
پیپلز پارٹی اور سرمایہ کاروں کے درمیاں خلیج بڑھانے کا کام کس نے کیا کیا خود پارٹی اس کی ذمےدار ھے یا اس کے مخالفین یا کوئی اور
یہ کہا جاے کہ ہی سب وجوحات ہی پارٹی اور سرمایہ کاروں کے درمیاں خلیج بڑھانے کے ذمےدار ہیں تو غلط نہ ھوگا۔
پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بزنسمیوں سے ملاقات پر کون پریشان ہے اور کون ان تعلقات کو دوبارہ خراب کرنے کی کوشش کر رہا ھے
ماضی میں پارٹی کی صنعتوں کو خومیانے اس کی ایک وجہ بنی تھی اور پارٹی کی کوششوں کے باوجود یہ تعلقات بہتر نہ ھو پاے گو کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت میں پارٹی کی پالیسیاں سرمایاکاروں کی مشاورت سے بنای گیں تھی اور پارٹی نے اپنی مزور پالیسی کو نرم کیا تھا۔ تاھم یہ خلیج بہت ذیادہ کم نہیں ھو سکی۔
پھر اس خلیج کا فائدہ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف نے اٹھایا اور خود کاروباری شخصیت کے طور پر سامنے آے اور سرمایہ کاروں کے مفادات کی نہ صرف بات کی بلکہ ملک کی پالیسیاں بھی سرمایہ کاروں کے مفاد میں بنائ گئ۔ ملک کے سرمایہ کار نوازشریف کے قریب اگے اور اشٹیبلشمنٹ نے اس کی نہ صرف حوصلہ آفزائ کی بلکہ ایک ایسا بیانیا بنایا گیا کہ پیپلز پارٹی صرف جاگیرداروں کی پارٹی ھے اور اس کو ملک کے سرمایہ کار طبقہ کا مفاد عزیز نہیں ۔
پارٹی خود اس بیانیے کا اثر نہ ختم کر سکی اور نہ سرمایہ کاروں کو اپنے قریب لانے کے لئے کوئی کوشش کی گی۔
کراچی سرمایہ کاروں کا حب سمجا جاتا ہے اور سندھ کے دارالحکومت ھوبے کے باوجود اس بات کی شکایات رھیں کہ کراچی میں سرمایہ کاروں کے لئے سہولتیں نہ کافی ہیں ان شکایات کا فائدہ میاں نوازشریف نے اٹھایا اور سرمایہ کاروں کو پنجاب میں کاروبار کرنے اور سہولتیں فراھم کرنے کی آفر کی بزی تعداد میں صنعتیں پنجاب منتقل ھو گیں اور سرمایہ کاروں کا پیپلز پارٹی سے اعتماد آٹھ گیا ۔بینظیر بھٹو اور صدر اصف ذرداری کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب 90 کی دھای میں ایم کیو ایم اور نواز لیگ کا اتحاد ھوا اور کراچی کے حالات بدتر ھوگے امن وامان تباہ ھوگیا ۔
پیپلز پارٹی نے اس صورتحال کو اپنے خلاف ساذش قرار دیا ۔ خلیج بڑھنے کا نقصان نہ صرف سرمایہ کاروں کو ھوا اور پورٹ سٹی سے دور ھونے کی وجہ سی ان کے کاروبار خاص طور سے ایمپوٹ ایکسپورٹ پر بہت اثر پڑا ۔ پیپلز پارٹی مخالف عناصر نے سرمایہ کاروں کو یہ باور کرایا کہ صرف اسٹیبلشمنٹ ھی آپ کے مسائل حل کرسکتی اور اسی سے بات کی جاے۔ سرمایہ کاروں نے اس بات کی شکایات اسٹیبلشمنٹ سے کی جس کو پیپلز پارٹی نے اپنے خلاف سازشی قرار دیا بلاول بھٹو زرداری نے اس خطرہ خو بھانپتے ھوے خود پہل کی اور سرمایہ کاروں کو بلا کر ان کی شکایات سنی اور مشورہ دیا کہ وذیر اعلی سے براہ راست رابطے رکھو ۔ بلاول نے خود بھی شکایات کی کہ سرمایہ کار ھم سے رابطوں کے بجائے دوسروں سے ملاقات کرتے ھیں ۔ ان کی شکایات پر مخالفین نے ایک بار پھر موقع سے فائدہ اٹھانے کوشش کرتے ھوے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رھے ہیں کہ سرمایہ کار پیپلز پارٹی سے ناخوش ھیں ۔ یہ تاثر بھی دیا جا رھا ھے کہ پیپلز پارٹی صرف اپنے من پسند سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراھم کرتی ھے۔ یہ تاثر میاں نوازشریف کے بارے میں بھی رھا مگر تاجروں نے نہ تو ان کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کئ نہ ان کے خلاف ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے شکایات ۔
By Tahir Hasan Khan
صدر مملکت آصف علی زرداری کی ضلع قلات میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت
صدر مملکت کا دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران 18 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
صدر مملکت کا دہشت گردوں کے خلاف بروقت کاروائی کرنے اور جامِ شہادت نوش کرنے پر شہداء کو خراج عقیدت
صدر مملکت نے کاروائی کے دوران 12 دہشت گرد جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سراہا
صدر مملکت کی شہداء کیلئے بلندی درجات، اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا
دہشتگرد عناصر بلوچستان کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، صدر مملکت
ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی خاطر سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری رہیں گی، صدر مملکت
پاکستانی عوام ملک کا امن خراب کرنے والے عناصر کو مسترد کرتے ہیں، صدر مملکت
پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے، صدر مملکت
*
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت عوام کو سستی اور اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے۔ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت جلد ہی سستے مکانات کی اسکیم “ایم ڈی اے ہومز” کے تحت 4 ہزار گھروں کو تعمیر کرکے 5 سالہ اقساط پر دئیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت بعد ازاں نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم اور اسکیم 45 تیسر ٹائون میں جاری ترقیاتی کاموں کے دورے کے دوران کیا۔ اس موقع پر ڈی جی ایم ڈی اے سعید جمانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر لئیق احمد، سیکرٹری ایم ڈی اے وقاص سومرو، سپریڈینٹ انجنئیر شیراز میرانی و دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو ایم ڈی اے کی سستے مکانات کی اسکیم “ایم ڈی اے ہومز” کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور ایم ڈی اے کے تحت ناردن بائی پاس پر “ایم ڈی اے ہومز” کے تحت بنائے جانے والے 4 ہزار مکانات کی اسکیم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی نے ڈی جی ایم ڈی اے سعید جمانی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ہائوسنگ لئیق احمد کے ہمراہ لنک روڈ پر نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم اور ناردن بائی باس سیکٹر 6، اسکیم 45 تیسر ٹائون پر 4000 سستے گھروں کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی کو بتایا گیا کہ تیسر ٹائون میں 80 اور 120 گز جبکہ نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم میں 100 اور 200 گز کے یونٹس قائم کئے جائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس سستے مکانات کی اسکیم “ایم ڈی اے ہومز” کے تحت 4 ہزار گھروں کو تعمیر کرکے 5 سالہ اقساط پر دئیے جائیں گے اور یہ اسکیم شہریوں کو سستی اور اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے بنائی گئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور پارٹی منشور کے تحت عوام کو سستی اور بہتر رہائش کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے اور جلد ہی ایم ڈی اے کے تحت ان دونوں اسکیموں میں 4000 رہائشی یونٹس کی اسکیموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت کراچی سمیت سندھ بھر میں عوام کو سستی اور بہتر رہائش کی فراہمی اور سیلاب و بارشوں سے متاثرہ لاکھوں افراد کو مفت گھروں کی فراہمی جیسے منصوبے جاری ہیں اور ہماری موجودہ حکومت شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور اب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت روٹی، کپڑا اور مکان کے منثور پر دن رات عمل پیرا ہے۔























