

کراچی (۔ ) ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی پی ایف یوجے کی کال پر صحافیوں نے یوم سیاہ منایا اور کراچی پریس کلب پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے ۔ صحافیوں نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کراحتجاج ریکارڈ کرایا ۔
کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کےیو جے صدر طاہر حسن خان جنرل سیکرٹری سرداد لیاقت پی ایف یو جے کے خازن لالہ اسد پٹھان سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے مظہر عباس ممبر ایف ای سی ایوب جان سرہندی سابق صدر کراچی پریس کلب امتیاز خان فاران کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے لیے پاس کیا گیا متنازعہ پیکا ایکٹ ملک میں آزادی صحافت پر براہ رست حملہ ہے اور حکومت نے عجلت میں اس قانون سازی کے ذرئعے قواعدو ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خلاف ضابطہ اٹھائے گئے اقدامات نے صحافیوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو شدید تشویش میں مبتلا کیا ہے
مقررین کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کی پاسداری کی دعویدار بعض سیاسی جماعتوں نے اس متنازع قانون سازی کے ذرئعے اپنے قول وفعل میں تضاد بھی ثابت کیا ہے ۔ مقررین نے مذید کہا کہ صحافی اپنے حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور پی ایف یو جے کی کال پر شروع کی گئی ملک گیر احتجاجی تحریک میں کے یوجے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافیوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات اور پیکا ایکٹ کے خلاف مختلف نعرے درج تھے
جاری کردہ
سردار لیاقت
جنرل سیکرٹری
کراچی یونین آف جرنلسٹس
پیکا ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں صحافی برادری نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کیا، صحافی برادری نے سرکاری تقریبات کے بائيکاٹ کا بھی اعلان کیا
متنازع پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے احتجاج کیا، پریس کلبز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔
لاہورمیں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا، لاہور پریس کلب اور پی ایف یو جے کے صدر ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ اس کالے قانون کے خلاف مارچ کریں گے اور سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں مظاہرین سے خطاب میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہاکہ صحافیوں نے کبھی آزادی صحافت پر سمجھوتا نہیں کیا۔
کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گيا، جہاں صحافیوں نے قومی اسمبلی کے سامنے دھرنے کا بھی اعلان کیا۔
مانتا ہوں پیکا قانون سازی پر حکومت نے جلد بازی کی، عرفان صدیقی
چاروں صوبوں کے مختلف شہروں میں صحافی برادری نے احتجاج کیا اور بل واپس لیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کااعلان کیا ۔
سندھ میں حیدر آباد، سکھر پریس کلب، شکارپور، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، سجاول، خیرپور، نواب شاہ، گھوٹکی، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص میں احتجاجی مظاہرے کیے کئے۔
پنجاب میں بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال اور ديگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی صحافیوں نے احتجاج کیا، سول سوسائٹی، مزدور تنظیموں، وکلا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی یوم سیاہ منایا گیا۔
==================
پیکا ایکٹ کی متنازع شق بتائیں، بات کرنے کو تیار ہیں، عطا تارڑ
تازہ ترینقومی خبریں31 جنوری ، 2025
پیکا ایکٹ کی متنازع شق بتائیں، بات کرنے کو تیار ہیں، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ قانون کی شکل اختیار کرگیا ہے، ایکٹ کی متنازع شق بتائیں تو بات کرنے کو تیار ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں عطا تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پرفیک نیوز، ڈیپ فیک کے تدارک کے لیے پیکا ایکٹ بنایا گیا، سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے قانون سازی کو ضروری سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ اس میں مشاورت اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، یہ اچھا قانون ہے، سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کو روکنے میں معاون ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات میں مزید کہا کہ پیکا ایکٹ میں کون سی شق متازع ہے، بتایاجائے، بہتری کےلیے تیار ہیں، احتجاج تو ہو رہا ہے لیکن شقوں پر کوئی بات نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ کونسل آف کمپلینز میں اپیل کا حق بھی ہے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شک متنازع ہے ہم اس پر بات کرنے کو تیار ہیں، قوانین میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت رولز بننا باقی ہیں، پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد صدر نے پیکا ایکٹ کی منظوری دی، ایکٹ پر احتجاج ہو رہا ہے لیکن کوئی شقوں پر بات نہیں کر رہا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ٹریبونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے، اپیل کے حوالے سے بہت کلیئرٹی ہے، ٹربیونل پر لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر آرڈر پاس کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس آرڈر کو پٹیشن کے ذریعے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا، پٹیشن اور ٹریبونل میں پرائیویٹ ممبرز کا حق موجود ہے اور صحافی بھی موجود ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی موجود ہے، ابھی اس کے رولز بننے ہیں، اس میں مشاورت کی گنجائش موجود ہے، مشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب کوئی چیز بنتی ہے تو اس پر عمل درآمد کےلیے رولز بھی بنائے جاتے ہیں، رولز کی تیاری اور مشاورت پر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، اس ایکٹ میں کوئی ایک متنازع شق ہے تو سامنے لائیں، ہم بات چیت کو تیار ہیں۔
=================
کراچی
مورخہ 30 جنوری 2025
سندھ حکومت کے محکمہ کھیل سندھ کی جانب سے نوجوانوں کے مسائل کے حل کے عنوان سے 3 روزہ یوتھ کانفرنس کا آغاز کل 31 جنوری بروز جمع صبح 10 بجے سے ہوگا۔
کانفرنس کل 31 جنوری سے 2 فروری تک گلستان جوہر بلاک 15 میں یوتھ کلب میں منعقد ہوگی،
پہلا سیشن صبح 10 بجے سے 11:30 بجے تک جاری رہے گا،
دوسرا سیشن 11:45 سے 1:15 تک جاری رہے گا، جس میں سینئر صحافی وسعت اللہ خان، امبر رحیم شمسی اور نادیہ نقی یوتھ کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے،
سیشن نمبر 3: یوتھ کانفرنس میں دو پہر 3 بجے سے 4 بجے تک وزیر کھیل امور نوجوانان، زراعت و اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر، سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری اور رضوان جعفر یوتھ کانفرنس کے مقاصد کے حوالے سے اظہار خیال کریں گے،
سیشن: 4: یوتھ کانفرنس میں 4:15 سے 7:30 تک صحافی اور مختلف شخصیات اظہار خیال کریں گے،
رات 8 سے10 بجے تک میوزیکل پروگرام، مچ کچہری اور قوالی کا پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا ہے،
=============
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو اکسپائرڈ لائسنس پر بلڈ بینک چلانے کے مقدمے میں مالکان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ ملزمان کیخلاف 2 سال سے زائد کی تاخیر پر مقدمہ درج کروایا گیا۔ پراسیکیوٹر رضوانہ نے موقف اپنایا کہ ہدایت کے باوجود ملزمان غیر قانونی طور پر بلڈ بینک چلا رہے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کیخلاف انڈس اسپتال نے بھی شکایت کی ہے۔ ملزمان اپنے بیگز پر امریکن ایسوسی ایشن آف بلڈ بینکنگ کا جعلی نمبر استعمال کر رہے تھے۔ ملزمان کیخلاف ڈاؤ کی آڈٹ رپورٹ بھی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان بغیر اسکریننگ کیئے خون مہیا کرتے ہیں۔ ملزمان کی اس حرکت سے تھلیسمیا کے شکار بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ ملزمان کو ضمانت دینا دوسرے مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ جج زاہد علی نے دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف سندھ بلڈ ٹرانسفیوزن اتھارٹی کی سیکریٹری نے مقدمہ درج کروایا تھا۔ بلڈ بینک کا لائسنس جولائی 2022 میں ختم ہوچکا ہے۔ ملزمان کیخلاف تھانہ صدر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔























