پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی انکوائری رپورٹ کو غیر آئینی، یکطرفہ اور غیر سائنسی قرار دے دیا۔


پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی انکوائری رپورٹ کو غیر آئینی، یکطرفہ اور غیر سائنسی قرار دے دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر کامران سعید، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر کامران احمد، اور دیگر سینئر عہدیداران نے کہا کہ یہ انکوائری رپورٹ مخصوص نتائج کے تحت تیار کی گئی ہے، جس میں سائنسی حقائق کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورولوجسٹ اور نیفرولوجسٹ ایسوسی ایشن نے حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ موجودہ ڈائیلسز مشینیں، بالخصوص ملتان میں نصب مشینیں، Auto Cleaning کی جدید سہولت سے لیس ہیں جو ایچ آئی وی سمیت دیگر جراثیم کو مؤثر طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پی ایم اے کے نمائندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کی موجودگی میں کسی بھی ہسپتال میں مریضوں کی نگہداشت سے متعلق تمام اختیارات اور قوانین صرف ہیلتھ کیئر کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں، لہٰذا اس سے ہٹ کر کوئی انکوائری قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔
پی ایم اے نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انکوائری میں نشتر میڈیکل کالج کے پرنسپل اور ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جیسے کلیدی انتظامی عہدیداروں کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ وائس چانسلر جو صرف تعلیمی امور کی سربراہ ہیں، انہیں نشانہ بنایا گیا۔ یہ انکوائری شفافیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کے اسباب میں غیر محفوظ انتقال خون، اتائیت، استعمال شدہ سرنجیں اور جنسی بے راہ روی شامل ہیں، اور اس میں کئی محکموں جیسے ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام، انتقال خون اتھارٹی، اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داریاں نمایاں ہیں۔
پی ایم اے نے واضح کیا کہ اگر حکومت واقعتاً ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہتی ہے تو جدید جینیٹک سیکوینسنگ ٹیسٹ کے ذریعے سائنسی بنیاد پر تحقیق کی جا سکتی تھی، جسے نظر انداز کر کے انکوائری کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبات پیش کیے جن کے مطابق غیر ضروری جوائنٹ انکوائری کمیٹی فوری طور پر ختم کی جائے۔جدید سائنسی بنیادوں پر جینیٹک سیکوینسنگ ٹیسٹ کروایا جائے۔ متعلقہ اداروں (انتقال خون اتھارٹی، ایچ آئی وی ایڈز پراجیکٹ، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن) کی کارکردگی کی انکوائری کروائی جائے۔
اتائیت کے خلاف جامع اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تحصیل کی سطح تک ڈائیلسز سہولت، ادویات اور ٹیسٹ دستیاب کروائے جائیں اور
ایچ آئی وی رجسٹرڈ مریضوں کی فیملی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔پریس کانفرنس میں
ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،
ڈاکٹر نادر خان،
ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم،
پروفیسر ڈاکٹر مسعود الراؤف ہراج،ڈاکٹر ذوالقرنین حیدر،
پروفیسر ڈاکٹر شاہد شوکت ملک – صدر پی ایم اے لاہور اورپروفیسر ڈاکٹر واجد علی – جنرل سیکریٹری پی ایم اے لاہور بھی موجود تھے۔