سیاحت کے فروغ میں میڈیا کا کلیدی کردار، سیمینار میں تجاویز پر زور

سیاحت کے فروغ میں میڈیا کا کردار ،کے موضوع پر سیمینار کا کامیابی سے انعقاد ، مقررین کا سیاحت کے فروغ کے لیے مزید اقدامات پر زور ، پاکستان قدرتی طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش ملک ہے پاکستان سیاست پر توجہ دیکھ کر کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے ، دنیا کے مختلف ممالک جن میں تھائی لینڈ ملائشیا سنگاپور اپنی سیاحت سے معیشت کو مستحکم کیے ہوئے ہیں پاکستان بھی اپنی معیشت کے لیے سیاحت کے شعبے پر مزید توجہ دے کر کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے ۔پاکستان میں سیاحت کے لیے مختلف سرکاری ادارے خاص طور پر پاکستان ٹورزم کارپوریشن ڈیویلپمنٹ پی ٹی ڈی سی اور سندھ میں سندھ ٹورزم ڈیویلپمنٹ ایس ٹی ڈی سی ، پتھم جیسے ادارے کافی محنت کر رہے ہیں پی ٹی ڈی سی کے مینجنگ ڈائریکٹر افتاب الرحمن رانا کی خدمات قابل ستائش ہیں وہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں ان کے اقدامات قابل تعریف ہیں ۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے سیمینار سیاحت کے فروغ میں میڈیا کے کردار ،کا انعقاد میڈیا سروسز انٹرنیشنل اور جیوے پاکستان نیوز ویب سائٹ کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا میڈیا سروسز انٹرنیشنل گزشتہ 20 برس سے سیاحت کے فروغ کے لیے سیمینار اور پروگرام منعقد کرتی ا رہی ہے سال 2006 میں آرٹس کونسل میں میڈیا سروسز انٹرنیشنل نے اپنے چیف ایگزیکٹو محمد وحید جنگ کی سرپرستی میں سیمینار منعقد کرانے کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں اس وقت کے صوبائی وزیر شبیر قائم خانی اور دیگر عمائدین نے شرکت کی اور مقررین نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ پر زور دیا ۔ حالیہ سیمینار میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا گیا میڈیا پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور پاکستان کو قدرتی طور پر حسین وادیاں اور مناظر ملے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے یہ دنیا بھر کے سیاح کھنچے چلے اتے ہیں اگر میڈیا کے ذریعے ان مقامات کے صحیح طریقے سےتشہیر کی جا سکے اور پاکستان کے سافٹ امیج کو ابھارا جائے تو دنیا بھر میں پاکستان کے لیے سیاحت کا بہت پوٹینشل ہے پاکستان قدرتی حسین نظاروں سے مالا مال ہے اور پاکستان میں سارا سال سیاحت کے حوالے سے بہت سے مواقع اور سیاحوں کے لیے کشش موجود ہے جسے بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے کچھ ضروری اقدامات کیے جائیں اور ٹورزم کے حوالے سے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان میں سیاحت کو بہت تیزی کے ساتھ فروغ دیا جا سکتا ہے سیاہوں کے لیے اچھے ہوٹل اور اچھا انفراسٹرکچر مختلف علاقوں میں اگر ہم ترتیب دے سکیں اور اس کو بہتر کر سکیں اور اس کا خیال رکھ سکیں تو بہت اچھا ہوگا دنیا کے دیگر ممالک اگر ایسا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے پاکستان میں بہت ذہین باصلاحیت اور قابل لوگ ہیں اور وہ سیاحت کے فروغ کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں پاکستان میں نارتھ زون اور ساؤتھ زون میں ٹورزم کے وسیع مواقع موجود ہیں ایک طرف ہمارے پاس دنیا کے حسین اور بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں اور ان کے درمیان میں خوبصورت جھیلیں ہیں اور شاندار وادیاں ہیں بہترین موسم ہے دوسری طرف ہمارے پاس ریگستان ہے پھر ہمارے پاس سمندر ہے ہمارے پاس تاریخی ورثہ ہے ہمارے پاس مذہبی اور میڈیکل ٹورزم کے بڑے مواقع ہیں ہمارے ملک میں اسپورٹس ایونٹس ہوتے ہیں ہمارے پاس بہت سے ثقافتی ایونٹس ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں پاکستان سیاحت کے حوالے سے بہت سے قدرتی نظاروں سے مالا مال ہے اور ہمیں اس حوالے سے کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں ائے گی اگر ہم اس حوالے سے انفرادی اور قومی سطح پر کوششوں اور اگاہی کو فروغ دیں تو ہماری سیاحت بہت تیزی کے ساتھ اوپر جا سکتی ہے

سیاحت کے فروغ میں میڈیا کا کلیدی کردار، سیمینار میں تجاویز پر زور

“سیاحت کے فروغ میں میڈیا کا کردار” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے پاکستان کو سیاحتی سپر پاور بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع سے مالا مال ہے، جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیمینار کا انعقاد میڈیا سروسز انٹرنیشنل اور جیوے پاکستان نیوز ویب سائٹ کے اشتراک سے کیا گیا، جس میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، صحافیوں اور سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر میڈیا پاکستان کے سیاحتی مقامات کو موثر طریقے سے پیش کرے اور ملک کا مثبت امیج اجاگر کرے تو یہ شعبہ معیشت میں انقلاب لاسکتا ہے۔

پی ٹی ڈی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر افتاب الرحمن راناکہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے شمالی علاقہ جات کی وادیوں، بلند پہاڑوں، صحرائے تھر کے دلکش مناظر، سندھ کے تاریخی مقامات اور جنوب میں ساحلی سیاحت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی کوششیں، خاص طور پر سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے حوالے سے، قابل تعریف ہیں۔

میڈیا سروسز انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو محمد وحید جنگ نے بتایا کہ ان کی تنظیم گزشتہ 20 سال سے سیاحت کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے 2006 میں ہونے والے ایک اہم سیمینار کا حوالہ دیا، جس میں اس وقت کے صوبائی وزیر شبیر قائم خانی نے شرکت کی تھی اور سیاحت کو ترجیح دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی۔

شرکاء نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور کی طرز پر سیاحت کو معیشت کا اہم ستون بنانا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاحوں کے لیے معیاری ہوٹلز، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔

سندھ ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (ایس ٹی ڈی سی) جیسے اداروں کی کاوشیں بھی سراہی گئیں، جو تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے میں مصروف عمل ہیں۔

نتیجہ:
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر میڈیا، حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو پاکستان سیاحت کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ ملک میں مذہبی سیاحت، ایڈونچر ٹورزم، میڈیکل ٹورزم اور ایکو ٹورزم جیسے شعبوں میں بھی بے پناہ مواقع موجود ہیں، جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کی سیاحت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کا عزم کیا۔