
واٹر کارپوریشن میں نئے CEO کی تقرری کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔تقرری کیلئے اشتہار جاری کیا جائیگا،بورڈ نے منظوری دے دی ہے۔
موجودہ سی سی او احمد علی صدیقی نئی تقرری تک عارضی طور پر تعینات رہیں گے، اور COO کے عہدے پر 30 ستمبر 2025ء تک ہیں۔
اینٹی کرپشن کیس دراصل صلاح الدین احمد کو عہدے سے قبل ازوقت ہٹانا مقصود تھا۔
کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف آپریشن آفیسر کی تقرری کا اعلان کردیا ہے جس کی بورڈ نے منظوری دے دی ہے اور جلد ہی اخبار میں اشتہار کے ذریعے پیشکش طلب کی جائے گی۔موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی KWSC میں نئی تقرری تک عارضی طور پر تعینات رہیں گے،جبکہ COO کے عہدے پر 30 ستمبر 2025ء تک رہیں گے۔یاد رہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر صلاح الدین احمد کے استعفی سے یہ عہدہ خالی تھا۔ ان کی تقرری 30 ستمبر 2026ء تک تھی۔ سندھ حکومت نے عارضی طور پر ڈپٹی کمشنر غربی احمد علی صدیقی کو تعینات کردیا ہے وہ بھی ادارے کے افسران کو باور کرواتے ہیں کہ ان کی تقرری عارضی ہے وہ مستقل معاملے کو حل نہیں کرسکتے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس عہدے پر تعیناتی کیلئے کئی اداروں کے افسران کی بھاگ دوڑ جاری ہے کیونکہ کارپوریشن سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ NO.PAS/LEGIS-B-06/2023 بتاریخ 5 جولائی 2023 کو جاری کیا تھا،اس قانون سے ادارے کو خود مختار بنایا گیا تھا اور سیاسی و انتظامی مداخلت بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر اس پر عملدرآمد کرانا ناممکن ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت گذشتہ 17 سال سے صوبے پر حکومت کر رہی ہے اس لیئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ہاتھ سے جانے دے اسی لیئے اس کی مداخلت مسلسل جاری ہے۔ ایکٹ کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف آپریشن آفیسر کی میرٹ پر تعیناتی کا اختیار بورڈ کو حاصل ہے،اس کے علاوہ چیف فنانس آفیسر، چیف انٹرنل آڈیٹر، چیف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجسٹ کے علاوہ چارٹر اکاؤنٹنٹ، لیگل ایڈوائزر کی تقرری بھی آزادنہ طور پر میرٹ پر کی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت چیف ایگزیکٹوز آفیسر کی تقرری بورڈ پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر سے کرے گا جو انتظامی امور کا ماہر ہوگا، اس کی عمر کی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ ادارے میں مشیر خاص یا دیگر عہدوں پر تقرری کی اجازت بورڈ سے لینا لازمی ہوگا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹانے یا مستعفی ہونے پر 30 دن قبل نوٹس دینے کی مدت رکھی گئی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے قواعد و ضوابط بورڈ تیار کرے گا۔ اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے تقرری کیلئے ایک نجی کمپنی کو حدف دیا گیا تھا جس نے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے بر خلاف دو بڑے عہدے پر سفارشی بھرتی کر دی تھی جو اپنی مدت پوری نہ کرسکے، کیونکہ دونوں عہدوں پر تقرری قانون کے بر خلاف کی گئی تھی۔ کراچی کے بڑے ترقیاتی منصوبے پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی شرائط مشروط کر رکھی ہے۔ مصدقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے میں عالمی مالیات ادارے کے مقامی دو افسران کے ساتھ سندھ حکومت کے بعض افسران براہ راست ملوث تھے۔ بورڈ نے تجربہ کار اعلی تعلیم یافتہ، انتظامی امور پر کنٹرول کرنے، مارکیٹ بیس عالمی معیار کا آفیسر کے بجائے منظور نظر من پسندںمفاد عامہ کے خلاف مالیاتی ادارے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید صلاح الدین (سول انجینئرز کی ڈگری)،سابق ایم ڈی اسد اللہ خان (الیکٹریکل ڈگری) کے ساتھ(ریٹائرڈ ملازم) ہیں. اس ضمن میں سابق وائس چیئرمین سید نجمی عالم نے انکشاف کیا ہے کہ کنسلٹنٹ کمپنی(سعادت حیدر اینڈ کمپنی) کو عالمی معیار اور تجربہ کار کے بجائے صرف کراچی کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسران کی فہرست مرتب کرنے اور انتخاب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تین سال قبل تقرری کے لئے کراچی سمیت ملک اور بیرون ملک سے 93 حاضر و ریٹائرڈ افسران نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر تعیناتی کی درخواستیں جمع کرائیں تھیں۔ جن میں صرف 13 افسران کا انٹرویو کیا گیا۔ MD و CEO کے سلسلے میں کراچی، لاہور اور پشاور بلدیاتی و شہری ادارے کے افسران کے تین نام حتمی فہرست میں سامنے آنے کے بعد سید زاہد عزیر(پنجاب صاف پانی پروجیکٹ)نے تحریر ی طور پر معذرت کر لی تھی جبکہ ناصر غفورخان (پشاور واسا) کا نام بورڈ نے مسترد کردیا تھا، آخر میں سید صلاح الدین (کراچیKWSSIIP-PD) کے نام حتمی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔ سول سروسز (تقرری، تبادلہ اور ترقی)رولز 1973ء اسی ادارے میں ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر تقرری سیکشن 14(1)کے تحت ملازم نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوامی مفاد عمامہ کے تحت بھی کسی ملازم کو ریٹائرڈ ہونے کے بعد از سر نو ملازمت نہیں دی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعدد فیصلے واضح ہیں۔ایک افسر اپنی پنشن کے ساتھ تنخواہ اور مراعات بھی نہیں لے سکتا۔ عالمی مالیاتی اداروں میں کام کرنے والے پی ایچ ڈی، ایم ایس سمیت دیگر عالمی سطح پر ڈگری یافتہ سے رابط نہ کرنے،نظر انداز کرنے کے ساتھ بعض منظور نظر درخواست گزار کو ایک سے زائد بار طلب کرنے پر چہ میگوئیاں اور افواہیں کی تیزی سے گردش سے شفافیت پر عالمی مالیاتی اداروں نے سوال کھڑے کر دیئے تھے۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنسلٹنٹ کمپنی سعادت اینڈ حیدر کی تاخیر کے باعث اس کی شفافیت اور جانبداری پر کئی سوال کھڑے کرتے ہوئے من پسند، منظور نظر، بلوانے والے درخواست گزاروں کو انٹرویو یا بات چیت کے لئے بلوایا تک نہیں، بعض اعلی تعلیم یافتہ کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مینجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کا سیکشن (1)5 کے تحت سندھ کے سپرد ہے۔ ایم ڈی کے اختیارات بھی حاصل ہے، بورڈکے ایکٹ 1996میں ترامیم کے بغیر اس کی افادیت ختم نہیں ہو سکتی۔بیرون ملک اور مقامی اخبارات میں جاری ہونے والے اشتہار میں سول، الیکٹریکل، میکینکل انجینئرز،ماسٹر ڈگری، بزنس مینجمنٹ، فنانس،کامرس مقامی یا انٹرنیشنل یونیورسٹیز، یا پروفیشنل اکاونٹنٹ کی CAP/AP/CMAPD ڈگری یافتہ اہل ہوگا، جبکہ 20 سالہ تجربہ رکھنے والے سرکاری، ریٹائرڈ،تجربہ کار افراد اپنی درخواستیں دے سکیں گے۔ ان کی عمر کی حد 62 سال تک، چار سال ملازم ہونے اور تین سال ملازمت میں توسیع ہونے کی توقع ہے۔ نئے آفیسر کی تقرری کے بعد مینیجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنکل سروسز کا عہدہ یکسر ختم ہو جائے گا۔ سابق مینیجنگ ڈائریکٹر غلام عارف نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں ایک اچھے انتظامی آفیسر کی شدید ضرورت ہے کیونکہ کراچی جیسے بڑے ترین شہر میں اہم عہدے پر اب مزید سفارشی و سیاسی افراد کی تقرری سے شہر کے حالات جو پہلے ہی ابتر ہیں مزید ابتر ہو جائیں گے۔ ٹیکنیکل اور انجینئرز کے بجائے انتظامی افسر ہی ادارے کو بہتر کر سکتا ہے۔ادارے میں کھلے عام رشوت، کمیشن اور کک بیک سے ادارے کا نظام انتہائی بگڑ چکا ہے اور اب تو حالت یہ ہے کہ ہر مہینے شہر کی پانی کی لائینیں ٹوٹ جاتی ہیں جس سے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا کھلے عام پانی سپلائی کرتی ہے جس سے اس کی اور ان کے سرپرستوں کی چاندی ہو جاتی ہے اور یہ دھندہ اب تو کھلے عام ہو رہا ہے۔
May 12,2025
www.aslamshahreport.com
























