
1960 کی دہائی کے اوائل میں عالمی سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا تھا۔ سرد جنگ کی وجہ سے دنیا نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکی تھی، اور ایشیا میں بھی طاقت کے توازن میں زلزلہ آ چکا تھا۔
انہی دنوں 1962 میں چین اور بھارت کے درمیان ایک مختصر مگر فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس نے خطے کی سفارتی اور عسکری سمت کو نئی شکل دے دی۔ دوسری جانب پاکستان، جو اس وقت سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے مغربی عسکری معاہدوں کا رکن تھا، یکطرفہ مغربی انحصار پر نظرثانی کر رہا تھا اور ایک متوازن خارجہ پالیسی کی جانب گامزن ہو رہا تھا۔
انہی بدلتے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو ایک وژنری لیڈر کے طور پر ابھرے۔ وزارتِ خارجہ سنبھالنے سے پہلے ہی وہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کے زبردست حامی تھے۔
1963 میں وزیرِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے 1962 کی چین-بھارت جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی خلا کو ایک تاریخی موقع کے طور پر پہچانا۔ جب بھارت اور چین کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تو بھٹو نے پاکستان کے لیے چین کے ساتھ اتحاد کو نہ صرف بھارت کے خلاف توازن کا ذریعہ سمجھا بلکہ مغرب پر انحصار سے نکلنے کی ایک سٹریٹجک ضرورت کے طور پر بھی دیکھا۔

بھٹو نے پاکستان اور چین کے مابین سرحدی تنازعے کو حل کرنے کی قیادت کی، جو 1963 کے تاریخی پاک-چین سرحدی معاہدے پر منتج ہوا۔ یہ معاہدہ کراکرم کے علاقے میں سرحدی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرتا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھتا تھا۔
بھٹو کے اس تاریخی فیصلے کی چینیوں نے ہمیشہ قدر کی۔ بھٹو کو چین میں ایک باوقار اور مدبر رہنما تسلیم کیا جاتا تھا۔ چیئرمین ماؤ زے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی کی بھٹو کے ساتھ قربت، ملاقاتیں، اور چین کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دفاعی و اقتصادی امداد اس تعلق کی مظہر تھی۔
1976 میں بھٹو وہ آخری غیر ملکی رہنما تھے جن کے ساتھ ماؤ کی تصویر بنی، جو دونوں کے باہمی احترام کی علامت ہے۔ چین کی جانب سے 1972 میں بھٹو کے دورے پر بھاری امداد اور قرض معافی بھی ان پر اعتماد کا ثبوت تھا۔
معروف صحافی و محقق اینڈریو سمال نے اپنی کتاب The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics میں ذوالفقار علی بھٹو کو پاک-چین تعلقات کا اصل معمار قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق، بھٹو نے 1962 کی چین-بھارت جنگ کے بعد صورتحال کا درست اندازہ لگاتے ہوئے چین سے قریبی تعلقات کی بنیاد رکھی، تاکہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو اسٹریٹجک برتری حاصل ہو۔
سمال کے مطابق، 1963 میں بھٹو کی قیادت میں چین سے سرحدی معاہدہ طے پایا، جس میں چین نے 1,942 مربع کلومیٹر علاقہ پاکستان کو دیا، اور پاکستان نے کوئی علاقہ چین کے حوالے نہ کیا—یہ معاہدہ بھارت کے لیے آج بھی باعثِ اعتراض ہے۔
اگرچہ 1971 کی جنگ میں چین نے فوجی مداخلت سے گریز کیا، لیکن سمال کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کو جوہری اور دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کی، جو کسی اور اتحادی کو فراہم نہیں کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھٹو کی پالیسی نے ایک دیرپا، منفرد پارٹنرشپ کی بنیاد رکھی جو آج بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے۔
تاہم 60 کی دہائی میں پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کی۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی سمیت کئی اعلیٰ حکام کو خدشہ تھا کہ کمیونسٹ چین کے ساتھ پاکستان کی قربت، سیٹو اور سینٹو جیسے مغربی معاہدوں کے تناظر میں، امریکی مفادات کے خلاف ہو سکتی ہے۔
صدر کینیڈی نے بھٹو کے ساتھ اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس کا اثر امریکی امداد پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا۔
بھٹو نے پُراعتماد انداز میں پاکستان کے قومی مفادات کی ترجمانی کی اور واضح کیا کہ ایک متوازن خارجہ پالیسی وقت کی ضرورت ہے، جس میں چین کے ساتھ تعلقات مغرب سے تعلقات کی نفی نہیں کرتے۔
بھٹو کا مؤقف یہ تھا کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا تابع نہیں ہو سکتا اور اسے اپنے قومی مفادات کے مطابق ہر طاقت سے تعلقات استوار کرنے کا حق ہے۔
بھٹو اور کینیڈی کی 1963 میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا ایک دلچسپ واقعہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ملاقات کے دوران صدر کینیڈی، بھٹو کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہو کر گویا ہوئے:
“مسٹر بھٹو، اگر آپ امریکی ہوتے تو میری کابینہ میں ہوتے۔”
بھٹو نے برجستہ جواب دیا:
“مسٹر پریزیڈنٹ، اگر میں امریکی ہوتا تو آپ میری کابینہ میں ہوتے!”
یہ واقعہ نہ صرف بھٹو کی حاضر جوابی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس وقت کی سفارتی کشمکش اور دو طرفہ احترام کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
بھٹو کی چین پالیسی وقت کے ساتھ ایک دوراندیشی ثابت ہوئی۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں چین کی اخلاقی و سیاسی حمایت سے لے کر شاہراہ قراقرم کی تعمیر، حالیہ چین-پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) اور پی اے ایف کامرا جیسے ٹیکنالوجیکل کوآپریشن تک، وہ بنیادیں جو بھٹو نے رکھی تھیں، آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنی ہوئی ہیں۔
جس طرح نیوٹن نے ایک گرتے ہوئے سیب کو دیکھ کر کششِ ثقل کا قانون دریافت کیا، اسی طرح بھٹو نے وقت کی نبض پہچانتے ہوئے چین کی سٹریٹجک اہمیت کو سمجھ لیا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی نئی جہت متعین کی۔
ان کا وژن آج بھی پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، اور چین کے ساتھ تعلقات ان کے سیاسی ورثے کی زندہ مثال ہے۔
بشکریہ ثقلین امام لندن
چئیرمین ماو کی یہ آخری تصاویر ہیں جب انہوں نے شدید علالت کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی ۔۔۔۔























