
کراچی کے عوام کا کہنا ہے: “کے الیکٹرک پر بھاری جرمانہ ہونا چاہیے!”
کے الیکٹرک نے کراچی والوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام غصے میں ہیں اور کے الیکٹرک کے کسی بھی دفاع یا وضاحت سننے کو تیار نہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کراچی کے عوام کے ساتھ ایک دھوکہ تھا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ پرائیویٹائزیشن کے بعد بجلی سستی ہو جائے گی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔ نہ صرف یونٹ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، بلکہ لوڈشیڈنگ بھی ختم ہونے کے بجائے بڑھ کر 12 سے 14 گھنٹے تک ہو گئی ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں عوام، خاص طور پر بزرگ، معذور افراد، بیمار، بچے، خواتین اور طلباء، کے الیکٹرک کی بے رحم پالیسیوں کا شکار ہیں۔ کے الیکٹرک کا رویہ شہریوں کے ساتھ انتہائی سخت اور بے درد ہے، جس پر عوام کا غصہ بالکل جائز ہے۔ کے الیکٹرک نے نہ صرف ان کی زندگیاں برباد کر دی ہیں، بلکہ ان کے گھروں کا سکون، کاروبار اور تعلیم بھی تباہ کر دی ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کو دوبارہ نیشنلائز کیا جائے یا پھر اس کا کنٹرول لے کر بجلی کی سپلائی نیشنل گرڈ کے ذریعے فراہم کی جائے۔ تقسیم کے لیے کسی دوسری کامیاب اور معروف کمپنی کو بلایا جائے۔ کے الیکٹرک سے بلنگ اور ریcovery کا نظام بھی لے لیا جائے اور کسی دوسری کمپنی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔
کراچی کے لوگ اب کے الیکٹرک کو برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں، سندھ اور وفاقی حکومت پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے: “ہمیں مسلسل، سستی اور لوڈشیڈنگ سے پاک بجلی چاہیے!”























