کراچی میں قائم کردہ 53 میں سے 52 غیرقانونی مویشی منڈیاں ختم کردی گئیں، 89 افراد گرفتار


کراچی میں حکام نے کریک ڈاؤن میں تیزی لاتے ہوئے 53 میں سے 52 غیرقانونی مویشی منڈیوں کو ختم کرکے 89 افراد کو گرفتار کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز شائع ہونے والی ایک خبر کے جواب میں حکام نے بتایا کہ سب سے بڑا آپریشن ضلع شرقی میں کیا گیا ہے، جہاں قربانی کے جانوروں کی 33 غیر قانونی منڈیاں بند کی گئیں اور انہیں لگانے اور چلانے کے الزام میں 68 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں کُل 89 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 40 مقدمات درج کیے گئے ہیں، حکام نے بتایا کہ ضلع کیماڑی کے بلدیہ ٹاؤن کی حدود یوسف گوٹھ میں لگائی گئی ایک غیرقانونی منڈی تاحال جزوی طور پر فعال ہے، کیونکہ عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

ضلع وار تفصیل فراہم کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ضلع جنوبی میں 6، کورنگی اور سینٹرل میں 5،5، جبکہ ضلع کیماڑی میں ایک غیر قانونی مویشی منڈی کو ختم کیا گیا۔

دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کے لیے سب سے بڑا جاری چیلنج وہ چھوٹے بیوپاری ہیں جو شام کے بعد رہائشی علاقوں کی گلیوں میں قربانی کے جانوروں کے ساتھ نمودار ہوجاتے ہیں۔

ڈان اخبار نے گزشتہ روز اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں غیر قانونی مویشی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے پیدل چلنے والوں اور رہائشیوں کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے شامیانے لگا کر بجلی، سیکیورٹی گارڈز اور داخلی راستوں سے منظم انداز میں کئی غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کی گئی تھیں۔

گزری فلائی اوور کے نیچے، گلستان جوہر میں دبئی پیلس کے عقب میں پلاٹ نمبر 39 اور بلاک 6 میں موسمیات کے قریب ملحقہ گراؤنڈ، اسکیم 33 میں یوسف گوٹھ اور ضلع کیماڑی میں حب ریور روڈ پر رئیس گوٹھ اور ضلع جنوبی میں کالا پُل کے قریب غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کی گئی ہیں۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی، جنہوں نے حال ہی میں ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے غیر قانونی مویشی منڈیوں اور سڑک کے کنارے مویشیوں کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی، کہا تھا کہ شہر کی انتظامیہ منڈی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور میونسپل کے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔