
جمشید روڈ افسوسناک حادثہ ، معاملے کا دوسرا پہلو سامنے آگیا

تفصیلات کے مطابق اس افسوس ناک واقعہ کے حوالے سے ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن کے مطابق مذکورہ مقام پر دو مشہور کمپنیوں کے پیٹرول پمپ واقع ہیں اور ان میں سے ایک پٹرول پمپ والوں نے مبینہ طور پر اس مقام پر کھڑے پانی کوئی نکاسی کے لیے گٹر کا ڈھکن اٹھا دیا تھا تاکہ پانی وہاں چلا جائے لیکن پانی کے ساتھ ساتھ وہاں سے گزرنے والوں کے لیے بھی یہ جگہ خطرناک ہو گئی اور پھر وہ حادثہ رونما ہو گیا جس نے ایک معصوم بچے کی جان نگل لی اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہاں پر گٹر کو ڈھکا رہنے دیا جاتا اور اس کو اوپن نہ کیا جاتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا ۔ اس حادثے کے نتیجے میں جو جان گئی وہ تو واپس نہیں آ سکتی لیکن یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ دار صرف اس گٹر کو ڈھانپنے والے ادارے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ مقامی لوگ بھی ذمہ دار ہیں جنہوں نے اس گٹر کو کھولا اور پھر کھلا چھوڑ دیا اور نتیجے میں یہ افسوسناک حادثہ ہو گیا اس طرح شہر میں بہت سے مقامات پر صرف انتظامیہ کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے حادثات نہیں ہوتے بلکہ مقامی لوگوں کی اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی
عادت اور ذمہ زرداری ادا نہ کرنا بھی مسائل پیدا کر رہی ہے اور حادثات رونما ہو رہے ہیں جس میں بطور شہری بھی لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے اور ایسی جگہوں پر غیر ذمہ داری اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور کسی بھی وجہ سے اگر کسی گٹر کو کھولا جاتا ہے تو پھر اس کو ڈھانپنا بھی ایک ذمہ داری بن جاتی ہے اور یہ ذمہ داری ادا نہ کرنے کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی حالانکہ انتظامیہ تو مختلف علاقوں میں گٹر کو ڈھانپنے کے لیے ضروری
ساز و سامان بھیجتی ہے اور ان کو ڈھانپتی بھی ہے لیکن وہ 24 گھنٹے اس کی پہرداری نہیں کر سکتی مقامی لوگوں کو اور عوام کو بھی سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ذمہ داری لینی چاہیے ظاہر ہے کہ ہر علاقے میں ہر گٹر کےڈھکن کے اوپر کیمرہ تو نہیں لگایا جا سکتا کہ کب اور کون چوری کر رہا ہے لیکن چوری تو ہوتی ہے اور مقامی لوگوں کے سامنے ہوتی ہے یا ان کے علاقے میں ہوتی ہے انہیں پتہ ہونا چاہیے لوگ چاہیں تو علاقوں میں ایسے چوروں کو پکڑا بھی جا سکتا ہے اور پھر یہ چوریاں جو ہو رہی ہیں یہ کہیں نہ کہیں جا کر چیزیں بکتی ہیں دو خریدار ہیں ان کو بھی پکڑنا چاہیے اور ان کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونا چاہیے اس حوالے سے انتظامیہ کو اپنائیں ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور علاقہ پولیس اور اس کے مخبروں کے ذریعے ایسے لوگوں کو گرفت میں لا کر انصاف کرنا چاہیے
کیونکہ نقصان جس کا ہوتا ہے صرف وہی اس کی کمی کو سمجھ سکتا ہے جس گھر کا لال گیا ہے جس کا پیارا گیا ہے جو گھر اجڑا ہے ان کے دکھ اور غم کو کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا وجہ کچھ بھی ہو ذمہ دار کوئی بھی ہو ایک قیمتی انسانی جان گئی ہے ایک پھول جیسا بچہ اس دنیا سے چلا گیا ہے جواب دہی تو سب پر ہوگی کوئی بھی بری الذمہ کیسے ہو سکتا ہے اللہ سے رحم مانگنا چاہیے معافی مانگنی چاہیے اور ایسے اقدامات کی کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم مستقبل میں ایسے حادثات کو روکا جا سکے جو ممکنہ اقدامات ہیں

وہ ضرور کیے جائیں اور اس حوالے سے کوشش پوری کی جائے اور وہ کوشش نظر بھی ائے میڈیا بھی اس حوالے سے لوگوں میں شعور اور اگاہی کو بیدار کرے میڈیا کا بھی کردار اور ذمہ داری بنتی ہے اور لوگوں کو بھی بطور شہری اپنی ذمہ داری سمجھنی اور ادا کرنی ہوگی انتظامیہ کو بھی پہلے سے زیادہ چوکس اور چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے اور ایسی ہی شکایات جیسے ہی ائیں ان پر سنجیدگی سے ایکشن بھی ہونا چاہیے کسی بھی علاقے میں متبادل ڈھکن اور اس طرح کے بندوبست کو یقینی بنانا چاہیے کہ جہاں کہیں بھی کوئی ایسی چوری ہو یا کوئی مین ہول کھلا رہ جائے اس کو فوری طور پر ڈھانپا جائے بند کیا جائے
==============================
جمشید روڈ، کھلے مین ہول میں گر کر بچہ جاں بحق، علاقہ مکینوں کا احتجاج
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمشیدروڈ پر کھلے مین ہول میں گرکر معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا،بچہ اپنے بھائی کے ہمراہ سبزی لینے گیا تھا واپسی پر حادثہ رونما ہوگیا، رضا کاروں نے بچے کی لاش گٹر سے نکالی، سانحہ پر ورثا اور علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور احتجاجاً لاش رکھ کر سڑک بند کر دی، بعدازاں پولیس نے مذاکرات کے بعد ٹریفک کھلوا دی۔ تفصیلا ت کے مطابق جمشید کوارٹرز تھانے کی حدود جمشید روڈ نمبر ایک پی ایس او پمپ کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر 5 سالہ معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا،واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی اور اپنے طور پر بچے کو گٹر کے مین ہول نکالنے کی کوشش کی ،اطلاع ملنے پرپولیس اور فلاحی ادارے کے رضا کار بھی موقع پرپہنچ گئے،بعدازاں رضا کاروں نے بچے کی لاش گٹر سے نکالی، بچے کی لاش کو دیکھ علاقہ مکین مشتعل ہوگئے، اس دوران مکینوں اور ورثاء نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج بھی کیا، اس موقع پر مکینوں میں سخت غم غصہ پایا گیا، بعدازاں مذاکرات کے بعد سڑک ٹریفک کیلئے کھلوا دی گئی، بچے کی لاش ضابطے کی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔























