جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ ملزمان کیخلاف 2 سال سے زائد کی تاخیر پر مقدمہ درج کروایا گیا۔ پراسیکیوٹر رضوانہ نے موقف اپنایا کہ ہدایت کے باوجود ملزمان غیر قانونی طور پر بلڈ بینک چلا رہے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کیخلاف انڈس اسپتال نے بھی شکایت کی ہے۔ ملزمان اپنے بیگز پر امریکن ایسوسی ایشن آف بلڈ بینکنگ کا جعلی نمبر استعمال کر رہے تھے۔ ملزمان کیخلاف ڈاؤ کی آڈٹ رپورٹ بھی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان بغیر اسکریننگ کیئے خون مہیا کرتے ہیں۔ ملزمان کی اس حرکت سے تھلیسمیا کے شکار بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ ملزمان کو ضمانت دینا دوسرے مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ جج زاہد علی نے دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف سندھ بلڈ ٹرانسفیوزن اتھارٹی کی سیکریٹری نے مقدمہ درج کروایا تھا۔ بلڈ بینک کا لائسنس جولائی 2022 میں ختم ہوچکا ہے۔ ملزمان کیخلاف تھانہ صدر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
=======================

کراچی
مورخہ 30 جنوری 2025

سندھ حکومت کے محکمہ کھیل سندھ کی جانب سے نوجوانوں کے مسائل کے حل کے عنوان سے 3 روزہ یوتھ کانفرنس کا آغاز کل 31 جنوری بروز جمع صبح 10 بجے سے ہوگا۔

کانفرنس کل 31 جنوری سے 2 فروری تک گلستان جوہر بلاک 15 میں یوتھ کلب میں منعقد ہوگی،

پہلا سیشن صبح 10 بجے سے 11:30 بجے تک جاری رہے گا،

دوسرا سیشن 11:45 سے 1:15 تک جاری رہے گا، جس میں سینئر صحافی وسعت اللہ خان، امبر رحیم شمسی اور نادیہ نقی یوتھ کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے،

سیشن نمبر 3: یوتھ کانفرنس میں دو پہر 3 بجے سے 4 بجے تک وزیر کھیل امور نوجوانان، زراعت و اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر، سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری اور رضوان جعفر یوتھ کانفرنس کے مقاصد کے حوالے سے اظہار خیال کریں گے،

سیشن: 4: یوتھ کانفرنس میں 4:15 سے 7:30 تک صحافی اور مختلف شخصیات اظہار خیال کریں گے،

رات 8 سے10 بجے تک میوزیکل پروگرام، مچ کچہری اور قوالی کا پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا ہے،

==========================

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ائیر پورٹ خود کش حملہ کیس
میں گرفتار ملزمہ مسمات گل نساء نے ضمانت کی درخواست پر سرکاری وکیل و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ائیر پورٹ خود کش حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ جے آئی ٹی تاحال کیس کی تحقیقات مکمل کرنے میں ناکام رہی۔ کیس میں گرفتار ملزمہ مسمات گل نساء نے ضمانت کی درخواست دائر کردی۔ وکیل صفائی شوکت حیات نے موقف دیا کہ ملزمہ مسمات گل نساء کو گذشتہ تین ماہ میں سے غیر قانونی جیل میں رکھا ہوا ہے۔ ملزمہ کا ایک سال کا دودھ پیتا بچہ ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے 12 روز میں ملزمان کا چالان طلب کیا تھا۔ اگر چالان پیش نہیں ہوگا تو کیس مزید التوا کا شکار رہیگا۔ عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کردیئے۔ محکمہ داخلہ نے 29 نومبر کو تحقیقات کے لیے کے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ جے آئی ٹی کو پندرہ روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا میڈیٹ دیا گیا تھا۔ عدالت نے گرفتار ملزم جاوید اور گل نساء کو 5 دسمبر 2024 کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔ گرفتار ملزمان کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر 53 روز ہو چکے ہیں۔
=======================
کراچی میں قبرستان کی جگہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سندھ حکومت کا اہم فیصلہ

چیف سیکریٹری سندھ کا کمشنر کراچی کو قبرستان کے لیے 2500 ایکڑ زمین کی نشاندہی کا حکم

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس

اجلاس میں سینیٹر میمبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری داخلہ، کمشنر کراچی سمیت تمام ڈویژنل کمشنر شریک

ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ماسٹر پلان میں قبرستان کے لیے جگہ مختص کرنے کا پابند کیا جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ

آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح اور شہری پھیلاؤ کے باعث موجودہ قبرستانوں کی جگہ کافی نہیں رہی۔ آصف حیدر شاہ

اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے سندھ کے دیگر شہروں میں قبرستانوں کے لیے زمین کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی

اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 13 ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز اور 10 جوائنٹ چیک پوسٹیں کے لئے بھی زمین کی نشاندھی کی ہدایت

سرکاری زمین سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کی تمام ڈویژنل کمشنر کو ہدایت

=========================
سپریم کورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس منصور علیشاہ نے کہا ہے کہ لیگل کا شعبہ صرف علم کے مزید حونصلہ پر منحصر ہے، حلف برداری صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ عہد ہے کہ ہم اس پر عمل بھی کریں گے، اگر ہم اسے توڑتے ہیں تو پھر سب کچھ غلط ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی تقریب حلاف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کراچی بار کےسیکریٹری رحمن کورائی نے جسٹس منصور علیشاہ کو عوامی چیف جسٹس قرار دے دیا۔ وکلا نے جسٹس منصور علی کے حق میں نعرے لگائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علیشاہ نے کہا کہ مجھے چیف جسٹس نہ بلائیں۔ میں سنیئرپیونی جج ہوں اور اسی میں خوش ہوں۔ ہمارے چیف جسٹس موجود ہیں۔ اللہ چیف جسٹس پاکستان کو صحت مند اورر سلامت رکھے۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں کسی سے کہ میں اس وقت چیف جسٹس نہیں ہوں۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان بہت اچھے ہیں ان کے لئیے دعاگو ہوں۔ جسٹس منصور علیشاہ نے کہا کہ میرے لئیے باعث فخر ہے کہ میں اس تقریب کا حصہ ہوں۔ یہ حلف برداری صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ عہد ہے کہ ہم اس پر عمل بھی کریں گے۔ یہ حلف ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں کیا کرنا ہے کس کا ساتھ دینا ہے۔ اگر ہم اس حلف کو توڑتے ہیں تو پھر سب کچھ غلط ہو جائے گا۔ سینئر پیونی جج جسٹس منصور علیشاہ نے کہا کہ ہائی اسکول میں انگلینڈ کے چانسلر کی کتاب میں کہانی پڑھی تھی۔ اس میں لکھا ہے تھا کہ حلف ایسا ہی ہے کہ آپ پانی ہاتھ میں لے کر کھڑے ہیں، ہاتھ کھل گیا تو پانی ضائع ہوجائیگا، پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیگل پروفیشن نالج سے تعلق رکھتا ہے لیکن بہاردی ہی اس کی خوبی ہے۔ لوگوں کے حقوق کیلئے بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ آپ پر پریشر بھی آئیں گے، آپ کو اپنے مقصد سے ہٹایا جائے گا لیکن آپ نے حلف سے نہیں ہٹنا۔ جسٹس منصور علیشاہ نے علامہ اقبال کا شعر پڑھ کر اپنا خطاب پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں، کرغز کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کا بھی آمد پر مشکور ہوں۔ ہم سے کہا گیا بات نا کی جائے لیکن ہم بات کرینگے۔ 26 ویں ترمیم ہوئی تو ہم نہ لائرز کنوینشن کروایا۔ میڈیا کے دوستوں کو بھی پتا چلا جب پیکا ایکٹ آیا۔ پورا جوڈیشل سسٹم اپنی مرضی کے ججز لا کر تباہ کردیا گیا۔ اب سوچ رہے ہیں پیکا ایکٹ کس جج کے سامنے چیلنج کریں۔ جہاں جائیں گے وہاں اسے مسترد کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نیا بل آرہا ہے۔ جو وکیل احتجاج کرے گا اس کا لائسنس معطل کردیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلرز بیوروکریٹس لارہے ہیں۔ کراچی بار ہر کالے قانون کے کیخلاف ہمیشہ آواز بلند کرتی ہے اور کرتی رہیگی۔
====================

سندھ ہائیکورٹ نے صحافی نصر اللہ گڈانی قتل کیس سے متعلق درخواست پر ماتحت عدالت کا دوسرا حکم معطل کرتے ہوئے پہلا حکم بحال کردیا۔ جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو صحافی نصر اللہ گڈانی قتل کیس سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل صلاح الدین پہنور ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ مقدمے پر اثر انداز ہونے کے کیلیے ملزمان مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ تفتیش کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ججز بھی تبدیل ہوتے رہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ ججوں کے تبادلے کا ملزمان سے تعلق نہیں یہ معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 21 مئی کو میرپور ماتھیلو میں صحافی نصر اللہ گڈانی پر فائرنگ کی گئی۔ صحافی نصر اللہ گڈانی کا قتل مقامی وڈیروں کی جانب سے کھلی دہشتگردی ہے۔ 2020 میں بھی مقامی ایم پی اے کے بیٹے کے پروٹوکول کی ویڈیو بنانے پر شہباز لونڈ نے اس پر فائرنگ کی تھی۔ جس پر نصر اللہ گڈانی نے شہباز لونڈ کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ نصر اللہ گڈانی کو ایم پی او کے تحت بھی نظر بند کیا گیا تھا۔ عدالت نے ماتحت عدالت کا دوسرا حکم معطل کرتے ہوئے پہلا حکم بحال کردیا۔ عدالت نے فریقین کو 17 فروری کیلیے نوٹس جاری کردیئے۔ پہلے حکم کے مطابق ملزمان سے متعلق فیصلہ تفتیشی افسر کے بجائے عدالت خود کریگی۔عدالت نے ملزمان کو مقدمے کا سامنا کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پولیس نے ملزمان کا نام چالان کے دوسرے کالم میں درج کیا تھا۔
===================

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے فورتھ شیڈول کی خلاف ورزی کرنے کے خلاف مقدمے سے اہلسنت و الجماعت کے رہنما علامہ اورنگزیب فاروقی کو بری کردیا۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے فورتھ شیڈیول کی خلاف ورزی کے مقدمے میں علامہ اورنگزیب فاروقی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مولانا اورنگزیب فاروقی کی بریت کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے علامہ اورنگزیب فاروقی کو بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کسی اور مقدمہ میں نامزد نہیں تو رہا کیا جائے۔ ملزم کیخلاف مقدمے میں لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ اہلسنت و الجماعت کے رہنما علامہ اورنگزیب فاروقی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق علامہ اورنگزیب فاروقی کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا۔ ملزم کیخلاف شاہ لطیف ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسی مقدمے میں چند مہینے قبل ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ وارنٹ جاری ہونے کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری عدالت نے معطل کردئیے تھے۔