بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کیا۔


جنگ بندی کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے: ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جنگ بندی کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

ایک بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی حدود میں براہموس میزائل داغے، بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ساڑھے 4 بجے سے سیز فائر ہو گیا: اسحاق ڈار

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے 7 تا 10 مئی تک کئی حملے کیے، بھارتی حملوں میں خواتین، بچوں سمیت معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بھارتی حملوں میں عبادت گاہوں سمیت انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق بھارت نے وفاقی دارالحکومت سمیت کئی علاقوں پر قاتل ڈرونز بھیجے، بھارتی میزائل حملوں سے شہری و فوجی اثاثے نشانہ بنے، جس پر پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا۔

شفقت علی خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کا جواب شہری ہلاکتوں سے گریز، درست، محدود اور متوازن تھا، صرف وہ بھارتی اہداف نشانہ بنائے گئے جہاں سے جارحیت ہوئی۔

==================

پاکستان نے بھارت کی طرح شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا: شیری رحمٰن
پیپلز پارٹی کی نائب صدر و سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی طرح شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔

ترک میڈیا کو انٹرویو میں نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت عوام کے جذبات یکجہتی اور قومی اتحاد کے ہیں، پاکستانی عوام اپنی فوج اور حکومت کےساتھ غیر معمولی یکجہتی کامظاہرہ کرر ہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے گزشتہ 3 دنوں میں بلا اشتعال شہری علاقوں پر بم باری کی، شہری اہداف کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، جنیوا کنونشن، یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ساڑھے 4 بجے سے سیز فائر ہو گیا: اسحاق ڈار

شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان نے 3 دن کے بھارتی حملوں کے بعد دفاعی طور پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی کم کرنے، بات چیت سے مسائل حل کی کوشش کی۔

پیپلز پارٹی کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کی غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش بھارت نے مسترد کر دی، اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تھا تو غیر جانبدار تحقیقات سے کیوں بھاگا؟