
25 فروری 2025ء
بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے ملک میں فنانشل ڈیپننگ میں نمایاں اضافے کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک نجی قرضوں کی کم سطح کے ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ منگل کو پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئےگورنر نے کہا کہ ہمارے بینکوں کو اپنے موجودہ کاروباری ماڈل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، نیز انہیں اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینے اور مالی وساطت (intermediation) میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے اسٹریٹجک وژن 2028 میں بنیادی توجہ مالی خدمات تک جامع اور پائیدار رسائی کو فروغ دینے پر دی گئی ہے۔ اس میں ایک جدید اور جامع ڈجیٹل مالی ایکو سسٹم کی تشکیل اور مالی نظام کی کارکردگی، اثرپذیری، انصاف پسندی اور استحکام کو بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم شدہ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں اسٹیٹ بینک کے بنیادی کاموں میں مالی شمولیت کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے لیے اس شعبے کی بے حد اہمیت ہے۔
پچھلے عشرے کے دوران مالی شمولیت میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک کی بالغ آبادی کے 64 فیصد کے بینک اکاؤنٹس ہیں ، جو 2018ء میں 47 فیصد تھے، جبکہ صنفی فرق جو 47 فیصد تھا، کم ہو کر 34 فیصد رہ گیا ہے۔
مالی شمولیت کی تازہ ترین قومی حکمت عملی 2024-2028 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2028ء تک 75 فیصد بالغ آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ ہوں گے اور صنفی فرق مزید کم کر کے 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کو پورا کرنے کے لیے ہم خاص طور پر کم آمدنی والے افراد، مائکرو فنانس شعبے، ایس ایم ایز اور زراعت جیسے شعبوں کے لیے مالی خدمات کی ڈیپننگ ، وسعت اور معیار بڑھانا چاہتے ہیں۔
ملک کی اقتصادی ترقی میں بینکاری اور مالی نظام کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے ملک کو مالی شعبے کی ڈیپننگ اور وسعت میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں بینکوں کے قرضہ پورٹ فولیو کا شدید جھکاؤ مستحکم کارپوریٹ اداروں کی طرف یعنی تقریباً 74 فیصد ہے، اور صرف 5 فیصد قرضے ایس ایم ایز کو دیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بینکاری صنعت پر زور دیا کہ اپنی کاروباری حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لے کر ڈپازٹس اکٹھا کرنے پر توجہ مرکوز کرے اور نجی شعبے کو خاص طور پر ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبوں کو قرضوں کا اجرا بڑھائے ۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکاری صنعت پر زور دیا کہ وہ اپنے ہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھائے، اور سیلولر اور سیٹلائٹ ڈیٹا جیسے متبادل ڈیٹا ذرائع کو کام میں لائے۔ اس طرح کم خرچ اور موثر چینلز بنا کر انہیں مالی خدمات تک رسائی، استعمال اور معیار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے، خاص طور پر ایس ایم ای ، زراعت اور خواتین کی آبادی کو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “جنگی بنیادوں پر کام کرنے” کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری اداروں کو ترجیحی طور پر محفوظ پورٹل کے ذریعے ڈجیٹل لین دین کی رسائی ملے اور وہ اپنی ادائیگیوں کو ڈجیٹائز کریں ۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مالی اداروں سے یہ بھی کہا کہ وہ قرضہ، مارکیٹ، سیالیت ، اور آپریشنل خطرات میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے کی اپنی صلاحیت کو بہتر بنائیں۔ پائیداری کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے تحقیق، پالیسی سفارشات، اور اشتراک کو فروغ دینے پر زور دیا۔
جمیل احمد نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بینکنگ سمٹ کے شرکا پُرمغز بات چیت اور خیالات کا تبادلہ کریں گے جو اُن پالیسیوں اور اقدامات کے لیے سنگِ بنیاد کا کام کر سکتے ہیں جو ملک کو مزید پائیدار اور منصفانہ مستقبل کی طرف لے جا ئیں۔























