ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی پر گرفتاری کے خدشات: کیا حکومت انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی پر گرفتاری کے خدشات: کیا حکومت انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

لاہور/اسلام آباد: 2019 میں سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے والے پاکستان عوامی تحریک (PAT) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی پر گرفتاری کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر وہ پاکستان واپس آتے ہیں، تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لانے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے، کیونکہ وہ پی ٹی وی ہیڈکوارٹر پر حملے کے کیس سمیت کئی تحقیقات میں مطلوب ہیں۔

سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان
ڈاکٹر طاہر القادری، جو پاکستان عوامی تحریک (PAT) کے سربراہ ہیں، گزشتہ کچھ سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سیاست اور پارٹی چیئرمین کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، “میں پاکستانی سیاست، سیاسی سرگرمیوں اور PAT کے چیئرمین کے عہدے سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔”

انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کی قیادت اپنے بیٹوں کے حوالے نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اسے پارٹی کونسل کے سپرد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “ماڈل ٹاؤن واقعہ کے لیے ہماری قانونی جنگ میری آخری سانس تک جاری رہے گی۔ یہ سیاست کا نہیں، ایمان کا معاملہ ہے۔”

صحت اور علمی مصروفیات
اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں، ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا، “میں پاکستان عوامی تحریک کی سیاسی سرگرمیوں سے خود کو الگ کر رہا ہوں۔ میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ میرے صحت کے مسائل اور علمی مصروفیات کی وجہ سے آیا ہے۔”

ماڈل ٹاؤن واقعہ اور اسلام آباد دھرنا
17 جون 2014 کو، لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے PAT کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسی سال کے آخر میں، ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے چیئرمین (اب وزیراعظم) عمران خان کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں دو ماہ سے زائد عرصے تک دھرنا دیا۔

تعلیمی اور سماجی خدمات
ڈاکٹر طاہر القادری نے اکتوبر 1981 میں منہاج القرآن کے نام سے ایک غیر منفعتی ادارہ قائم کیا، جو تعلیمی، مذہبی اور ثقافتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مئی 1989 میں پاکستان عوامی تحریک (PAT) کے نام سے ایک سیاسی پارٹی بھی بنائی، جس کا بنیادی مقصد عوام کے لیے قانون اور نظم کی فراہمی، انسانی حقوق کا احترام، غربت کا خاتمہ اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا تھا۔

1990 میں، PAT کے اراکین نے عام انتخابات میں حصہ لیا، اور بعد میں ڈاکٹر طاہر القادری قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ تاہم، انہوں نے 29 نومبر 2004 کو اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔

آئندہ کے امکانات
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی کا انحصار موجودہ سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ اگر حکومت اور مخالفین کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں، تو ممکن ہے کہ انہیں واپس آنے کا موقع ملے۔ تاہم، اگر مقدمات اور تحقیقات کا دباؤ برقرار رہا، تو ان کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔

نتیجہ
ڈاکٹر طاہر القادری کا مستقبل پاکستانی سیاست کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ کیا وہ واپس آ کر اپنی تحریک کو دوبارہ زندہ کریں گے، یا بیرون ملک رہ کر اپنی علمی اور سماجی خدمات پر توجہ مرکوز کریں گے؟ آنے والے وقت میں ہی اس کا جواب سامنے آئے گا۔ فی الحال، ان کے حامیوں اور مخالفین دونوں ہی ان کی اگلی چال پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔
====================