لاہور سے کئی اہم اور تازہ ترین خبریں- رپورٹ مدثر قدیر

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے مقامی ہوٹل میں بزم قرشی پاکستان کے زیر اہتمام “صحت کا حصول فطری طریقہ علاج کے ساتھ” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی، ڈاکٹر زاہد اشرف، پروفیسر حکیم منصور العزیز، حکیم مختار احمد برکاتی، و دیگر موجود تھے۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر کہا کہ حکمت اور یونانی طریقہ علاج انتہائی قدیم ہے۔ پنجاب میں انسانی زندگیوں کے دشمنوں اتائیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ہمیں ایک صحت مند زندگی گزارنے کیلئے صحت مند لائف سٹائل اپنانا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عوام تک صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔

لاہور میں پاکستان کا سب سے بڑا 915 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ بنایا جا رہا ہے۔ لاہور اور سرگودھا میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی بنائے جا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نظام صحت میں بہتری کیلئے بنیادی اقدامات اٹھا رہی ہے۔
======================


ٹاؤن شپ لاھور میں عظمی عامربٹ ممبر انوائرمنٹ کمیٹی پنجاب اور چیئرپرسن نوازشریف لوور گروپ کی صدارت میں کارکنان پاکستان مسلم لیگ ن کا اجلاس ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ھوے عظمی عامربٹ نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب رمضان شریف میں صوبہ کی مستحق عوام کے لیے مفت راشن حاصل کرنے کے لیے یو نین کونسل آفس میں مستحقین کا اندراج کروائیں تاکہ حق دار کو اسکا حق مل سکے ۔ اجلاس میں عظمیٰ عامربٹ

۔منور حسین نقوی صدر نوازشریف لوور گروپ ۔ چوہدری واجد ۔ پروفیسر اطہر امین ۔ عدیم اجمل ۔ خالد بیگ۔ شکیل بھٹی ۔ اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

=====================

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ آسیہ خانم نے کہا ہے کہ نرسنگ کا شعبہ ہیلتھ کے سسٹم کا بنیادی عنصر ہے جس کو نظر انداز کر کے طبی خدمات کی فراہمی کا تصور کسی طور بھی ممکن نہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نرسز سپیشلائزیشن اور ریسرچ کو اپنا شعار بنائیں اور میڈیکل ایجوکیشن پر زیادہ سے زیادہ فوکس کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی آئی این ایس میں مریضوں کی بہتر نگہداشت اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے “نرسز کی اعلیٰ تعلیم” کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ہیڈ نرس محمودہ تبسم،شبنم زار،شگفتہ علی،ناہید اختر،روبینہ ارم، شیبہ ہارون،نرسنگ انسٹرکٹر ساجدہ نصرت،اسسٹنٹ نرسنگ انسٹرکٹرشازیہ کے علاوہ نرسنگ آفیسرز اور نرسنگ کالج لاہور جنرل ہسپتال کی طالبات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔
آسیہ خانم کا کہنا تھا کہ میڈیکل کے اس اہم ترین شعبے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس سے نرسنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا مستقبل مزید تابناک اور روشن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں ” پیشنٹ کئیر” اور” وارڈ مینجمنٹ” میں نرسز کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال مینجمنٹ کا نہ صرف کام آسان ہو جاتا ہے بلکہ نرسیں بھی ڈاکٹرز کے شانہ بشانہ احسن انداز میں اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ نے مزید کہا کہ میڈیکل سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ نرسنگ ایجوکیشن اور ٹریننگ کے شعبے میں بھی جدید رحجانات کا عنصر غالب ہے اور آج کے دور میں روائتی نرسز کی بجائے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سپیشلائزیشن نے اس شعبے کے معیار اور اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے جس کے لئے نرسنز کو مسلسل اعلیٰ تعلیم کیلئے جدوجہد جاری رکھنا پڑتی ہے تاکہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔
آسیہ خانم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی طرح نرسز کو بھی اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کو بہتر بنانے اور “پیشنٹ کئیر” کے لئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے سنجیدہ کوششیں،انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نرسز پر زور دیا کہ مریض کی شفایابی ادویات سے ممکن نہیں جبکہ اُن کی بہتر نگہداشت اور سٹاف کا حسن سلوک اُن کو بر وقت صحت یاب ہونے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ نرسز کی پیشہ وارانہ سکلز کو بہتر بنانے اور اُن کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے پروفیشنل ٹریننگ /کورسز وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ایسی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا رہے گا تاکہ نرسیں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتیں بہتر سے بہتر بنانے کے مواقع سے مستفید ہوتی رہیں۔