سچ تو یہ ہے،
مغرب میں لوگ اپنے مذہب سے دور چلے گئے، خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔۔
بشیر سدوزئی،
مغربی معاشرہ مذہب اور خاندانی نظام سے دور ہوتا جا رہا ہے، ایشیائی تارکین وطن، کسی نہ کسی طور اپنے مذہب اور روایات کے ساتھ جڑے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عیسائیت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ مسلمان تارکین وطن بھی دو طبقات میں تقسیم ہیں، ایک وہ جن کو برصغیر اور مشرق کے دیگر علاقوں سے ہجرت کئے 15، 20 برس یا کچھ عرصہ اس سے بھی زیادہ ہو چکا۔ اب ان کے بچے پڑھ لکھ کر بڑھے ہو چکے اور کچھ وسائل بھی جمع ہوئے ہیں وہ واپسی کا سوچ رہے ہیں مگر ان کی اولاد مشرقی معاشرے میں پلٹنا نہیں چاتی۔ ان کو اپنے آبائی علاقوں میں بہت مسائل اور زندگی مشکل لگتی ہے۔ خاص طور پر تارکین وطن کی اولادوں کو مشرقی معاشرے میں سوک مسائل کا بہت خوف ہے۔ وہ کہتے ہیں اس جہاں میں زندگی کیسے گزرے جہاں پانی اور بجلی ہی نہیں۔ جس معاشرے میں صفائی ستھرائی اور سب سے بڑی بات کہ انسان کی جان اور عزت محفوظ نہیں۔ یہاں تو ریاستیں ہی حقوق اور تسلیم شدہ آزادی مانگنے پر اپنے شہریوں کو قتل کر دیتی ہیں ۔ جہاں فسطائیت ہو، جمہوری آزادیاں اور انسانی حقوق نہ ہوں وہاں انسان کیسے زندگی گزار پائیں گے۔ ریاستی عہدوں پر تعینات لوگ ریاستی وسائل سے لطف اٹھائیں اور عوام مسائل و مصائب کا شکار ہوں وہاں کیوں کر رہا جا سکتا ہے ۔ اس حوالے سے وہ بہت مثالیں دیتے ہیں، اور کافی دلائل ہیں ان کے پاس جن کے جوابات دینا مشکل ہے ۔ صرف اس بنیاد پر وہ نسل اپنے اباواجداد کے چھوڑے ہوئے وطن کو واپس آنے کے لیے تیار نہیں کہ مغرب میں رہنے سے مشرقی ثقافت سے دور چلے جائیں گے۔۔ ویسے بھی یہاں پلی پڑی نسل اس معاشرے میں رچ بس گئی ہے، اس کو مشرقی ثقافت و روایات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ مغرب کی آزاد فضاؤں کو خدا حافظ کہہ کر ایسی جگہ جانے کو تیار ہو جہاں زندگی کی سہولیات کم ہیں۔۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جن کو مغرب میں ایمان خطرے میں لگتا ہے نہ اپنے ابواجدا کی شلوار قمیض سے کوئی دلچسپی رہی، ان کی زندگی بڑی آسانی سے گزر رہی ہے وہ سب کچھ بھول بیٹھے اور انہی ملکوں کو اپنا وطن تصور کرتے ہیں جہاں ان کو حق شہریت مل چکا۔ وہاں ان کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ خاص طور پر نوجوان تو کسی صورت واپسی کا نام تک نہیں لیتے۔ اسی علاقے کے ایک سپر سٹور کے کاونٹر پر کھڑی نوجوان لڑکی مقامی لباس ملبوس کئے ہوئے تھی جب کہ رنگ و نقش سے بھی انگریز لگ رہی تھی۔ اس کی ٹھیٹھ پنجابی لہجے نے اس کی مشرقیت کو عیاں کر دیا۔ میں نے اس سے آبائی تعلق کا معلوم کیا تو بتایا گیا کہ وہ گرداس پور پنجاب سے ہے۔ اس کو لندن آئے دو ڈھائی سال ہوئے تعلیم کو مکمل کرنے آئی تھی سو اب فارغ ہو کر کام کر رہی ہیں۔ ماں باپ کا استدلال ہے کہ واپس آئیں تو آپ کی شادی کریں لیکن دلبر کنور اب گرداس پور جانے کو تیار نہیں۔ وہ اب زندگی کو یہاں ہی جاری رکھے گی۔ اس کو یہاں کی زندگی زیادہ بہتر اور پرسکون لگتی ہے۔ ایسے کئی نوجوان ہیں جو واپس نہیں جانا چاتے۔ اس مہنگے ترین شہر میں بھی ان کو زندگی آسان لگتی ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی حال میں خوش نہیں۔ لندن کے ساوتھ ہال میں ایسے ہی ایک پاکستانی جوڑے سے ملاقات ہوئی، جو دو بچوں کے ساتھ یہاں رہ رہا ہے۔ یورپ کا پاسپورٹ ہولڈر ہونے اور پاسپورٹ کی تمام مرعات حاصل کرنے کے باوجود برطانیہ سے شدید نالاں ہے، حضور برطانیہ اور برطانوی معاشرے کے شدید نقاد ہیں۔ تنقید کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی حالاں کہ اس کو بیماری الانس اور اس کی بیگم کو میاں کی دیکھ بھال اور بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کا اچھا خاصا الاونس مل رہا ہے۔ خاندان کا کوئی فرد کام کاج کی طرف مائل نہیں۔ میاں صاحب بات بات پر برطانیہ کو سفید ہاتھی اور خطہ کا بدمعاش کے القاب سے نوازتے ہیں ۔ لیکن اس بیماری کی معقول وجہ نہیں بتاتے۔ موصوف کو یورپ میں رہتے 30 برس ہو گئے، ایک یورپین ملک کے شہری ہیں جہاں انگریزی نہیں پڑھائی جاتی اس لیے بچوں کو پڑھانے لندن میں قیام پذیر ہیں۔ بلا محنت گھر بھی چل رہا ہے اور بچے بھی پڑھ لکھ رہے ہیں۔ خاندان کا کوئی فرد کام کاج نہیں کر رہا اس کے باوجود ریاست بھرپور مالی مدد کر رہی ہے لیکن اطمینان نہیں آ رہا۔ واپس آنے تو نہیں چاتے لیکن آبائی وطن کو یاد بہت کرتے ہیں۔ وطن کی محبت میں ان کی باتیں سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ انسان واقعی ناشکرا ہے، یہ خاندان وہاں ہوتا تو بھیک مانگ رہا ہوتا کچھ درد دل والے تھوڑا بہت دے دیتے اکثریت گالیاں اور طعنے، اور بچے آوارہ گردی کر رہے ہوتے۔۔ عیسائیوں نے چرچ جانا ہی چھوڑ دیا۔ چرچ عبادت گزاروں سےخالی ہو گئے ہیں۔ پادریوں نے قید تنہائی سے نکلنے کے لیے چرچ فروخت کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ لندن کے علاقے ایری براڈوے میں ایک چرچ کو دیکھا جو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کو مسلمان کمیونٹی نے خریدا اور مسجد میں بدل دیا۔ تاہم بہت ساری تاریخی عبادت گاہیں جن کو تعمیر ہوئے کئیں سو سال ہوئے اب ویران ہو رہی ہیں۔ چرچ انتظامیہ نے برائے فروخت کے بورڈ نصب کر دیئے ہیں۔ خریدے ہوئے چرچ تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کئے جا سکیں گے۔ لوگوں کی مذہب سے دوری عقیدہ ٹوٹنے کا نقصان تو اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ خاندان اور معاشرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ فلاحی ریاست کے تصور نے خاصی حد تک اس کو سہارا دیا ہوا ہے ورنہ بچے اور بوڑھے تو جیتے جی مر جاتے۔ یہ دونوں ریاست کی ملکیت ہے۔ ماں پاپ میں جھگڑا ہو گیا یا بچے کی پرورش اور کفالت میں کوتاہی ہو رہی ہو تو بچہ بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا ہے۔ اور بوڑھوں کو جب اولاد تنہا چھوڑ کر نکل جاتی ہے تو پھر ریاست سھنبال لیتی ہے۔ بوڑھوں کو گھر اور پنشن دینے کا طریقہ بڑا زبردست ہے 60 سال کی عمر انسان اپنے پنشن اکاونٹ میں کچھ رقم جمع کرتا رہتا ہے اور 61 سال شروع ہونے پر پنشن شروع ہو جاتی ہے۔ پھر بوڑھے کا گزارہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود گھر اب مکان بنتے جا رہے ہیں یا گھروندے رہ گئے ہیں ۔ ظاہر ہے جس مکان میں خاندان نہ بنے اس مکان میں مکین کہاں ہوتے ہیں اور وہ مکان گھر کب بنتا ہے جہاں مکین نہ ہوں گھر تو خاندان سے بنتا ہے ۔ مشرق سے آنے والوں کو یہی چیز تو پریشان کرتی ہے کہ ان کے بچے جن کو پال پوس کر جوان کیا وہ جوان ہونے کے بعد اپنی زندگی میں مگن ہو جائیں گے تو پیرانہ سالی وہ ہوسٹل میں اپنے دور حیات کا اختتامی پڑاؤ کیسے گزار پائیں گے۔ اس کے باوجود اکثریت ایشیائی ممالک سے امریکہ امیگریشن کر رہی ہے۔ ہمارے دیرینہ ساتھی عامر راجپوت جو پاکستان میں ایک بڑی اور کامیاب کیٹرنگ فرم کے مالک ہیں، پاکستان کو تارک کر گئے۔ ان دنوں برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔ کسی اور شہر سے سفر کرکے ملاقات کے لیے لندن تشریف لائے، اپنی گاڑی میں لندن گھمایا۔ ایری براڈوے کے علاوہ لندن کے مختلف علاقوں کی سیر بھی کرائی اور تازہ بہ تازہ گرم کافی سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ عامر بھائی دوستوں کے دوست اور مخالفین کو درگذر کرنے والے خوش اخلاق، خوش لباس اور خوش گفتار مسکراتی شخصیت کے مالک ہیں بھابی اور ایک بچے کے ساتھ ساوتھ ہال تشریف لائے، جہاں ہمارے داماد محمد امجد خان اور صاحبزادی ڈاکٹر مرضیہ خانم کے گھر ہمارا قیام تھا۔ اپنی گاڑی میں لندن کے بہت سارے تاریخی علاقوں میں لے گئے ۔ چوں کہ انہوں نے تعلیم بھی اسی شہر میں حاصل کی لہٰذا لندن کے بارے میں خاصی معلوم رکھتے ہیں۔ اب انہوں نے اس شہر کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔ دونوں میاں بیوی اپنے دین و ثقافت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور بچے بھی ان کے ساتھ بھر پور تبع دار ہیں ایسے کئی اور خاندان ہیں جن کے بچے اسلامی تعلیمات حاصل کر رہے ہیں، یورپ کے رنگ نے ان کو متاثر نہیں کیا۔ دریا ٹیمز (Thames) لندن کا نشان ہے۔ امجد میاں نے دوسرے روز ہی سنٹرل لندن میں دریا ٹیمز اور اس کے اطراف کے علاقے دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ دریا ٹیمز لندن کی خوبصورتی میں اضافہ کا موجب ہی نہیں ایک تاریخ بھی ہے اور اس کے اطراف پر ہیریٹیج پھیلا ہوا ہے ۔ لال بسں میں داخل ہوئے دروازے پر لگی مشین پر امجد خان نے اپنا بنک کارڈ اسکریچ کیا اور بیٹی کا دیا ہوا کارڈ میں نے اسکریچ کیا اور ہم باقاعدہ بس کے اس حاطے میں داخل ہوئے جہاں مسافر بیٹھے جمائیاں لے رہے تھے۔ لندن میں عوام کی اکثریت سفر میں ہی ہوتی ہے ان کو نیند کا وقت نہیں ملتا، بس میں اونگھ کر کبھی جمائیوں سے اس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ امجد میاں نے دوسری منزل پر چلنے کی تجویز دی کہ آپ کو لندن دیکھنے اور سمجھنے کا اچھا موقع ملے گا۔ واقعی میں بس کی دوسری منزل سے لندن کی سیر کرنے کا الگ ہی مزا ہے۔ آدھا سفر لال بس کی دوسری منزل پر بیٹھ کر کیا اور آدھا لوکل ٹرین پر زیر زمین۔ زیر زمین بھاگتی ریل کی آواز کے سوا اور کچھ نہیں لندن جو دیکھا بس کی دوسری منزل سے۔ سنٹرل لندن پہنچتے ہوئے ہمیں ڈیڑھ گھنٹہ لگا ہو گا۔ ٹرین تو واقعی تیز تر سواری ہے لیکن بس کے سفر میں وقت لگتا ہے۔ ایک بس تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رکتی ہے اور ٹریفک جام ہونے کی صورت میں وقت کا کوئی تعین نہیں کہ آپ منزل پر کب پہنچیں اور ٹریفک میں کتنہ وقت پھنسے رہیں۔ دنیا میں جتنے بھی پرانے شہر ہیں وہاں ٹریفک مسائل تو ہیں۔استنبول میں کچھ معلوم نہیں کہ ٹریفک کس وقت جام ہو جائے۔ لیکن لندن میں ٹریفک کا حال استنبول جیسا نہیں یہاں مینجمنٹ بہت اچھی ہے سڑکیں ون وے ہیں لہٰذا ٹریفک پھنسنے کے واقعات تو کم ہی ہوتے ہیں البتہ رفتار سست ہو جاتی ہے، کبھی کبھی تو گاڑی کچوہ کی چال چلنے لگتی ہیں۔ یہ صرف لندن کا مسئلہ ہی پانچ سات سو سال پہلے جو شہر ڈیزائن ہوئے تھے۔ وہ کتنی ٹریفک برداشت کریں۔ اس وقت کی آور آج کی ٹریفک میں بہت فرق ہے۔ ہمارے کراچی کے وہ علاقے جو 1844ء میں ڈیزائن ہوئے وہ آج کی ٹریفک کو بڑی آسانی سے برداشت کر رہے ہیں، اس کی وجہ وہ سول انجنیئر ہے جس نے ملازمت تو چھوڑ دی مگر اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی کہ اتنی چوڑی سڑکیں تعمیر کر کے میونسپلٹی کے وسائل ضائع ہوئے ان کو تنک اور کم کشادہ ہونا چاہئے تھا۔ موصوف کا بلدیہ لندن سے بلدیہ کراچی میں تبادلہ کیا گیا تھا، وہ اس وقت لندن کی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے ناکافی سمجھ رہا تھا۔ لہذا لندن میونسپلٹی کے تجربات کی روشنی میں اس کا استدلال تھا کہ کراچی چوں کہ نیا شہر آباد گیا جا رہا ہے اس کی سڑکیں اتنی چوڑی ہونا چاہئے کہ دو سو سال تک بلا رکاوٹ ٹریفک چل سکے۔ میونسپلٹی کی انتظامیہ اس کے اس مشورے سے قاہل نہ ہوئی اور بندر روڑ کو اتنا چوڑا کر کے میونسپلٹی کے وسائل ضائع کرنے پر اسے برطرف کر دیا گیا۔ مسٹر رچرڈ براڈ تو واپس انگلستان چلا گیا لیکن بندر روڑ عیدگاہ میدان سے آگئیں سنگل رو ہو گئی، جو آج ٹریفک کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے ۔ ہمارے کراچی میں ٹریفک کا عذاب وہ گاڑیاں اور 45 لاکھ موٹرسائیکل ہیں جو سڑکوں فٹ پاتھوں پر بے ترتیب کھڑی رہتی ہیں۔ نہ صرف ٹریفک جام معمول بن چکا بلکہ فٹ پاتھ پر موٹرسائیکل کے قبضے کے باعث پیدا چلنا بھی دشوار ہے۔ آج اگر پارکنگ کے مسائل حل ہو جائیں اور ٹریفک مینجمنٹ بہتر ہو جائے تو کراچی کی سڑکیں مذید دو سوسال کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ لندن میں یہ مسائل نہیں کہ گاڑیاں سڑک پر اور موٹرسائیکل فٹ پاتھ پر کھڑی ہے ۔ لندن میں موٹرسائیکل سرے سے نظر ہی نہیں آتی ایسا لگتا ہے کہ موٹر سائیکل پا پابندی ہے۔ گورے سمجھ دار لوگ ہیں وہ سمجھ گئے کہ یہ نہ موٹر ہے اور نہ سائیکل۔ ہم نے دونوں کو ملا کر ایک کر دیا لیکن لندن کی سڑکوں پر موٹر الگ اور سائیکل الگ، موٹرسائیکل نظر نہیں آئی۔ آن لائن سامان پہنچانے والوں کے پاس دو پہیہ والی سواری نظر آئی جس کو موٹر تو کہہ سکتے ہیں لیکن سائیکل نہیں۔ اور وہ بھی کسی سڑک یا فٹ پاتھ پر کھڑا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سرکلر ریلوے چوں کہ لندن بازار میں زیر زمین چلتی ہے۔ہم ریلوے اسٹیشن پر اتر کر الیکٹرانک سیڑھیوں کے ذریعے دوسری یا تیسری منزل پر آئے اور وہاں سے خاصا فاصلہ طہ کرنے کے بعد سڑک پر تو سنٹرل لندن کے مصروف بازار میں موجود تھے۔























