کے الیکٹرک کے عزاب سے کب جان چھوٹے گی

کراچی والوں کے لیے کب سکون آئے گا؟

کے الیکٹرک کے عذاب سے کب جان چھوٹے گی؟ یہ سوال آج ہر کراچی والے کے دل میں ہے۔ بجلی کے بل بے تحاشہ، لوڈ شیڈنگ کی مار، اور خراب سروس نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ ہر گلی کوچے میں کے الیکٹرک کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے، مگر کوئی سننے والا نہیں۔ کیا کبھی اس شہر کے باسیوں کو سکون ملے گا؟

حال ہی میں ایک بار پھر کراچی میں طویل لوڈ شیڈنگ نے عوام کو بے چین کر دیا۔ گرمی کی شدت اور بجلی کے بغیر زندگی گزارنا دوگنا مشکل ہو گیا۔ کے الیکٹرک کے افسران ہر بار نئے بہانے بناتے ہیں، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کیا یہ کمپنی عوام کے پیسے کھا کر بھی کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتی؟

بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ مہینے بھی کئی علاقوں میں لوگوں کو غلط بل بھیجے گئے، جن پر احتجاج ہوا۔ مگر کے الیکٹرک کے اہلکاروں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ کیا یہ کمپنی کراچی والوں کو اپنا غلام سمجھتی ہے؟ کیا عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں؟

کئی علاقوں میں تو ٹرانسفارمرز کے مسائل نے صورتحال اور بھی خراب کر دی ہے۔ گھنٹوں بلکہ کئی کئی دن تک بجلی نہ ہونے کی شکایات عام ہیں۔ کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث کاروبار برباد ہو رہے ہیں، بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے، اور بیماروں کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔ کیا کوئی انصاف ملے گا؟

عوام کے شدید احتجاج کے بعد بھی کے الیکٹرک کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ وزیراعلیٰ سے لے کر مقامی نمائندوں تک سب کے وعدے محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں۔ کیا اس شہر کے لوگ ہمیشہ کے لیے کے الیکٹرک کے رحم و کرم پر رہیں گے؟ کیا کوئی ان کی آواز سنے گا؟

کے الیکٹرک کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ہر روز نئے ہیش ٹیگز ٹرینڈ ہوتے ہیں، مگر حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آتا۔ کیا کراچی والوں کے مسائل کبھی حل ہوں گے؟ یا یہ شہر ہمیشہ کے لیے کے الیکٹرک کے ظلم کا شکار رہے گا؟

اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے مزید مضبوطی سے کھڑے ہوں۔ کے الیکٹرک کو جوابدہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور عدالتیں بھی خاموش رہیں، تو پھر کراچی والوں کو خود ہی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی۔ کیونکہ کے الیکٹرک کے عذاب سے کب جان چھوٹے گی؟ یہ سوال ہر شہری کے دل میں انگاروں کی طرح سلگ رہا ہے۔