علاقوں میں پانی پہنچا دو یا کرسی چھوڑ دو

کراچی میں پانی کا بحران: عوام سڑکوں پر، میئر مرتضیٰ وہاب کے استعفے کے مطالبے
کراچی: شہر قائد میں پانی کا بحران دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے، جبکہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ گرمی کی شدت اور پانی کی قلت نے شہریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں وہ “پانی پہنچا دو یا کرسی چھوڑ دو” کے نعرے لگاتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے اور عوامی غم و غصہ
شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کے حصول کے لیے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں میں تو پانی اور بجلی دونوں کے بحران نے صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ نہ تو ان کے نلکوں میں پانی آ رہا ہے اور نہ ہی واٹر ٹینکرز کی سہولت دستیاب ہے۔ غریب طبقہ خاص طور پر متاثر ہے، جو مہنگے داموں ٹینکرز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

جماعت اسلامی نے اس بحران کو سیاسی طور پر اٹھاتے ہوئے شہر بھر میں “پانی دو، پانی دو” کے بینرز لگا دیے ہیں اور میئر کراچی کی نااہلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ انتظامیہ شہر کو پانی فراہم کرنے میں ناکام ہے تو انہیں فوراً استعفا دینا چاہیے۔

انتظامیہ کی بے حسی اور عوامی سوالات
دوسری طرف، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) اور میئر مرتضیٰ وہاب پر الزام ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے۔ عوام کا سوال ہے کہ آخر وہ ٹیکس کہاں جا رہے ہیں جو پانی کی فراہمی کے نام پر وصول کیے جاتے ہیں؟ کئی علاقوں میں ہفتوں سے پانی کی سپلائی معطل ہے، جبکہ انتظامیہ کی طرف سے کوئی واضح پلاننگ نظر نہیں آ رہی۔
صوبائی و وفاقی حکومت کی خاموشی
صوبائی اور وفاقی حکومتیں بھی اس بحران پر خاموش ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پانی کے ہنگامی منصوبوں پر کام شروع کرے اور غریب عوام کو مفت یا سستے داموں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سیاسی جماعتوں کو صرف احتجاج کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ یہ مسئلہ صرف کراچی کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
آخر کب تک پیاسا رہے گا کراچی؟
عوام کا پیغام واضح ہے: “نہ نلکوں میں پانی، نہ ووٹ آپ کے نام”۔ اگر میئر کراچی اور انتظامیہ اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی، تو عوامی غم و غصہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ گرمی کے موسم میں پانی کی قلت ایک المیہ بن چکی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکمران عوام کے مسائل سنیں یا پھر راستہ چن لیں۔























