کہتے کہ جو خواب ہم دیکھتے ہیں وہ یا تو ہمارے ماضی سے جڑے ہوتے ہیں یا مستقبل سے۔
اب سائنسدانوں نے باقاعدہ اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹائم ٹریول سائنسی دائرہ میں داخل ہو چکا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، وقت کے بہاؤ، اسپیس ٹائم، اور کوانٹم فیلڈز پر ہونے والے تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مخصوص حالات میں وقت کو موڑا، روکا یا آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
مگر یہاں افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں دنیا کی اقوام سائنسی ایجادات، ٹیکنالوجی اور تخلیقی خیالات کی معراج پر پہنچ چکی ہیں ،ٹائم ٹریول، مصنوعی ذہانت، خلا کی وسعت اور روبوٹک انسانوں جیسے تجربات کر رہی ہیں ،وہاں ہمارا پاکستانی نوجوان اپنی ہی سرزمین پر خود کو بے یار و مددگار، لاوارث اور قربانی کا بکرا محسوس کر رہا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں سوچ کو آزادی نصیب ہو چکی ہے، وہاں پاکستانی نوجوان کی سوچ کو دیوار سے لگادیا گیا ہے۔
کہیں مفاد پرست سیاست اس کے ذہن پر قابض ہے،
کہیں یونیورسٹیوں میں انہیں اعلیٰ تعلیم کے بجائے شکوک، سازشوں اور گروہی تقسیم کا شکار بنایا گیا ہے،
کہیں ہوسٹلوں کی آڑ میں ان کے جائز حقوق کی بات دبائی گئی،
کہیں وہ لاشوں کی صورت میں احتجاج کا استعارہ بنے،
اور کہیں آٹے، چھت یا دوا کی کمی نے انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ وہی نوجوان ہے، جسے اگر درست سمت، موزوں وسائل اور فکر کی آزادی دی جاتی،
تو آج دنیا کے سائنسدانوں کی صف اول میں پاکستانی نوجوانوں کا نام ہوتا،
اور دنیا ان کی صلاحیتوں کی معترف ہوتی۔
مگر افسوس، انہیں تعلیم، تحقیق اور ایجادات کے بجائے
ڈاکو کلچر، جعلی مقابلے، بےروزگاری، نشے، اور بےبسی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
کہیں ان نوجوانوں کے ذہنوں کی سرمایہ کاری بربادی کی نذر،
کہیں مفادات کی سیاست کا شکار،
کہیں مایوسیوں میں دفن۔
آج کا پاکستانی نوجوان صلاحیت میں کسی بھی قوم سے کم نہیں،
مگر افسوس کہ اس کی راہ روکنے والے ہی اس کے نگہبان بنے بیٹھے ہیں۔
اس وقت دنیا کی لائبریریوں میں نوجوان کتابوں کے ساتھ راتیں گزار رہے ہیں،
جبکہ ہمارے نوجوان کبھی موبائل ٹاوروں سے کود کر،
کبھی بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر،
تو کبھی جھوٹے مقدمات میں الجھ کر اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے،
سوال یہ ہے کہ ہمارے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے لوٹ مار کی نذر کیوں کیا گیا؟
پاکستانی نوجوان کو سائنس، آرٹ، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے بجائے صرف زندہ رہنے کی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔
تو یہاں پھر سوال اٹھتے ہیں:
کیا پاکستان میں، جہاں موجودہ بدترین حالات میں تعلیم صرف ڈگری تک محدود ہے،
یونیورسٹیاں سازشوں کی آماجگاہ،
نوکریاں سفارش کی محتاج،
اور آزاد سوچ پر تالے لگا دیے گئے ہیں—
کیا وہاں کا نوجوان سائنس، ٹیکنالوجی اور ایجادات میں آگے بڑھ پائے گا؟
یا پھر یہ سرزمین، جو کسی دور میں موئن جو دڑو جیسی عظیم تہذیب اور کامیاب فکری مرکز تھی،
واقعی ایک “عالمی یتیم خانہ” بن چکی ہے؟
جہاں پاکستانی صرف اپنے وسائل سے نہیں،
بلکہ اپنے دماغوں سے بھی بےدخل کر دیے گئے ہیں؟
کیا ہماری قوم کے وہ ممکنہ عظیم سائنسدان، مفکر، اور موجد،
راستے نہ ملنے کے باعث، خاموشی سے کسی قبرستان کی مٹی میں دفن ہو جائیں گے؟
یا ہم اس بگڑی ہوئی صورتحال کو ٹھوکر مار کر،
خود کو سنبھالیں گے،
اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے منوانے میں کامیاب ہوں گے؟
یقیناً، ہمارے یہاں بھی وہ دن ضرور آئے گا—اس امید کے ساتھ کہ
ایک دن ہمارے اندر سے بھی سائنسدان، محقق، اور موجد نکلیں گے،
ایسے محنتی ذہن، جو موئن جو دڑو کی تاریخ کو ازسرنو دہرائیں گے،
وہ تاریخ، جب پاکستان علم، تہذیب، اور تخلیق کا مرکز تھا۔
مگر یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے،
جب ہم سازشی عناصر کا شکار ہونے کے بجائے،
انہیں بےنقاب کریں گے،
اپنے حقوق کے لیے بےخوف ہو کر کھڑے ہوں گے،
اور علم، تحقیق اور مسلسل جدوجہد کو اپنا ہتھیار بنائیں گے۔
جب پاکستانی نوجوان کسی سازشی سوچ کا غلام نہیں،
بلکہ سچ کی راہ کا مسافر بنے گا،
جب یونیورسٹیاں اختلاف کا میدان نہیں،
بلکہ ایجادات کا مرکز بنیں گی،
تب ہم دنیا کے سامنے صرف آہیں بھرنے والی قوم نہیں،
بلکہ ایک سرخرو، باشعور اور عظیم قوم کے طور پر
اپنی شناخت واپس حاصل کریں گے۔
کیونکہ شناخت صرف تاریخ سے نہیں،
بلکہ اس سچائی سے بھی جڑی ہوتی ہے،
جس کے لیے ہم آج بھی لڑ رہے ہیں۔