کوئٹہ:مٹی کے طوفان اور تیز ہوائی٦ فلائی جناح کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تیز ہواؤں اور گرد و غبار کے طوفان کے باعث ہوائی اڈے پر ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
مٹی کے طوفان کے دوران فلائی جناح کی کراچی سے آنے والی پرواز نے تین بار ناکام لینڈنگ کی کوششوں کے بعد چوتھی بار کامیابی سے لینڈنگ کی جسے حکام نے ’معجزانہ لینڈنگ‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز واپس موڑ دی گئی
فلائی جناح نے تاخیر کی وجہ نہیں بتائی۔ تاہم کوئٹہ ایئرپورٹ اور سول ایوی ایشن کے ذرائع نے بتایا کہ ’مٹی کے طوفان اور تیز ہواؤں کے باعث طیارہ تقریباً ایک گھنٹہ فضا میں چکر لگاتا رہا۔ اس دوران پائلٹ نے تین مرتبہ لینڈنگ کی ناکام کوشش کی مگر ہر بار ہوا کی شدت کے باعث طیارے کو دوبارہ فضا میں بلند کرنا پڑا۔
پرواز کے ایک مسافر نے بتایا کہ لینڈنگ کی کوششوں کے دوران جہاز مسلسل جھٹکے کھا رہا تھا جس کی وجہ سے سب مسافروں میں بے چینی پھیل گئی۔ بالآخر چوتھی کوشش میں پرواز نے لینڈ کیا جس پر جہاز میں سوار مسافروں نے اطمینان کا اظہار کیا اور شکر ادا کیا۔
==================

“ہوائی کمپنیاں طیاروں کے ایندھن کے ٹینک کیوں نہیں بھرتیں؟ یہ ایوی ایشن پالیسی ہے یا منافع کی خاطر لاپروائی؟”

کوئٹہ: مٹی کے طوفان اور تیز ہواؤں کے دوران فلائی جناح کا طیارہ ایندھن کی کمی کے باعث سنگین حادثے سے بال بال بچ گیا۔ یہ واقعہ اس خطرناک عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ہوائی کمپنیاں متبادل روٹس کے لیے ضروری ایندھن ذخیرہ نہیں کرتیں، جس سے مسافروں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔

کراچی سے کوئٹہ آنے والی پرواز کے مسافروں نے شدید گھبراہٹ کا سامنا کیا جب پائلٹ نے تین بار لینڈنگ کی ناکام کوشش کی، مگر ہر دفعہ ہوائی رکاوٹوں کی وجہ سے طیارہ دوبارہ بلند ہوا۔ ذرائع کے مطابق، طیارے میں ایندھن انتہائی کم ہو چکا تھا، جس سے ایک بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق، یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ سول ایوی ایشن کی پالیسی ہے یا ہوائی کمپنیاں منافع کمانے کے لیے حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کر رہی ہیں؟ ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “طیاروں میں ایندھن کم رکھنا ایک خطرناک روایت بن چکا ہے۔” دوسری جانب پی آئی اے کی پرواز کو واپس موڑ دیا گیا، جس سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں میں تضاد سامنے آیا۔

فلائی جناح کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت نہیں آئی، لیکن مسافروں کا کہنا ہے کہ “ایندھن کی وارننگ لائٹ آن ہو گئی تھی—ہماری جان بخشی محض معجزہ تھی۔”

سول ایوی ایشن کو فوری طور پر تحقیقات کرنی چاہئیں: کیا یہ ہوائی کمپنیوں کی بے ضابطگی ہے یا پاکستانی فضائی معیارات میں خامی؟