
عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر علی محمد خان کی پولیس افسران سے تلخ کلامی
بانی پی ٹی آئی سے وکلاء اور فیملی کی ملاقات کے معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کی راولپنڈی میں داہگل ناکے پر پولیس افسران سے تلخ کلامی ہوگئی۔
علی محمد خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کا رکن ہوں، آپ کے پاس روکنے کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ ہمارے خلاف پنجاب حکومت کا کوئی آرڈر دکھائیں، آپ کس قانون کے تحت ہمیں روک رہے ہیں۔
علی محمد خان نے کہا کہ کیا آئی جی پنجاب یا سیکریٹری داخلہ نے آپ کو ہمیں روکنے کا حکم دیا ہے۔
========================
ہم 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف تھے، اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکیں گے: علی امین گنڈا پور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ 8 فروری کا الیکشن غداروں نے مل کر چوری کروایا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے ہم مخالف تھے اور اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عید سے قبل 5 تاریخ کو سماعت کےلیے کیس مقرر کیا گیا ہے، سماعت کے موقع پر بتائیں گے کہ کیسے پاکستانی قانون سے کھیلا جا رہا ہے، ایسا کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا، ہماری تحریک جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہم تھے ہیں اور رہیں گے، بانیٔ پی ٹی آئی ہماری اور ہمارے قوم کے بچوں کے لیے جنگ لڑ رہا ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کے اوپر کوئی کیس نہیں انہیں بے گناہ کو جیل میں ڈالا ہوا ہے، ان کو شرم آنی چاہیے جو مینڈیٹ چوری کر کے بیٹھے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ہمارے صوبے میں بانیٔ پی ٹی آئی کی حکومت ہے جو ان کی ہدایت کے مطابق ہے۔
کے پی حکومت کو عوام سے براہ راست ٹکراؤ کی حکمت عملی مہنگی پڑے گی: بلاول بھٹو
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ایک صوبے کو تسلیم کیا ہے، انہوں نے اپنے ٹارگٹ حاصل کیے ہیں، وفاقی حکومت نے کیوں نہیں کچھ کیا سارے فارم 47 والے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 200 ملین کا سر پلس ہے، سندھ میں کیا ہو رہا ہے سر پلس کیوں نہیں آیا، ریڈزون کے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں ہم سیاسی پارٹی ہیں، ہم خود کہتے ہیں احتجاج ہونے چاہئیں ہم نے کسی کو نہیں روکا، جے یو آئی نے پانچ جلسے کیے ہم نے سیکیورٹی دی۔























