سکول کی طالبہ کی دل دہلا دینے والی موت: گرمی اور غفلت کا المناک نتیجہ

سکول کی طالبہ کی دل دہلا دینے والی موت: گرمی اور غفلت کا المناک نتیجہ

راولپنڈی کے ایک نامی گرامی اسکول کی 10ویں جماعت کی طالبہ اور مورگہ کی رہائشی 12 مئی 2025 کو صبح کی اسمبلی کے دوران گر کر جان کی بازی ہار گئی۔ واضح طبی علامات کے باوجود کہ وہ شدید ایمرجنسی کی شکار تھی، اسکول انتظامیہ نے فوری اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں طالبہ کو دل کا دورہ پڑا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، طالبہ نے ہلکی آوازیں نکالنا شروع کیں، اس کے ہاتھ پاؤں مڑ گئے، اور آنکھیں پیچھے ہٹ گئیں—جو کہ میڈیکل ایمرجنسی کی واضح نشانیاں تھیں۔ لیکن اساتذہ نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے “ناشتہ نہیں کیا ہوگا” جیسے غیر سنجیدہ تبصرے کیے۔ ایمبولینس کو فوری طور پر نہ بلایا گیا، حالانکہ اسپتال محض 7-8 منٹ کی دوری پر تھا۔ اسکول نے 20 منٹ تک انتظار کرنے کے بعد والدین کو اطلاع دی، جو خود اسے اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

یہ دردناک واقعہ نہ صرف اسکولوں میں ہنگامی طبی سہولیات کی شدید کمی کو بے نقاب کرتا ہے، بلکہ انتہائی گرم موسم میں بچوں کو دھوپ میں بے سایہ کھڑا کرنے کی بے حسی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ موسم کی شدت اور گرمی کی لہر کے باوجود بچوں کو طویل اسمبلیوں میں کھڑا رکھنا انتظامیہ کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس المیے کے بعد فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک بھر کے اسکولوں میں ہنگامی طبی انتظامات اور موسمی حوالے سے پالیسیوں کو سختی سے نافذ کیا جا سکے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اتنی گرمی میں بچوں کو بغیر شیلٹر کے کھلی دھوپ میں کھڑا کرنا بھی ایک قسم کی زیادتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی بچیاں بھی کئی دنوں سے اسکول نہیں جا رہیں کیونکہ چھت پر ہونے والی اسمبلی میں بچیاں 20 منٹ تک شدید گرمی میں کھڑی رہتی ہیں۔

یہ سوال اٹھنا ضروری ہے کہ کیا پڑھے لکھے اور باشعور سمجھے جانے والے ادارے واقعی بچوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں، یا صرف رسمی پالیسیوں تک محدود ہیں۔ اس واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ پر سخت تنقید ہو رہی ہے، اور عوامی سطح پر اس بات کا مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔