اقتدار کی سیاست میں گم ذاتی عیش و عشرت۔۔۔

یاسمین چانڈیو۔۔۔
==========

سندھ اسمبلی میں حال ہی میں پیش کیا گیا وہ بل، جس کے تحت اراکین اسمبلی کے لیے جم، سوئمنگ پول، بیوٹی پارلر اور دیگر تفریحی و آرائشی مراکز کی سہولیات فراہم کرنے کی تجویز دی گئی، اس کا مقصد بالکل واضح ہے: حکمرانوں کو عوامی فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، ان کی ساری فکر صرف اپنے آرام، آسائش اور ذاتی عیاشیوں کی ہے، جو ان کے پاس پہلے ہی کم نہیں تھیں۔ یہ بل نہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران عوام سے کتنے دور ہو چکے ہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے آرام کے لیے کسی بھی قسم کا قانون بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔
سندھ کے اسمبلی ممبران جو پہلے ہی بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں، آج بھی عوام کی بنیادی ضروریات کو پس پشت ڈال کر صرف اپنی زیبائش اور راحت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ جب ملک میں بے روزگاری عروج پر ہو، صحت کی سہولیات زبوں حالی کا شکار ہوں، تعلیم یتیم ہو، اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ ہو، تب اسمبلی میں جم، سوئمنگ پول اور بیوٹی پارلر کے لیے بل پیش کرنا بدترین سیاسی بے حسی، اخلاقی زوال اور قومی تباہی کی علامت ہے۔
سندھ کی موجودہ معاشی حالت اس قدر نازک ہے کہ اسپتالوں میں دوائیں ناپید ہیں، اسکولوں میں اساتذہ کی قلت ہے، اور سڑکیں تباہ حال۔ اس کے باوجود حکمران طبقے کے لیے نئی ایئرکنڈیشنڈ دفاتر، مہنگی گاڑیاں اور آرام دہ زندگی کا بندوبست اولین ترجیح بنا ہوا ہے۔ 2024 کی بجٹ رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت کے کل اخراجات کا تقریباً 25 فیصد براہ راست حکمرانوں کی آسائشات، دفتری تزئین و آرائش، اور گاڑیوں کی خریداری پر خرچ ہوا۔ اس کے علاوہ، آئندہ بجٹ سے قبل اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 75 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا، جبکہ عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف اعلانات تک بات محدود رہی، عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔
یہی ممبران جو پارلیمنٹ کے اعلیٰ ایوانوں میں قومی مفادات کی بلند و بالا باتیں کرتے ہیں، وہ درحقیقت خودغرضی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے لیے بیوٹی پارلر کی اہمیت تو ہے، مگر سندھ کے عوام کے لیے اسپتال، پانی، تعلیم اور تحفظ جیسی بنیادی سہولیات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ یہ جمہوریت ہے یا بادشاہت کا کوئی نیا چہرہ، جہاں حکمران محلوں میں رہتے ہیں اور عوام کچی جھونپڑیوں میں سسک رہے ہیں؟
حکمرانوں کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انتخابات سے قبل وہ عوام کو ایسے سنہرے خواب دکھاتے ہیں گویا سب کچھ بدل جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی چالاکیوں سے عوام کو ایسے فریب میں مبتلا کرتے ہیں کہ لوگ ان کے مگرمچھ جیسے آنسوؤں اور جھوٹے وعدوں پر یقین کر بیٹھتے ہیں۔ ووٹ لینے کے بعد وہ سانپ کی طرح رنگ بدل لیتے ہیں – جو کل عوام کے خادم تھے، وہ آج اقتدار کے نشے میں چُور، بے حس حکمران بن جاتے ہیں۔
جب ببرلو میں لوگ پانی اور زمین کے لیے دھرنا دے رہے تھے، تو حکمران احتجاج کو کچلنے کے لیے لاکھوں روپے مالیت کی ایئرکنڈیشنڈ گاڑیاں پولیس کو فراہم کرتے ہیں، تاکہ ان احتجاجیوں پر نظر رکھ کر سازش کی جائے کہ دھرنا کیسے ختم کیا جائے۔ یہ رقم کس کی تھی؟ عوام کی۔ انہی لوگوں کی، جو دھوپ میں جھلس رہے تھے، جن کے پاس نہ پانی تھا نہ علاج، جو احتجاج پر مجبور تھے۔ لیکن حکمرانوں کے لیے اُس احتجاج کا جواب ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں کا انتظام تھا۔
یہ طرزِ حکمرانی ثابت کرتی ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں عوام کی تکلیف کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر ہوتی، تو بجٹ میں غریبوں کی بنیادی ضروریات پر رقم خرچ کی جاتی، نہ کہ جم اور سوئمنگ پول جیسے تعیشات پر۔
اسمبلی کی چند خواتین اراکین کی درخواست پر بیوٹی پارلر کی تجویز پیش کی گئی۔ شاید دنیا کی کسی اور جمہوریت میں ایسی بے حسی کی مثال نہ ملے۔ جہاں دیہات کی عورتیں ماں بننے سے پہلے موت سے لڑ رہی ہوں، جہاں زچگی کے وقت اسپتال پہنچنے کے لیے ایمبولینس بھی میسر نہ ہو، وہاں اقتدار میں بیٹھی خواتین اپنے لیے بیوٹی پارلر کے بل کی فکر میں ہیں۔
کتنی شرمناک بات ہے!
یہ اخلاقی ناکامی نہ صرف سیاسی بددیانتی کی علامت ہے، بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو صرف اپنے چہرے کی خوبصورتی کی فکر ہے، جبکہ عوام کا چہرہ بھوک، بیماری، اور غربت کے باعث مرجھا چکا ہے۔
سندھ میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، جہاں ہر سال سینکڑوں لوگ لُو لگنے سے مر جاتے ہیں۔ مگر اسمبلی کے اراکین، جو ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر “عوامی نمائندگی” کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے لیے گرمی کا مطلب صرف بجلی کے زیادہ بل ہیں۔ جبکہ غریبوں کے لیے یہ موت کی ایک لہر ہے۔
ایک طرف لوگ بجلی کے بغیر راتیں گزار رہے ہیں، تو دوسری طرف اسمبلی میں جنریٹر، سولر پینل، اور ٹھنڈی ہوا کے لیے بجٹ مختص کیا جا رہا ہے۔ کیا ایسی تکلیفوں سے بے نیاز حکمرانی کو جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟ یا پھر یہ ایک بے رحم مذاق ہے؟
سندھ کے بجٹ میں جو رقم تعلیم، صحت، پانی یا روزگار کے لیے مختص کی جاتی ہے، اس کا بڑا حصہ صرف فائلوں میں محدود رہتا ہے یا ٹھیکیداروں کی نذر ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بغیر اسکول، بغیر علاج اور بغیر تحفظ کے جیتے ہیں۔ جبکہ حکمران طبقے کے لیے فنڈ ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں – چاہے دفتر کی مرمت ہو یا سوئمنگ پول کی تعمیر۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق، سندھ کے دیہی علاقوں میں 70 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں۔ اس کے باوجود حکمران طبقے کے لیے جم کی مشینیں اور معطر بیوٹی پارلر کی تیاری میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ وسائل کی اس قدر غیر منصفانہ تقسیم سیاسی جرم کے مترادف ہے۔
کیا کبھی حکمرانوں نے عوام سے پوچھا کہ کیا ان کے لیے جم اور سوئمنگ پول ضروری ہیں؟ کیا عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں نے اپنے حلقے میں کوئی اسپتال بنایا ہے؟ کیا کسی رکنِ اسمبلی نے اپنی تنخواہ سے کوئی اسکالرشپ جاری کی ہے؟ نہیں۔ کیونکہ عوام صرف ووٹ کے وقت یاد آتے ہیں، باقی وقت یہ لوگ صرف تصویروں اور تقریروں میں عوامی بنتے ہیں۔
سندھ کے عوام کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ جنہیں وہ ووٹ دے کر اقتدار میں پہنچاتے ہیں، وہ صرف اپنے مفاد کا سوچتے ہیں۔ اسمبلی کے بل، فیصلے اور پالیسیاں صرف اپنی آسائشات کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ جم، بیوٹی پارلر، سوئمنگ پول، نئی گاڑیوں کے ٹینڈرز – یہ سب اس دلیل کے ساتھ کہ “میمبر بھی انسان ہیں”۔ گویا عوام انسان ہی نہیں!
اگر یہی روش جاری رہی، تو حکمرانی کی عمارت عوام کی محرومی کے زلزلے میں زمیں بوس ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ ریاست عوام کے وسائل سے چلتی ہے – نہ کہ حکمرانوں کی جیب سے۔ اور اگر وسائل کی تقسیم میں انصاف نہ ہوا، تو یہ ریاست عوام کی حمایت کھو دے گی۔
سندھ اسمبلی کے اراکین، مرد ہوں یا خواتین، اپنے محلوں، گاڑیوں، دفتروں اور پارلروں سے باہر نکلیں۔ اپنے حلقوں میں ایک دن بغیر پروٹوکول، بغیر گاڑی، اور بغیر ایئرکنڈیشن کے گزاریں۔ تب انہیں معلوم ہو گا کہ عوام کی زندگی میں جم سے زیادہ دوا، بیوٹی پارلر سے زیادہ چھت، اور سوئمنگ پول سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ عوام صرف ووٹ نہ دیں، بلکہ سوال کرنے کا بھی حق استعمال کریں۔ کیونکہ جمہوریت کی اصل روح صرف انتخابات میں نہیں، بلکہ عوام کی فلاح میں ہے۔