شہر میں پانی کا شدید بحران جاری، میئر مرتضی وہاب صورتحال پر قابو پانے میں ناکام، وزیراعلی کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے گئے


شہر میں پانی کا شدید بحران جاری، میئر مرتضی وہاب صورتحال پر قابو پانے میں ناکام، وزیراعلی کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے گئے

گرمی بڑھتی جا رہی ہے اور شہریوں کے لیے پانی کا بحران بھی مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔میئر کراچی مرتضی وہاب صورتحال کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام ۔ مختلف علاقوں کے دورے اور افسران کو معطل کرنے کہ باوجود صورتحال میں کوئی بہترین نہیں آ سکی شہریوں کا صبر اور حوصلہ جواب دیتا جا رہا ہے پانی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے لوگوں کے گھر تک پانی نہیں پہنچ رہا لوگ حکومت کو تو کوس رہے ہیں وزیراعلی کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا وزیراعظم نے صورتحال کا نوٹس لے کر احکامات جاری کیے تھے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں کے گھر میں پانی نہیں پہنچ سکا لوگ بوند بوند کے لیے ترس رہے ہیں پانی خرید رہے ہیں جمع پونجی اس پر لٹا رہے ہیں حکومت کی طرف سے پانی کے حوالے سے شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا شہریوں کو روز مرہ کے امور نمٹانے میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے مساجد امام بارگاہوں اور قبرستانوں میں بھی پانی کا بحران ہے پانی خریدا جا رہا ہے ٹینکر سروس اور گدھا گاڑی سے لے کر چھوٹی گاڑیوں میں پانی فراہم کرنے والوں کی چاندی ہو چکی ہے پانی کا کاروبار چمک اٹھا ہے پانی بیچا جا رہا ہے پانی خریدنے والے دہائی دے رہے ہیں حکومت ان کے لیے کوئی ریلیف پروگرام کوئی ریلیف پیکج سامنے نہیں لا سکی شہری کب تک پانی خریدیں گے

کب تک ان کی سکت پانی خریدنے کے لیے رہے گی جب وہ پانی نہیں خرید سکیں گے تو قرض اٹھائیں گے کیا کریں گے لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے پانی بنیادی ضرورت کی چیز ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پانی فراہم کرے لیکن صورتحال میں بہترین نظر نہیں ارہی اور صورتحال خراب ہو رہی ہے لوگ پریشان ہیں لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں وزیراعلی کے احکامات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا میر کراچی مرتضی وہاب صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب نظر نہیں اتے وہ عوام کا اعتماد بھی حاصل نہیں کر پا رہے عوام کو بتا بھی نہیں پا رہے کہ مسئلہ ہے کیا پانی کیوں نہیں ا رہا مختلف علاقوں میں پانی کا بحران کیوں ہے اور یہ بحران کب تک حل ہوگا اور مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت اور انتظامیہ کیا کر رہی ہے جب تک حکومت اور انتظامیہ کے لوگ عوام کے پاس جا کر ان کو صورتحال سے اگاہ نہیں کریں گے ان کو اعتماد میں نہیں لیں گے لوگوں کو سمجھ میں نہیں ائے گا کہ مسئلہ کیسے حل ہوگا شہر میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے نفرت میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے حکومت کو اس حوالے سے کچھ سوچنا چاہیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیے