
شہریوں نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک والو اللہ سے ڈرو ۔ سخت گرمی کے اس موسم میں کمزور بوڑھے ضعیف بزرگوں اور معذور افراد کی بد دعاؤں سے بچو ۔ کہیں کہیں گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے ان کو مت ستاؤ ۔کچھ تو ترس کھاؤ کچھ تو رحم کرو ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کو تو اسرائیل کے یہودیوں نے تباہ کیا ہے ۔ مظلوم کشمیریوں کو مودی کی فاشسٹ حکومت کی شر انگیزیوں نے تباہ کیا ہے لیکن کراچی والوں کو کہ الیکٹرک کی سنگ دلی اور بے رحمی نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ہر طرح کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے راتوں کی نیند اڑ گئی ہے دن کا سکون چلا گیا ہے بچے پیپرز کی تیاری نہیں کر پاتے ان کی پڑھائی کا پورا نظام تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے یہ کہ الیکٹرک کا عذاب کراچی والوں پر مسلط ہے یہ کب تک رہے گا کے الیکٹرک والوں کو کیا اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے اتنی سخت گرمی میں اتنی ہیٹ ویو میں انہیں ذرا خیال نہیں اتا کہ گنجان اباد علاقوں میں تنگ اور تاریک گلیوں میں چھوٹے چھوٹے گھروں میں لوگ ایسے رہتے ہوں گے ان کا سانس بند ہو جائے گا جب بجلی بند ہو جائے گی چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہنے والے بزرگ ضعیف اور معذور افراد ایک پنکھے کی ہوا پر گزارا کر رہے ہوتے ہیں وہ پنکھا بھی کے الیکٹرک بند کرا دیتی ہے بڑا ظلم ہے یہ لوگ بڑے ظالم ہیں ان کے دل پتھر کے ہو گئے ہیں ان کو شہر کے حالات کا لوگوں کے حالات کا پتہ نہیں ہے اگر یہ سخت گرمی کے موسم میں پورا سال بل دینے والے لوگوں کو کچھ دن بغیر لوڈ شیڈنگ کے سہولت نہیں دے سکتے تو یہ کس کام کی کمپنی ہے جو لوگ سارا سال بل دیتے ہیں ان کے لیے یہ کمپنی اتنا نہیں کر سکتی کہ لوڈ شیڈنگ ختم کر دے اور اگر بل نہیں مل رہے تو یہ کس کی ناہلی ہے بل کی وصولی کے الیکٹرک کا کام ہے کہ الیکٹرک کے لوگ خود کنڈے لگا کر اچھی بستیوں کو دیتے ہیں یا اس میں ملوث پائے جاتے ہیں یا ان کے بغیر ملی بھگت کے یہ کام نہیں ہو سکتا اور اگر کے الیکٹرک کے لوگ اس ملی بھگت کا حصہ نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف ایکشن لینے سے کیوں ڈرتے ہیں کچی بستیوں کے یا جہاں بجلی چوری ہو رہی ہے ان کا کنکشن کاٹیں لیکن جو لوگ سارا سال بل ادا کرتے ہیں بروقت ادا کرتے ہیں ان کو تو بجلی دیں ۔کہ الیکٹرک اپنے ان کسٹمرز کو اعتماد بھی کھوتی جا رہی ہے جو اس پر اعتماد کرتے ہوئے باقاعدگی سے مہنگے بیل بھی جمع کراتے رہے ہیں اور اب تک کرا رہے ہیں لیکن اب ایسے کسٹمرز کے پاس بھی کہ الیکٹرک کے دفاع میں کچھ کہنے کے لیے یہ باقی نہیں بچا لوگ بہت ناراض ہیں لوگوں کے الیکٹرک کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں کچھ جملے کچھ باتیں تو کے الیکٹرک کی اعلی انتظامیہ کے کانوں تک بھی پہنچتے ہوں گے بہت افسوسناک صورتحال ہے کیا کہ الیکٹرک کے اعلی عہدے دار اس لیے ان عہدوں پر ائے تھے کہ لوگوں سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی عزت افزائی کروائیں یا ان کی باتیں سنیں ۔ وہی تو صورتحال یہ ہے کہ لوگ کے الیکٹرک والوں کو اچھا نہیں سمجھتے بلکہ کہ الیکٹرک کا ذکر اتے ہی غصے میں ا جاتے ہیں ناراض ہو جاتے ہیں اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں کہ الیکٹرک انتظامیہ کو سوچنا چاہیے کہ حالات اس نہج پر کیوں گئے ہیں لو ہمیں اتنا غصہ کیوں ہے کہ الیکٹرک کی ساری نیکیاں خوب کھاتے چلی گئی ہیں ان کے الیکٹرک میں کافی سماجی بھلائی کے کام بھی کیے ہیں لیکن لوگوں کا غصہ ان سب باتوں کو بھول گیا ہے لوگوں کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ بجلی دو مسلسل بجلی دو سستی بجلی دو جتنی گرمی بڑھتی جا رہی ہے اتنا کہ الیکٹرک کا بل بھی بڑھ رہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی بھی چاہیے جن کے بغیر پنکھے کے گزارا نہیں ہے یہ الیکٹرک کے سسٹم پر یہ الیکٹرک کے سسٹم پر یقینی طور پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور اس کے لیے بھی مشکلات اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں لیکن کوئی حل تو نکالنا ہوگا ورنہ لوگ کہاں جائیں گے دیگر صوبوں میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ لوگوں نے بجلی گھروں پر حملے کر دیے اور وہاں جا کر اپنا غصہ نکالا دوڑ پھوڑ کی اور پھر بجلی خود ہی ان کرا دی لیکن ہر کسی کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے احتجاج کا بھی ایک طریقہ ہے اور یہ الیکٹرک کو بھی احساس کرنا چاہیے کہ لوگ کتنی مشکل میں ہیں کم از کم گرمی کے سخت موسم میں یا سخت دنوں میں لوڈ شیڈنگ کا دنیا کم سے کم بلکہ زیرو کرنا چاہیے























