
واٹر کارپوریشن میں انقلاب برپا، افتخار شاہ کی کارکردگی نے بدل دیا نظام!
واٹر کارپوریشن میں ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر فنانس افتخار شاہ کی انتھک محنت، دیانت داری اور بے لوث خدمات کے نتیجے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جب سے انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، کارپوریشن کے کئی پیچیدہ مسائل حل ہوئے ہیں، ملازمین اور عوام کو سہولیات میسر آئی ہیں، اور ایک شفاف نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
خدمات کے آئینے میں افتخار شاہ کے نمایاں کارنامے:
✅ ملازمین کی تنخواہیں بروقت: پہلی بار ایسا ہوا کہ ملازمین کو ان کی محنت کا صلہ وقت پر ملنے لگا، جس پر عملے نے خوشی کا اظہار کیا۔
✅ بیواؤں کی پینشن میں آسانی: طویل عرصے سے التوا کا شکار پینشن کے معاملات کو حل کرکے بیواؤں کو ان کا حق دلایا گیا، جو ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔
✅ گریجویٹی کے مسائل کا خاتمہ: ملازمین کی گریجویٹی کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا گیا، جس سے پرانے تنازعات ختم ہوئے۔
✅ ٹھیکیداروں کو انصاف: ٹھیکیداروں کی جائز ادائیگیاں بروقت کرکے انہیں ہراساں کرنے کے روایتی نظام کو ختم کیا گیا۔
✅ رشوت کا خاتمہ: سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ کالی بھیڑوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے رشوت کے نظام کو توڑا گیا، جس سے اب صاف ستھرا اور شفاف نظام کام کررہا ہے۔
لوگوں کی خوشی، دعائیں اور سپورٹ:
وہ ملازمین جو پہلے بلاوجہ چکروں میں پھنسائے جاتے تھے، اب ان کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔ بیوائیں، ٹھیکیدار اور کارپوریشن کے عملے سمیت سبھی افتخار شاہ کے اس انقلابی اقدام کی تعریف کررہے ہیں۔ ان کی دیانت، ہمت اور عزم نے ثابت کیا کہ “نیک نیتی اور محنت سے کوئی بھی مشکل کام آسان ہوسکتا ہے۔”
اب واٹر کارپوریشن میں ایک نئی صبح ہوئی ہے—جہاں انصاف، شفافیت اور بہتری کا دور دورہ ہے۔ یقیناً یہ سب افتخار شاہ کی جرات، لگن اور بے خوف قیادت کا نتیجہ ہے۔ اللہ ان کے قدم مضبوط کرے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے! آمین!
#واٹر_کارپوریشن_کا_نیا_دور
#افتخار_شاہ_کی_کامیابی
#انصاف_کی_جیت 🎉
واٹر بورڈ کے ڈی ایم ڈی فنانس افتخار شاہ کی کارکردگی ۔۔۔۔۔ خدمات کے آئینے میں
واٹر بورڈ میں اس بات کی تعریف کی جا رہی ہے کہ جب سے افتخار شاہ نے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فائنانس کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں واٹر کارپوریشن میں بہت سے مسائل میں بہتری نظر انے لگی ہے اور وہ لوگ جو مشکلات اور پریشانیوں کا شکار تھے اور انہیں بلا وجہ چکر پر چکر لگوائے جاتے تھے اب ان کو سہولت مل گئی ہے ان کی زندگی کچھ اسان بن گئی ہے اور طویل عرصے بعد واٹر کارپوریشن میں ایک صاف ستھرے دور کا اغاز ہوا ہے جس میں بغیر کسی رکاوٹ اور پریشانی کے لوگوں کو ان کی ادائیگیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں اب ناجائز عمل رک گیا ہے اور بلاوجہ تنگ کرنا اور رشوت مانگنے کا سلسلہ تھم گیا ہے ملازمین نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ وقت پر ان کو سیلری مل رہی ہے تنہا کی بروقت ادائیگی کو افتخار شاہ نے اولین ترجیح کے طور پر ممکن بنایا یہ بڑا چیلنج تھا مشکل کام تھا لیکن انہوں نے کر دکھایا اس سے ان کی دیانت داری ان کی لگن اور ان کی کمٹمنٹ واضح ہوتی ہے اس کے علاوہ وہ بہت سی دعائیں سمیٹ رہے ہیں کیونکہ وقت پر بیواؤں کو پینشن دے رہے ہیں پہلے یہ معاملہ بھی بہت تعمیر کا شکار ہو جاتا تھا لوگ بددعائیں دیتے تھے لیکن اب یہ معاملہ بھی حل کر دیا گیا ہے بیواؤں کو بروقت پنشن کی ادائیگی عمل میں لا کر ایک قابل تحسین اقدام اٹھایا گیا ہے اس کام کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے یہ واقعی نیکی کا کام ہے اور وہ دعائیں لے رہے ہیں اسی طرح ملازمین کی گریجویٹی کے معاملات کو بھی حل کر دیا گیا ہے یہ درینہ مطالبہ تھا اور اس پر کافی اوازیں اٹھائی جاتی تھیں اور شور ہوتا تھا اور مسائل کی جڑ تھا لیکن یہ مسئلہ بھی حل کر دیا گیا ہے یہ بات بھی قابل تعریف ہے کہ پہلی مرتبہ کوئی ایسا افسر اگیا ہے جس نے ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں بھی بروقت عمل میں لانے کا اغاز کر دیا ہے اور ان کو بلاوجہ تنگ کرنے اور پریشان کرنے کا سلسلہ بھی روک دیا ہے سب سے جرات مندانہ بات یہ ہے کہ رشوت ستانی کے سسٹم کو توڑا ہے اور رشوت میں ملوث کالی بھیڑوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہے جن کی جو ادائیگیاں بنتی ہیں ان کو وقت پر عمل میں لایا جا رہا ہے اور انصاف کا بول بالا ہو رہا ہے ایک اچھا سسٹم کام کرنے لگا ہے اور جس کی وجہ سے کچھ کالی بھیڑوں کے پیٹ میں درد اٹھ رہا ہے اور وہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں منفی باتیں پھیلا رہے ہیں واٹر کارپوریشن کے ملازمین نے بتایا کہ ملازمین تنخواہ وقت پر ملنے پر خوش ہیں بیوائیں اپنی پینشن وقت پر ملنے پر خوش ہیں ٹھیکے دار اپنی ادائیگیاں وقت پر ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اس وقت واٹر کارپوریشن میں اگین کلا برپا ہو چکا ہے پہلے یہ سب کچھ یہ سب باتیں ایک خواب کی مانند لگتی تھیں اور ایسا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ واٹر کارپوریشن میں ایسے دن بدل جائیں گے اور کایا پلٹ جائے گی اور بغیر رشوت کے کام شروع ہو جائیں گے لیکن اب یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس کا بنیادی صحرہ ڈی ایم ڈی فائنانس افتخار شاہ کے سر جاتا ہے انہوں نے یہ چیلنج قبول کیا اور یہ بھاری پتھر خود اٹھایا اور کالی بھیڑوں کو چیلنج کیا اور سسٹم سے کرپشن اور رشوت کا خاتمہ کرنے کا بیڑا اٹھا کر میدان میں اترے اور ابھی تک کامیاب ہیں یقینی طور پر انہیں کافی مشکلات مسائل دباؤ کا سامنا ہے لیکن وہ ڈٹے ہوئے ہیں























