
سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی(ٹورانٹو)
ٹورانٹو کی فٹ پاتھوں پر گھومتے آوارہ گردی کرتے ہمیں لگ بھگ چار گھنٹے گزرے ہوں گے کہ مرزا یاسین بیگ نے پلٹ کر پوچھا ” یار تھک تو نہیں گئے” 65 سالہ نوجوان اس کا کیا جواب دیتا سوائے اس کے کہ ٹورانٹو ہاربر کے صاف و شفاف فٹ پاتھ پر رکھے لکڑی کے بینچ پر کچھ دیر سستاتے ہیں ۔ میں نے سر ہلا کر تائید کی اور ہم اگلے لمحے پینچ پر ڈھیر ہو چکے تھے۔ ہماری ایک طرف سمندر نما جھیل اونٹاریو کا ساحل اور جھیل میں تیرتی کشتیاں اور بحری جہاز۔ ہمارے ناک کی سیدھ میں جھیل کے اس کونے پر ہوائی جہاز کھڑے تھے جیسے ہوائی اڈہ ہو، یاسین نے وضاحت کی کہ یہ ہوائی اڈہ زیر تربیت پائلٹوں کو استعمال کرنے کا ہے، کچھ دن پہلے ایک پائلٹ استاد کو اعتماد میں لئے بغیر جہاز لے اڑا زمین بوس ہوا یا جھیل برد لیکن حادثے کا شکار ہو گیا۔۔۔ ہماری دوسری جانب قطار در قطار ہوٹلوں کی ایک وسیع رو ہے جن کی فٹ پاتھوں پر رکھے ٹیبلوں مشروب مغرب کے گلاس رکھے ہیں اور اہل مغرب شمالی امریکہ کے سیاسی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔ اس روز ہوا میں تیز خنکی تو ہے ہی لیکن جھیل اونٹاریو کے صاف و شفاف اور ٹھڈے پانی سے ٹکرا کر آنے والی ہوا اس میں مذید اضافہ کر رہی ہے۔ ہم نے گلو بند کو گلے کے ساتھ اچھی طرح لپیٹا اور اوٹی ٹوپی سے اچھی طرح سر کو ڈھانپا۔ مطلع صاف اور دھوپ چمک رہی تھی۔ جس پر یاسین بیگ نے کہا کہ اتنے اچھے موسم میں آپ کو سردی محسوس ہو رہی ہے۔ پانی دیکھیں کتنا شفاف اور ٹھرآو ہے۔ میں نے اس موقع پر باسفورس کی مسائل دی کہ استنبول کے بیچوں بیچ باسفورس کا پانی بھی اسی طرح صاف و شفاف ہے۔ ہم کچھ دیر یہاں بیٹھے جہاں سے کینیڈا نیشنل ٹاور سامنے نظر آتا ہے ۔ یاسین نے ٹاور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے کینیڈا نیشنل ٹاور اطراف میں تعمیر ہونے والی عمارتوں نے اس کو چھپا لیا ورنہ ٹاور بہت دور سے نظر آتا تھا، ہم نے یہاں کچھ تصویریں بنائیں تاکہ ریکارڈ مرتب کیا جائے کہ ٹاور کے قریب گئے تھے لیکن یاسین کو اس پر اطمینان نہیں ہوا۔ بولا یار ہمت ہے تو ٹاور کے قریب چلتے ہیں، میں تو پہلے ہی تیار تھا، ہم ٹاور کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک شاہراہ کو عبور کر کے ٹاور تک پہنچے۔۔ ٹاور ہی کے قریب ریلوے میوزیم اور ایک ایکوریم بھی ہے۔ وہاں ہم نے کچھ دیر رکھ کر تصویریں بنائی اور ٹاور کے دامن میں آکر بیٹھے۔ وہاں ہمیں اندازہ ہوا کہ یہاں آنے کا فیصلہ درست تھا۔۔ اگر آپ نے کینیڈا کی سیر کی اور ٹورانٹو نہ دیکھا تو آپ نے کچھ نہ دیکھا اور ٹورانٹو میں قیام کے
دوران کینیڈا نیشنل ٹاور نہ دیکھا تو آپ نے کینیڈا کی عظمت رفتہ نہیں دیکھی۔ 553.3 میٹر بلند یہ شاندار ٹاور صرف ایک انجینیئرنگ کا شاہکار ہی نہیں، کینیڈا کا ماضی حال اور سنہرا مستقبل، ترقی، خوب صورتی اور جدیدیت کا نشان ہے۔ سی این ٹاور کی تعمیر کا آغاز 1973ء میں ہوا۔ بنیادی طور پر اس کی تعمیر کا مقصد کینیڈا نیشنل ریلوے سمیت اونٹاریو میں مواصلاتی نظام کو بہتر بنانا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ٹاور کینیڈا کا قومی نشان کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ یہ منصوبہ صرف تین سال میں مکمل ہوا اور 1976 میں اسے عوام کے لیے کھولا گیا۔ یہ ٹاور 553.3 میٹر (1,815 فٹ) بلند ہے۔ اس دور میں یہ دنیا کی سب سے بلند عمارت تھی، یہ اعزاز تقریباً 34 سال تک برقرار رہا۔ 2010ء میں دبئی میں برج خلیفہ کی تعمیر ہوئی جس کی اونچائی(828 میٹر) ہے تو سی این ٹاور ٹورانٹو پیچھے رہ گیا۔ لیکن آج بھی سی این ٹاور کئی حوالوں سے نمایاں ہے یہ برآعظم شمالی امریکہ کا سب سے بلند ٹاور ہے۔ یہ دنیا کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کی دس بلند عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اب یہ دنیا کا بلند ترین ٹاور نہیں رہا، لیکن آج بھی انجینیئرنگ، سیاحت، اور فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار مانا جاتا ہے۔ یہ عمارت زلزلوں اور شدید ہواؤں کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی بنیادیں زمین میں 15 میٹر تک گہری ہیں جب کہ اس کا مین شافٹ ایک کالم پر مشتمل ہے جو اوپر جا کر مشاہداتی حصے، گلاس فلور، اور ریوالونگ ریستوران میں بدلتا ہے۔ اس کی خوب صورتی و فنی مہارت کو دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 20 لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں۔ 346 میٹر بلند مشاہداتی منزل سے پورے ٹورانٹو اور کسی حد تک آونٹاریو کا دلکش منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ گلاس فلور، جو نیچے زمین تک منظر کو شفاف رکھتا ہے، بہادروں کا امتحان ہے۔ بہت سارے لوگ وہاں خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ پاوں کے نیچے زمین نکل گئی۔ 360 ڈگری پر قائم ریسٹورنٹ نہ صرف لذیذ کھانوں سے مزین ہے، بلکہ یہ آہستہ آہستہ گھوم کر شہر کے ہر کونے کا نظارہ بھی کرواتا ہے۔ 2011ء میں سی این ٹاور نے ایک نیا ایڈونچر متعارف کرایا جس میں سیاحوں کو 356 میٹر کی بلندی پر ٹاور کے کنارے چلنے کی اجازت دی گئی۔ اس موقع پر سیاح کو صرف ایک سیفٹی ہارنس کے سہارے ٹاور کے گرد گول چکر لگوایا جاتا ہے ۔ یہ تجربہ مہم جو افراد کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ اور دور دور سے لوگ اس میں شامل ہونے کی غرض سے آتے ہیں۔ سی این ٹاور ٹورانٹو ایک علامتی عمارت کے طور پر دنیا بھر میں اپنی ایک پہچان رکھتا ہے، اسی باعث اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے سات عجائبات میں ایک ہے۔ سی این ٹاور ٹورانٹو ایک بلند مینار ہی نہیں، یہ کینیڈا کی ترقی، ہمت، اور خوابوں کی تعبیر کا عکس ہے۔ یہ ٹورانٹو کا دل ہے، اور ہر اس فرد کے لیے خاص ہے جو اونچائیوں کو چھونا چاہتا ہے، چاہے وہ حقیقی زندگی میں ہو یا علامتی طور پر۔ ہم کچھ دیر اس کی زمینی حاطے میں ہی رہے اور ایک ویڈیو ریکارڈ کی، ٹاور کے اندر اور اوپر جانے کے پروگرام کو کسی اور دورے کے موقع تک موخر کیا اور اسٹریٹ کار کے ذریعے چائنا ٹاون روانہ ہوئے۔























