مجھے کیوں نکالا ۔۔۔۔۔۔ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی بھی رونا رونے والوں میں شامل

مجھے کیوں نکالا ۔۔۔۔۔۔ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی بھی رونا رونے والوں میں شامل

کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ انہیں اجلاس سے کیوں نکالا گیا اور ان کے بارے میں میمز بننا شروع ہو گئی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا ۔۔۔۔۔۔ ان کے بارے میں مختلف قسم کے تبصرے سوشل میڈیا پر ہو رہے ہیں اور کے الیکٹرک اور ان کے سی ای او اس وقت سخت تنقید کی زد میں ہیں اور عوام ان پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں میڈیا میں اس وقت کے الیکٹرک کے حوالے سے جو خبریں ارہی ہیں وہ کے الیکٹرک کے لیے زیادہ پسندیدہ نہیں ہیں اور کے الیکٹرک کے خلاف اور کے الیکٹرک کی کارکردگی پر تنقید کے حوالے سے کافی کچھ لکھا اور بولا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا کافی چرچا ہے

قائمہ کمیٹی میں جھگڑا، کے الیکٹرک کے سی ای او کو اجلاس سے نکال دیا گیا
اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں تلخ کلامی کے بعد سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس سید حفیظ الدین کی سربراہی میں ہوا اور یہ اجلاس کراچی کی صنعتوں کو کروانا وبا (COVID) کے دوران دی جانے والی سبسڈی پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم کشیدگی ایجنڈے کے آغاز سے قبل ہی بڑھ گئی۔

اجلاس میں گرما گرم بحث اس وقت جھگڑے میں بدل گئی جب ارکانِ اسمبلی نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مونس علوی کومنتخب نمائندوں سے توہین آمیز اور سرکشی پر مبنی رویہاپنانے پر اجلاس سے باہر نکال دیا۔

کمیٹی اراکین نے سی ای او کے غیر پیشہ وارانہ رویہ پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں موجودہ عہدے کیلئے غیر موزوں قراردےد یا اور ان کے خلاف استحقاق کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا۔

مونس علوی نے اعتراض اٹھایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اور دیگر صنعتی اداروں کے نمائندوں کو آن لائن شرکت کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں یہ سہولت نہیں دی گئی۔

انہوں نے آغاز میں ہی سوال اٹھایا:”مجھے زوم آپشن کیوں نہیں دیا گیا؟” باقی لوگوں کو زوم پر بلایاگیا اور مجھے کراچی سےبلایا گیا ، یاانہیں بھی اجلاس میں بلا لیتے یا مجھے بھی زوم پر بلالیتے۔

اس پر سید رضا علی گیلانی نے کہا چیئرمین کا بلانے یا نہ بلانے کا اختیا ر ہے میں ممبران اور اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا انہیں اجلاس سے باہر نکالاجائے انکی موجودگی تک اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتا۔

خبر کے مطابق صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب ارکان نے پوچھا کہ کے الیکٹرک نےکوویڈسبسڈی سے متعلق اپنے عدالتی مقدمات کیوں واپس نہیں لیے۔

قبل ازیں چیئرمین نےکہا کے الیکٹرک کے 3219 کیس عدالتوں میں ہیں کورونا کی سبسڈی صنعت کو دی جانی تھی جو نہیں دی گئی ، کے الیکٹرک والوں نے تین عدالتوں سے حکم امتناعی لیا کراچی کی صنعت تباہ ہو گئی جس میں کے الیکٹرک کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔

کمیٹی رکن چیئرمین نے کہاہم نے سبسڈی کے معاملے پر کہا تھا آپ کیس واپس لیں گے سی ای او نے کہا کیس واپس نہیں لیں گے اس پر علی رضا گیلانی اور سی ای او کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

کمیٹی رکن عبدالحکیم بلوچ نے کہا کے الیکٹرک والے اپنے آپکو پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں، مبین عارف نے کہاکمیٹی اپنے اختیارات استعمال کرکے سی ای او کیخلاف فوجداری کارروائی کریں یا تحریک استحقاق لائیں۔

علی رضا گیلانی نے کہا اگر چیئرمین ایکشن نہیں لیں گے تو اراکین لیں گے، سی ای او نے کہا میں بورڈ میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں جس پر علی رضا گیلانی نے کہا آپکو اراکین پارلیمنٹ سے بات کرنے کا طریقہ ہی نہیں ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے نمائندے نے کہا نیپرا کے قانون میں کہاں لکھا ہے جہاں چوری ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کروں، 18، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو تی ہے اور پیک آورز کے پیسے بھی لیتے ہیں، انڈسٹریل ایریا میں مینٹیننس کے نام پر گھنٹوں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔
========================
قائمہ کمیٹی میں جھگڑا، کے الیکٹرک کے سی ای او کواجلاس سے نکال دیا گیا
اسلام آباد( اسرار خان ) منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں گرما گرم بحث اس وقت جھگڑے میں بدل گئی جب ارکانِ اسمبلی نےK-Electricکے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مونس علویکو”منتخب نمائندوں سے توہین آمیز اور سرکشی پر مبنی رویہ”اپنانے پر اجلاس سے باہر نکال دیا — غیر پیشہ وارانہ رویہ پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں موجودہ عہدے کیلئے غیر موزوں قراردےد یا اور ان کے خلاف استحقاق کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی کا اجلاس سید حفیظ الدین کی سربراہی میں ہوا ۔یہ اجلاس کراچی کی صنعتوں کوCOVIDکے دوران دی جانے والی سبسڈی پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم کشیدگی ایجنڈے کے آغاز سے قبل ہی بڑھ گئی۔مونس علوی نے اعتراض اٹھایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اور دیگر صنعتی اداروں کے نمائندوں کو آن لائن شرکت کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں یہ سہولت نہیں دی گئی۔ انہوں نے آغاز میں ہی سوال اٹھایا:”مجھے زوم آپشن کیوں نہیں دیا گیا؟”جس پر کمیٹی ارکان برہم ہو گئے۔صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب ارکان نے پوچھا کہکے الیکٹرک نےکوویڈسبسڈی سے متعلق اپنے عدالتی مقدمات کیوں واپس نہیں لیے۔ارکان نے کے الیکٹرک کے سی ای او کو اجلاس سےباہر نکلوا دیا اور ان کیخلاف تحریک استحقاق لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،مونس عبداللہ علوی نےبریفنگ کےد وران کہا باقی لوگوں کو زوم پر بلایاگیا اور مجھے کراچی سےبلایا گیا ، یاانہیں بھی اجلاس میں بلا لیتے یا مجھے بھی زوم پر بلالیتے اس پر سید رضا علی گیلانی نے کہا چیئرمین کا بلانے یا نہ بلانے کا اختیا ر ہے میں ممبران اور اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا انہیں اجلاس سے باہر نکالاجائے انکی موجودگی تک اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتا،قبل ازیں چیئرمین نےکہا کے الیکٹرک کے 3219 کیس عدالتوں میں ہیں کورونا کی سبسڈی صنعت کو دی جانی تھی جو نہیں دی گئی ، کے الیکٹرک والوں نے تین عدالتوں سے حکم امتناعی لیا کراچی کی صنعت تباہ ہو گئی جس میں کے الیکٹرک کا سب سے زیادہ ہاتھ ہےکراچی چیمبر آف کامرس کے نمائندے نے کہا نیپرا کے قانون میں کہاں لکھا ہے جہاں چوری ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کروں ، 18، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو تی ہے اور پیک آورز کے پیسے بھی لیتے ہیں، انڈسٹریل ایریا میں مینٹیننس کے نام پر گھنٹوں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، چیئرمین نے کہاہم نے سبسڈی کے معاملے پر کہا تھاآپ کیس واپس لیں گے سی ای اونے کہا کیس واپس نہیں لیں گے اس پر علی رضا گیلانی اور سی ای او کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ،عبدالحکیم بلوچ نے کہا کے الیکٹرک والے اپنے آپکو پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں، مبین عارف نے کہاکمیٹی اپنے اختیارات استعمال کرکے سی ای او کیخلاف فوجداری کارروائی کریں یا تحریک استحقاق لائیں، علی رضا گیلانی نے کہا اگر چیئرمین ایکشن نہیں لیں گے تو اراکین لیں گے، سی ای او نے کہا میں بورڈ میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں جس پر علی رضا گیلانی نے کہا آپکو اراکین پارلیمنٹ سے بات کرنے کا طریقہ ہی نہیں۔
=====================

کراچی والوں پر نیا بوجھ، کے الیکٹرک کو ریکوری لاسز بلوں میں وصول کرنے کی اجازت مل گئی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کے روز ایک بڑے پالیسی فیصلے کے تحت کے-الیکٹرک کو اپنے صارفین سے غیر وصول شدہ بلز کی وصولی کو بجلی کے نرخوں میں شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جو 24-2023 میں 6.75 فیصد کے ریکوری شارٹ فال سے شروع ہو کر 30-2029 تک بتدریج 3.5 فیصد تک کم ہو جائے گا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق نیپرا نے مالی سال 24-2023 کے لیے کے الیکٹرک کا بنیادی ٹیرف 40 روپے فی یونٹ مقرر کیا ہے، جو کہ 26-2025 کے لیے 10 سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے تقریباً 28 روپے فی یونٹ کے قومی اوسط نرخ سے 40 فیصد زیادہ ہے۔

ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے نرخوں کے درمیان اس فرق کو وفاقی بجٹ کے ذریعے سبسڈی کی صورت میں ٹیکس دہندگان پر منتقل کیا جاتا ہے، جسے ’ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی‘ کہا جاتا ہے۔

نیپرا نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کے الیکٹرک کے لیے نرخوں کے تعین کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے پہلے سے رائج 100 فیصد بلوں کی وصولی کے تصور کو ختم کر دیا ہے، اس کے بجائے ریکوری لاسز کی ٹیرف میں وصولی کی اجازت دے دی، یہ نئی شرح 24-2023 میں 6.75 فیصد سے شروع ہو کر 2030 تک 3.5 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈسکوز (سرکاری تقسیم کار کمپنیاں) کا ٹیرف اب بھی 100 فیصد بلوں کی وصولی کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے تاہم کےالیکٹرک کے حوالے سے نیپرا کے حالیہ فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ڈسکوز کے ٹیرف میں بھی مستقبل میں اسی طرز کی تبدیلی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایماندار صارفین کو زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔

یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ اگر ڈسکوز کو بھی بلوں کی مکمل وصولی نہ ہونے کی اجازت دی گئی تو ان کی بجلی کی قیمتوں میں بھی وہی نقصان صارفین سے پورا کروایا جائے گا، جو بالآخر اُن صارفین پر بوجھ بنے گا جو بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔

نیپرا نے کہا ہے کہ بجلی کی مارکیٹ میں مناسب لیکویڈیٹی کو یقینی بنانے اور وصولیوں کے اہداف کو موجودہ زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنے کے لیے کے الیکٹرک کو ریکوری لاس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ادارے نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی سال 24-2023 میں 93.35 فیصد بلوں کی وصولی کو یقینی بنائے، جو بتدریج بڑھا کر مالی سال 30-2029 تک 96.5 فیصد کی سطح تک پہنچائی جائے گی۔

93.25 فیصد سے شروع ہونے والے ریکوری لاس الاؤنس کی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مخالفت کی، اگرچہ اس نے ٹیرف کے ذریعے نقصان کی وصولی کے الاؤنس کی حمایت کی، بظاہر اس کا مقصد سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے بھی اسی طرح کی سہولت حاصل کرنا ہے، تاہم اس نے کہا کہ وصولیوں کی شرح کو کم رکھا جائے اور اس کا آغاز 96.7 فیصد سے کیا جائے، ساتھ ہی تجارتی نقصانات کا موازنہ مؤثر کارکردگی والی کمپنیوں سے کیا جائے تاکہ معقول اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

نیپرا نے مالی سال 24-2023 کے لیے کےالیکٹرک کا اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر کیا، جس میں بجلی خریدنے کی لاگت 31.96 روپے، ترسیل کی لاگت 2.86 روپے، تقسیم کی لاگت 3.31 روپے اور سپلائی مارجن 2.28 روپے شامل ہے جبکہ گزشتہ سال کی منفی ایڈجسٹمنٹ 44 پیسے فی یونٹ رکھی گئی تاکہ مجموعی آمدنی کی ضرورت 606 ارب روپے پوری ہو سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹیرف تقریباً آدھی بجلی نیشنل گرڈ سے حاصل کرنے کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے، ورنہ کےالیکٹرک کا بنیادی ٹیرف کہیں زیادہ ہوتا۔

یہ فیصلہ مجموعی طور پر 17 ہزار 768 گیگا واٹ آور بجلی کی ترسیل پر مبنی ہے، جس میں 48 فیصد بجلی نیشنل گرڈ سے، 42 فیصد کےالیکٹرک کی اپنی پیداوار سے اور 9.9 فیصد نجی سپلائرز سے حاصل کی جائے گی۔

نیپرا نے مالی سال 24-2023 کے لیے کےالیکٹرک کی کل آمدنی کی ضرورت 606.92 ارب روپے مقرر کی ہے، جس میں 34.68 ارب روپے کا سپلائی مارجن، 5.91 ارب روپے آپریشن اور مینٹیننس الاؤنس، 1.244 ارب روپے کا منفی ورکنگ کیپیٹل ایڈجسٹمنٹ، 36.25 ارب روپے کا ریکوری لاس، 40.92 ارب روپے کا مجموعی منافع اور 6.69 ارب روپے کی منفی گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد خالص منافع 34.68 ارب روپے شامل ہے۔

ریگولیٹر نے نوٹ کیا کہ کےالیکٹرک کے پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف (23-2017) میں ریکوری لاس کی اجازت نہیں دی گئی تھی بلکہ مخصوص شرائط کے تحت صرف اصل میں ناقابلِ وصول بلوں کو لکھنے کی اجازت تھی۔

چونکہ مالی سال 24-2023 مکمل ہو چکا ہے اور مالی سال 25-2024 تقریباً 10 مہینے گزر چکا ہے، مالی سال 2024 میں کے الیکٹرک کی اصل ریکوری 91.5 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2025 کے اختتام پر یہ 90.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ان کم وصولیوں کا مالی اثر بالترتیب تقریباً 40 ارب اور 57 ارب روپے بتایا گیا ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ کے-الیکٹرک کو اس کی ڈسٹریبیوشن سروس کے بدلے میں تقریباً 21.6 ارب روپے کی واپسی کی اجازت دی گئی ہے، اور اگر ریکوری لاس کی اجازت نہ دی جائے تو کمپنی ابتدائی 2 سالوں میں نقصان برداشت کرے گی، جو نہ صارفین کے مفاد میں ہے اور نہ ہی بجلی کے نظام کے لیے موزوں ہے۔

نیپرا نے وضاحت کی کہ اگرچہ سرکاری ڈسکوز کو ریکوری لاس کی اجازت نہیں، مگر وفاقی حکومت ان کی ناکامیوں کے ازالے کے لیے سرچارج لگا سکتی ہے، کے الیکٹرک کے لیے یہ راستہ دستیاب نہیں کیونکہ وہ صرف ریگولیٹڈ ٹیرف ہی وصول کر سکتی ہے۔

نیپرا نے کہا کہ نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کے تحت اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وصولیوں کے اہداف پر نظرثانی کرے اور مارکیٹ کی حقیقتوں کے مطابق ٹیرف کا تعین کرے تاکہ بجلی کی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی برقرار رہے۔ بین الاقوامی مثالیں بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 100 فیصد بل وصولی کو لازمی شرط نہیں سمجھا جاتا۔

شمسی منصوبے
علاوہ ازیں، نیپرا نے کے الیکٹرک کے دو شمسی توانائی منصوبوں کی بولی کے نتائج کی بھی منظوری دے دی ہے، جن کی مشترکہ پیداواری صلاحیت 150 میگاواٹ ہے، ان منصوبوں کے نرخ پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم قرار دیے گئے ہیں۔

فیصلے کے مطابق ماسٹر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ نے 50 میگاواٹ کے وندر منصوبے کے لیے فی یونٹ 11.6508 روپے (4.0363 امریکی سینٹ) اور 100 میگاواٹ کے بیلا منصوبے کے لیے 11.21 روپے (3.8826 امریکی سینٹ) کی کم ترین بولی دی ہے۔

یہ دونوں منصوبے موجودہ مہنگی پیداوار کو تبدیل کرکے قومی اور کےالیکٹرک کے گرڈز میں لاگت اور زرمبادلہ کی بچت لائیں گے۔ نیپرا کے مطابق ایندھن کے متبادل کے نتیجے میں توانائی کی لاگت میں سالانہ 2.3 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جو منصوبوں کی میعاد کے دوران مجموعی طور پر 57.8 ارب روپے بنتی ہے۔ مزید یہ کہ ان منصوبوں سے سالانہ ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہو گی، جو مجموعی طور پر 4 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
=========================

بجلی کی بندش کیخلاف تاجروں کا شاہین کمپلیکس کے قریب احتجاج، ٹریفک متاثر
کراچی(اسٹاف رپورٹر) بجلی کی بندش کے خلاف جامع کلاتھ اور دیگر مارکیٹوں کے تاجروں نے شہر کے اہم علاقےشاہین کمپلیکس کے قریب احتجاج کیا ، مظاہرین نے آئی آئی چندر ریگر روڈ جانے والی سڑک بلاک کردی،احتجاج کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ جانے والی سڑک بند ہوگئی جس کی وجہ سے اطراف کی شاہراہوں پر ٹریفک شدیدمتاثر ہے اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں،مظاہرین کا کہنا تھا کہ زیادہ لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار شدید متاثر ہے، ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ جامع کلاتھ اور ملحقہ علاقوں میں معمول کے مطابق بجلی کی فراہمی جاری ہے، جامع کلاتھ اور ملحقہ علاقوں میں عدم ادائیگیوں کے باعث واجب الادا رقم 9 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ علاقے میں ہونے والی بجلی چوری اور نقصانات کی شرح پر منحصر ہے ۔
=================

کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اہل کراچی کا خون چوس رہی ہے، منعم ظفر
کراچی(اسٹاف رپورٹر )امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ، پانی کے بحران ودیگر عوامی مسائل کے حوالے سے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اہل کراچی کا خون چوس رہی ہے،بجلی چوری ہورہی ہے تو چوروں کو پکڑنا حکومت، نیپرا اور کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے،ستم بالائے ستم اسے نوازا جارہا ہے،7سالہ ملٹی ائیر ٹیرف کی منظوری کے نتیجے میں ایک جانب 3روپے 34پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوگادوسری جانب ڈالر بیسڈ ریٹ مقرر کرنے سے جیسے جیسے ڈالر بڑھے گا بجلی کے بل میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا، اس سب کی ذمہ دار نیپرا،پاور ڈویژن،وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت ہیں، جماعت اسلامی کا مشاورتی عمل جاری ہے، اگر کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو عوام آئی بی سیز،چوکوں اور چوراہوں کے ساتھ نیشنل ہائی وے،سپر ہائی وے،شاہراہ اورنگی و شاہراہ کورنگی بند کردیں گے اورکے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے بھی دھرنا دیا جائے گا، حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک ناقص کارکردگی و نااہلی کا نوٹس لے اور پابند کرے کہ وہ کراچی کے شہریو ں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرے،جماعت اسلامی نے سندھ ہائی کورٹ میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پٹیشن دائر کردی ہے۔
===================
KEکی سپلائی ٹیرف سے متعلق درخواست پر فیصلہ جاری
کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیپرا نےکے الیکٹرک کی سپلائی ٹیرف سے متعلق درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔کے الیکٹرک اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ کے الیکٹرک کے جنریشن ٹیرف (2024) اور حالیہ ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن ٹیرف کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔ اب کمپنی اپنی سرمایہ کاری منصوبہ 2030 کے جائزے کے بروقت اختتام کی منتظر ہے‘نیپرا کا یہ فیصلہ کے الیکٹرک کے طویل مدتی سرمایہ کاری منصوبہ 2030 کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد ترسیلی و تقسیمی نظام میں نقصانات میں مزید کمی، صارفین کی تعداد میں اضافہ، اور موجودہ و مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے کے – اعلامیے میں کہا گیا کہ نجکاری کے بعد سے اب تک کے الیکٹرک کراچی کے بجلی نظام میں 4 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔