شیشے کا شہر، کینیڈا کا قدرتی حسن اور ثقافتی تنوع کا سنگم

سچ تو یہ ہے،

شیشے کا شہر، کینیڈا کا قدرتی حسن اور ثقافتی تنوع کا سنگم

بشیر سدوزئی

برٹش کولمبیا میں آئے آج 12 مئی کو دوسرا روز ہے، رات کو ابٹ فورٹ اور وینکوور کے درمیانی قصبہ لینگلے میں قیام ہوا۔ لینگلے پہاڑی کے دامن میں چند سو گھروں پر مشتمل ایک خوب صورت قصبہ ہے۔ یہاں بڑے بڑے گھر ہیں۔ ان گھروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس قصبے کو آباد ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ ہماری رہائش سے بالکل سامنے چند گھروں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ ہم نے مسسی ساگا میں 20، 25 سال پرانے تعمیر ہوئےگھر دیکھے جو بہت چھوٹے ہیں۔ اس وقت اسی سائز کے گھر تعمیر ہوتے تھے اب کینیڈا میں بڑے گھر تعمیر ہونے لگے ہیں۔ گو کہ نصف صدی پہلے اور آج تعمیر ہونے والے گھروں کی تعمیر، بناوٹ و سجاوٹ اور آرکیٹیکچر میں کوئی واضح فرق نہیں لیکن سائز میں فرق نظر آتا ہے۔ لینگلے میں لوگوں نے ذاتی استعمال کے گھروں کے کچھ حصے کو کرایے پر دتے ہیں ۔ اس سے ان کی ماہانہ آمدنی میں خاصا اضافہ ہوتا ہے ۔ ہم نے 120 ڈالر ایک رات کرایہ پر جو گھر حاصل کیا اس میں دو کمروں کے ساتھ کچن باتھ روم اور تمام دیگر بنیادی سہولتیں شامل ہیں۔ بہت ہی آرام دہ رہائش ہے۔ لیکن اس میں ناشتہ شامل نہیں جیسا کہ بین الاقوامی ہوٹلوں کا دستور ہے کہ ناشتہ کمرہ کرایہ میں شامل ہوتا ہے، البتہ کافی کی دوچار پڑیاں رکھی ہوئی ہیں اگر کافی سے لطف اندوز ہونا چائیں تو یہ سہولت موجود ہے۔ ہم نے کرایہ کا مکان صبح آٹھ بجے خالی کر لیا۔ کیوں کہ ہمیں آج سارا دن وینکوور میں گھومنا ہے۔ ڈبل روٹی، دودھ اور پتی ہم ساتھ لے لے کر گھومتے ہیں کھانے سے زیادہ ناشتے کی فکر رہتی ہے، یہاں کے ہوٹلوں میں ناشتہ ڈھنگ کا نہیں ملتا۔ خدیجہ اور عیسی کی زیادہ فکر رہتی ہے جن کی بھوک ہمیں بھی متاثر کرتی ہے۔ ہمیں وینکوور جاتے ہوئے راستے میں تین اور جگہوں کو دیکھنا ہے جو برٹش کولمبیا میں تفریح تاریخ و ثقافت کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ لیکن شروعات چڑیا گھر سے کرتے ہیں ۔کراچی چڑیا گھر کے تجربے کی روشنی میں برٹش کولمبیا کا چڑیا گھر دیکھنے کا اشتیاق تھا کہ انہوں نے جانوروں کے لیے کیسے انتظامات کئے ہوئے ہیں ۔ انٹرنیٹ پر تلاش کرنے سے مجھے یہی اندازہ ہوا کہ برٹش کولمبیا میں گریٹر وینکوور چڑیا گھر (Greater Vancouver Zoo) ہی واحد اور بڑا چڑیا گھر ہے، جو ایلڈرگروو (Aldergrove) شہر میں واقع ہے۔ یہ شہر وینکوور سے تقریباً 45 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ہم ابٹ فورٹ کی طرف تھے اور وینکوور جاتے ہوئے راستے میں پڑھ رہا تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ وینگوور میں داخل ہونے سے قبل دوسرے مقامات جو ابٹ فورٹ اور وینگوور کے راستے میں ہیں ان کو دیکھا جائے۔ لہذا صبح نو بجے کے چند منٹ بعد ہی ہم گریٹر وینگوور چڑیا گھر کے دروازے کے باہر پارکنگ ایریا میں موجود تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم ہی پہلے سیاح ہوں گے لیکن صدر دروازے پر ہم سے بھی پہلے چند خواتین و حضرات کھڑے ہاتھ میں کافی کا گلاس لئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔ ہمیں دور سے ہی شک ہونے لگا کہ چڑیا گھر کو ابھی کھولنے کے احکامات نہیں ہوئے یا چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ان گوروں کو ناپسندیدہ افراد کی فرست میں ڈال رکھا ہے۔ حکومت نے 10 مئی سے تمام تفریح جگہ کو عوام کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کر رکھے تھے جب کہ آج 12 مئی ہے چڑیا گھر کو سوا نو بجے کھل جانا چاہئے۔ قریب جا کر اندازہ ہوا کہ یہ سارے کسی اسکول کے استاد اور اسٹاف ہیں بچے اسکول بس میں آ رہے ہیں۔ ہم ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ چڑیا گھر کا احاطہ ایک سو بیس ایکڑ رقبے پر ہے دو بچوں کو اٹھا کر گھومنا اور وقت پر واپس پہنچنا مشکل تھا۔ لہذا طہ ہوا ہے چڑیا گھر انتظامیہ سے 50 ڈالر ایک گھنٹہ کرایہ پر گاڑی لی جائے۔ چڑیا گھر میں گھومنے کے لیے پٹرول گاڑی کے علاوہ سائیکل بھی ہوتی ہے۔ تین پائیوں کی سائیکل پر بھی پانچ افراد کی گنجائش ہے اور پٹرول موٹر پر بھی پانچ افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم نے موٹر گاڑی لی اور بچوں سمیت چڑیا گھر کی سیر کو نکلے۔ 140 سے زائد اقسام کے جانور اس چڑیا گھر میں موجود ہیں۔ چوں کہ ہمارے پاس وقت کم تھا اور اتنے وسیع رقبے پر پھیلے اس عالمی سطح کے چڑیا گھر کے تفصیلی دورے کے لیے ایک دن بھی کم ہے۔ یہاں منی ریل کا بھی انتظام ہے جو سیاحوں کو 10 ڈالر میں پورے شہر کا چکر لگواتی ہے۔ چڑیا گھر میں جانوروں کو فطری ماحل دیا گیا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی انسانی کارنامہ نہیں۔ اس میں انتظامیہ کی محنت کم اور قدرت کی عنایت زیادہ ہے۔ وافر مقدار میں زمین ہونے کے باعث ایکڑوں پر مشتمل پنجرے ہیں۔ جن میں جنگل کا ماحول ہے درخت اور گھاس قدرتی طور پر اگھ رہے ہیں۔ جانوروں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ قید میں ہے یا آزاد۔ اسی طرح ہر جانور کے پنجرے بڑے بڑے ہیں اور چارہ چرنے والے جانوروں کو خوراک دینے کی ضرورت بھی نہیں کہ ان کے پنجرے میں اتنا گھاس اور درختوں کے پتے ہیں کہ کھانے کو وہی بہت ہیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال بھی اچھی ہو رہی ہے۔ملازمین کو متحرک پایا۔ برٹش کولمبیا کے شہر برنابی میں واقع “برنابی ولیج میوزیم” ماضی کے ایک گاوں کے ماڈل کے طور پر قائم کیا گیا ہے یہ بتانے کے لیے کہ کئی سو سال قبل یہاں کے باشندوں کا ریہن سہن کیسا تھا۔یہاں خاص طور پر فرسٹ جنریشن کا تذکرہ ہو رہا ہے جو کینیڈا کے اصل باشندے ہیں جن کی زندگی آج بھی غاروں کی طرح ہی ہے تاہم برنابی ولیج میوزیم ماضی کے تمام کلچر کو ظاہر کرتا ہے۔ برٹش کولمبیا کی حکومت یا مقامی اداروں نے اس ولیج میوزیم میں سیاحوں کی توجہ کے لیے بہترین سہولت فراہم کی ہے خاص طور پر ایسے سیاح جو اپنے سفر کو ریکارڈ کا حصہ بنانا چاتے ہیں وہ برٹش کولمبیا جائیں تو اس میوزیم کو ضرور دیکھیں، جہاں کینیڈین زندگی کے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کا ایک نایاب موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ آنے والے مہاجرین کو خوش آمدید کہنا ہر معاشرے یا خطے کے لیے بہت ضروری ہے کیوں کہ آنے والا اپنے ساتھ عقل ہنر تعلیم اور نئے تجربات لاتا ہے تب ہی معاشرے میں تبدیلی آتی ہے۔ جو معاشرے امیگریشن کو روکتے ہیں وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ آج اگر کینیڈا، کینیڈا ہے تو یہ یہاں باہر سے آنے والوں کی وجہ سے ہے چاہیے وہ قابضین تھے یا فاتحین یا امیگرینٹ ورنہ فرسٹ جنریشن کا آج بھی کوئی حال نہیں تو وہ اس خطے کو ترقی کیا دیتے۔ برنابی ولیج میوزیم، ایک اوپن ایئر میوزیم ہے، جو بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے ایک روایتی کینیڈین گاؤں کا عکس پیش کرتا ہے۔ میوزیم میں موجود قدیم طرز کی دکانیں، ورکشاپس، اسکول ہاؤس، اور ایک خوبصورت گھومنے والی کیروسول (carousel) نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔ یہاں کا عملہ روایتی لباس میں ملبوس ہوتا ہے اور وزیٹرز کو تاریخی ماحول کا حقیقی تجربہ فراہم کرتا ہے۔یہ جگہ نہ صرف تعلیمی اعتبار سے اہم ہے بلکہ خاندانوں کے لیے ایک بہترین تفریحی مقام بھی ہے۔ ۔ ہم نے اس ولیج میوزیم میں کچھ وقت گزارا اور اس کے مقاصد کو سمجھے۔۔ ہمیں وینکوور پہنچنے کی جلدی تھی لیکن اس سے قبل احمر بشیر خان جو گاڑی کی ڈرائیوانگی سیٹ پر تھا ہمیں برنابی کے ہی ایک اور خوب صورت مقام پر لے گیا اور یہ ہی ” برنابی ماؤنٹین پارک” (Burnaby Mountain Park) یہ برٹش کولمبیا ہی کے شہر برنابی میں واقع ایک خوبصورت قدرتی پہاڑی مقام ہے، جو وینکوور سے تقریباً 20 منٹ کی ڈرائیونگ پر واقع ہے۔ یوں تو سارا کینیڈا اور خاص طور پر برٹش کولمبیا فطری حسن سے مالا مال ہے لیکن برنابی ماؤنٹین پارک اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں تفریح، پیدل سیر، اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ پارک کی چوٹی سے برارڈ انلیٹ (Burrard Inlet) اور وینکوور شہر کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے، دونوں شہر نمایاں نظر آتے ہیں نیچے پیالے کی مانند مگر وینکوور کا ڈاؤن ٹاون میں چمکتی شیشے کی عمارتیں منفرد نظارہ پیش کر رہی ہیں۔ مجھے تو یوں محسوس ہوا کہ وینکوور کی عمارتوں پر کھڑا کوئی ہمیں شیشے کی لائٹ لگا رہا ہے۔ ان عمارتوں کی چمک یہاں بلند پہاڑ پر گھڑے میری آنکھوں تک آ رہی تھی۔ اسی لمحے مجھے ڈاؤن ٹاون جانے کا اشتیاق ہوا حالاں کے ہمارا ارادا تھا کہ شہر کے مصروف ترین علاقوں سے بچ بچا کر باہر نکلا جائے تاکہ قدرتی حسن کو زیادہ دیر تک دیکھنے کا موقع ملے مگر مجھے تو ایسا لگا کہ برنابی ماؤنٹین پارک کی چھوٹی پر کھڑے اس مسافر کو وینکوور کے ڈاؤن ٹاون کی عمارتوں نے دعوت دی کہ ہم سے ملے بغیر یہاں سے گزر گئے تو سمجھیں کہ برٹش کولمبیا میں آئے ہی نہیں۔ میں نے اسی لمحے احمر بشیر خان سے کہا کہ وینکوور کے ڈاؤن ٹاون میں ہر حالت میں جانا ہے۔ ہماری بہو آنا نے فورا ہی تائید کی کہ یہاں آئے ہی ابو کے لیے ہیں جو ان کی خواہش ہماری اسی میں تائید ہے، احمر بشیر خان نے اب کیا بولنا تھا سوائے اس کے کہ کچھ اور پہاڑوں پر بھی جانا تھا ان میں سے مختصر کرتے ہیں ورنہ آج کا دن وینکوور سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے اس کی تائید کی کہ ہر پہاڑی ایک دوسرے پر بھاری ہے۔ لیکن قدرت نے ساری دنیا کو ایک جیسا بنایا برٹش کولمبیا کے جنگلات اور پہاڑوں پر گھومتے مجھے لگتا ہے کہ 50 سال قبل کشمیر کے پہاڑوں پر گھوم رہا ہوں۔ سوائے شاہراہوں اور ترقی و جدیدیت کے سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بس یہاں کے لوگوں نے قدرت کے تحفہ کو سھنبال کر رکھا ہوا ہے۔غیر ضروری طور پر سوکھا ہوا درخت بھی کوئی نہیں کاٹ سکتا، ہمارے ہاں حکومتوں کی سرپرستی میں درختوں کو کاٹ کاٹ کر فروخت کر دیا گیا کم بختوں نے ان کی جگہ نئے لگانے کی زحمت بھی نہیں کی۔ برحال برنابی ماؤنٹین پارک کی چوٹی سے ہم نے قدرت کے نظارے اور کینیڈین حکمرانوں کی مہارت دیانت داری اور فرض شناسی کو سلام کیا اور پارک کی کچھ اور ضروری چیزوں کو دیکھنے میں مگن ہو گئے۔ مجھے یہاں بتایا گیا کہ اس پارک میں غروب افتاب کے وقت یہ مناظر انتہائی دلکش ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے دن کے پہلے پہر کے مناظر ہی اتنا زیادہ تھے کے غروب آفتاب کے وقت کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی محصوص نہیں ہوئی۔۔ اس پارک میں جو ایک اور اہم اور خاص قابل دید چیز ہے وہ جاپانی فنکاروں کی تخلیق کردہ لکڑی کی مجسمے ہیں، جو برنابی اور اس کے جڑواں شہر کُشیرو، جاپان کے درمیان دوستی کی علامت ہیں۔ یہ مجسمے 2015ء میں یہاں نصب کئے گئے۔ جو درختوں کے بلند ترین خشک تنے پر بنائے گئے ہیں۔ اسی پارک کی مرکزی پارکنگ لاٹ کے قریب ہی رنگ برنگے گلابوں کے پھولوں کا باغ ہے۔ گاڑی سے اترتے ہی ان پھولوں کی خوشبو اور رنگ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ایک کتبے پر لکھا ہوا تھا کہ اس باغ میں 900 اقسام سے زائد خوشبودار گلابوں کے پھول موجود ہیں جو سارا موسم یہاں خوشبو بکھیرتے رہتے ہیں۔ اس پارک میں تفریح کے لیے مخصوص علاقے اور بچوں کے کھیلنے کے لیے میدان موجود ہیں۔ 34 سے زائد راستے بنائے گئے ہیں جہاں پیدل سیر اور سائیکلنگ کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے جو 28 کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان راستوں پر گزرتے ہوئے جنگلات، ندی نالے، اور قدرتی مناظر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کے مختلف اقسام کے دیوہیگل درخت اور جنگلی حیات سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو انسانوں کے لیے خطرے ناک نہیں ظاہر ہے میں 28 کلومیٹر پیدل یا سائیکل پر سفر نہیں کر سکتا تھا کچھ تھوڑی دیر چہل قدمی کی۔ سائمن فریزر یونیورسٹی کا ایک کیمپس بھی پارک کے نزدیک ہے یونیورسٹی کے نوجوان پارک کی رنق کو دوبالا کرتے ہیں۔ ہم کافی دیر یہاں رکھنے کے بعد وینکوور کی لیے روانہ ہوئے جو ہماری اگلی منزل اور خاص دلچسپی تھی۔ یہ شہر پورے کینیڈا میں شیشے کی عمارتوں کے لیے مشہور ہے۔