وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہءِ آذربائیجان

باکو: 24 فروری 2025.

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں نگورنوقاراباخ کی آزادی کیلئے 44 روزہ جنگ کے ہیروز اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے “یادگارِ فتح” کا دورہ

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج قاراباخ جنگ (44 روزہ جنگ) کی یاد میں حال ہی میں تعمیر کردہ “یادگار فتح” کا دورہ کیا، جو آذربائیجان کی اپنی علاقائی سالمیت کو بحال کرنے کے حوالے سے تاریخی فتح تھی۔

وزیر اعظم نے یادگار پر پھولوں کا گلدستہ رکھا اور آذربائیجان کے قومی ہیروز کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے 2020 نگورنو قاراباخ تنازعہ کے دوران بہادری سے اپنے وطن کی حفاظت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے تاثرارات قلمبند کرتے ہوئے کہا کہ فتح کی یہ شاندار یادگار انتہائ جرآت، ہمت اور قومی فخر کی علامت ہے اور آذربائیجان کے غیر متزلزل جذبے اور عزم کا ثبوت ہے۔

انہوں نے 44 روزہ جنگ کے دوران آذربائیجانی قوم کی جانب سے غیر معمولی بہادری اور قومی عزم کے مظاہرے کی تعریف کی۔ وزیرِ اعظم نے اجاگر کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ ہمیشہ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا رہے گا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اس کی کوششوں کو سراہتا ہے.

فتح کی یادگار کا دورہ، جو آذربائیجان کے قومی فخر کی علامت ہے، پاکستان کے آذربائیجان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے حمایت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے.

وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی سمیت اعلیٰ سطح کے حکام بھی موجود تھے۔
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان کاروباری سرگرمیوں سے معیشت مستحکم ہو گی، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبہ میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان آذربائیجان بزنس فورم سے خطاب

باکو۔24فروری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان کاروباری سرگرمیوں سے معیشت مستحکم ہو گی، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبہ میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، دونوں ممالک کے تاجروں کو پرکشش تجارتی مراعات سے استفادہ کرنا چاہئے، نارتھ ساؤتھ راہداری کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے گیم چینجر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان آذربائیجان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اخلاص، باہمی اعتماد اور احترام اور عوام کی سطح پر محبت پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں، آذری قیادت کے ساتھ ملاقات کے دوران وسیع تناظر میں تعمیری بات چیت ہوئی، ہم نے آگے بڑھنے پر دوٹوک اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے کاروباری طبقہ سے خطاب کرکے خوشی ہوئی، ہماری دوطرفہ تجارت 14 ملین ڈالر ہے، ہم اسے جلد 2 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، اس بارے میں معاہدوں کو ایک ماہ میں حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا ہے، پاکستان سے باسمتی چاول برآمد کئے جائیں گے، آذربائیجان کے صدر نے درآمدی ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا ہے، اس طرح ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، ان شعبوں کا جائزہ لیں گے جن میں ٹیرف کم ہے تاکہ درآمدات اور برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایل این جی بھی تجارتی اشیاء میں شامل ہے، اگر ہم مل کر کوشش کریں گے تو 2 ارب ڈالر تجارتی ہدف کا حصول ممکن ہو گا۔ ان معاہدوں پر اپریل میں پاکستان میں دستخط کئے جائیں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے دونوں ممالک کے نمائندوں پر مشتمل مستقل انفارمیشن بیورو قائم کیا جائے گا جو جدید سہولیات پر مشتمل ہو گا جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کو بروقت اور حقائق پر مبنی معلومات حاصل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مضبوط دفاعی تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ڈیفنس مینو فیکچرنگ فیسیلٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل بھروسہ، سستی ٹرانسپورٹیشن اور روابط کے فروغ کیلئے نارتھ ساؤتھ کوریڈور اہم ہے، اس حوالہ سے مفید بات چیت ہو گی، گوادر پورٹ ہماری تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، یہ گیم چینجر منصوبہ ہے، ہماری توجہ اس پر مرکوز ہے، آذربائیجان چیمبر آف کامرس اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالہ قائم کیا گیا ہے، یہ دوطرفہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان چیمبر آف کامرس باکو سمیت آذربائیجان کے مختلف شہروں میں کام کر رہا ہے، اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی، آذربائیجان، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مفاہمت سب کے مفاد میں ہے، آذربائیجان نے اسلام آباد میں ماہرین کی ٹیم بھیجی جو وفاقی دارالحکومت کی تزئین و آرائش کیلئے بھرپور کام کر رہی ہے۔