
“اب پاکستانی قوم پولیو وائرس کے ‘رافیل’ طیاروں کو نشانہ بنائے گی! 5 سال سے کم عمر بچوں پر حملہ آور پولیو کے خلاف 26 مئی سے ملک گیر جہاد… ہم نے بھارت کے 5 جنگی طیارے گرائے، اب پولیو وائرس کو بھی شکست دیں گے! پاکستان زندہ باد!”
سندھ میں 26 مئی سے پولیو مہم: نئے چیلنجز اور پیچھے رہ جانے والے بچوں کے سنگین سوالات
کراچی: ملک بھر میں ساڑھے چار کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی قومی مہم 26 مئی سے شروع ہو رہی ہے، لیکن سندھ بالخصوص کراچی میں والدین کا ایک بڑا طبقہ پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو والدین حکومت سندھ کی پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، ان کے لیے نئی حکمت عملی اور پلان کیا ہے؟
نااہل والدین یا ناکام حکومتی پالیسی؟
حکومت سندھ نے پولیس کے ذریعے انکار کرنے والے والدین کو دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن کیا یہ حل ہے؟ گزشتہ مہم میں سینکڑوں بچے ویکسین سے محروم رہ گئے۔ کیا ان بچوں کا کوئی ڈیٹا موجود ہے؟ کیا ان تک رسائی کے لیے کوئی مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں؟ صرف پولیس کے بل بٹے سے اعتماد کیسے بحال ہوگا؟
شہری اور دیہاتی تقسیم: ایک ہی مسئلہ، دو مختلف چیلنجز
گنجان آباد کچی آبادیوں سے لے کراچی کے پوش علاقوں تک، والدین یا تو ویکسین کی افادیت پر شک کرتے ہیں یا مذہبی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ کیا حکومت نے ان کے اعتراضات کا سائنسی اور مذہبی لحاظ سے جائزہ لیا ہے؟ کیا علماء اور ڈاکٹرز کی مشترکہ کمیٹی بنا کر ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟
زیرو ٹالرنس پالیسی: کیا یہ تشدد کا راستہ ہے؟
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر صحت ڈاکٹر عزرا فضل چوہان نے “زیرو انکار” پالیسی کا اعلان کیا ہے، لیکن کیا یہ صرف دھمکیوں تک محدود ہے؟ گزشتہ مہموں میں جن افسران اور رضاکاروں کی غفلت سامنے آئی، ان کے خلاف کونسی کارروائی ہوئی؟ کیا احتساب کا کوئی ٹھوس نظام موجود ہے؟
خانہ بدوشوں کا المیہ: کیا ان کا کوئی ریکارڈ ہے؟
خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں تک رسائی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیا ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے کوئی ڈیجیٹل نظام بنایا گیا ہے؟ یا ہر مہم میں یہی ہوتا رہے گا کہ یہ بچے ویکسینیشن سے محروم رہیں گے؟
2024-25 کے اہداف: کیا ہم ناکام ہو رہے ہیں؟
حکومت کے دعووں کے باوجود، پچھلی مہموں کے نتائج مایوس کن رہے۔ کیا اس کی ذمہ دار صرف نگران حکومت تھی؟ منتخب حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ کیا صرف پریس کانفرنسز اور بیان بازی سے پولیو ختم ہو جائے گی؟
عالمی سطح پر شرمساری: کب ختم ہوگی؟
پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس لعنت سے بچا پائیں گے؟ یا ہر سال یہی دہرایا جاتا رہے گا کہ “اب کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی”؟
آخری بات: کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں؟
پولیو کے خلاف جنگ صرف ویکسین کی بوتلوں سے نہیں، بلکہ عوامی شعور، حکومتی دیانتداری اور احتساب سے جیتی جائے گی۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟
نوٹ: اگر آپ کے علاقے میں کوئی بچہ ویکسین سے محروم رہ جائے، تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کریں۔ یہ صرف ایک ویکسین نہیں، ہماری قومی ذمہ داری ہے۔























